نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج جاری ہے۔ گزشتہ روز الیکشن کمیشن کے دفتر کی طرف مارچ اور دھرنے کے بعد بدھ کو ’انڈیا‘ بلاک کے ارکان پارلیمنٹ دہلی میں دوبارہ جمع ہوئے۔ کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے ساگر رتنا ریسٹورنٹ میں لنچ کا اہتمام کیا، جس میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، پرینکا گاندھی سمیت مختلف اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ شریک ہوئے۔ لنچ کے بعد تمام ارکان پارلیمنٹ بسوں میں سوار ہو کر جنتر منتر کے لیے روانہ ہوگئے۔ راہل گاندھی نے جنتر منتر پر دھرنا دینے کا اعلان کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا ہوگا۔
’کل ہم الیکشن کمیشن سے ملنا چاہتے تھے، لیکن وہ نہیں ملے‘
راہل گاندھی نے کہا، ’’کل ہم الیکشن کمیشن سے ملنا چاہتے تھے، لیکن وہ ہم سے نہیں ملے۔ دہلی پولیس نے ہمیں روک دیا۔‘‘ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا، ’’میرا ہدف 100 ایف آئی آر کا ہے، تمام ایف آئی آر میرے لیے تمغے ہیں۔‘‘
کھڑگے بولے—’ہم ڈرنے والے نہیں‘
کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے بھی کہا کہ پارٹی الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا، ’’ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ہم الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کرتے رہیں گے اور اپنی بات پورے ملک تک پہنچائیں گے۔ جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔‘‘ وہیں، لنچ میں پہنچے کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے کہا، ’’آج لنچ کے مینو میں کھانا ہے، تحریک نہیں۔‘‘ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے خلاف درج ایف آئی آر کے سوال پر پون کھیڑا نے کہا کہ کانگریس ایف آئی آر سے خوف زدہ نہیں ہے بلکہ اسے عزت کی علامت سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ دستاویز پر دستخط کریں گے اور الیکشن کمیشن سب کے دستخط چاہتا ہے۔
راہل گاندھی کی قیادت میں ہوا تھا احتجاج
دراصل، دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے خلاف آکاش وانی بھون میں مبینہ طور پر زبردستی داخل ہونے اور بغیر اجازت دھرنا دینے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ منگل کو اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن کے دفتر کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی تھی، جس کے باعث پارلیمنٹ اسٹریٹ کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے احتجاج کی قیادت کی۔ پولیس کی جانب سے ارکانِ پارلیمنٹ کو الیکشن کمیشن کے دفتر کی طرف جانے سے روکے جانے کے بعد راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور اپوزیشن کے کئی ارکان آکاش وانی بھون کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ دوپہر کے قریب شروع ہونے والا یہ دھرنا آٹھ گھنٹے سے زیادہ جاری رہا اور رات 8 بجے کے بعد ختم ہوا۔ اس دوران پولیس نے راہل گاندھی اور دیگر مظاہرین کو وہاں سے ہٹایا اور حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے جانے والوں میں راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال، ٹی ایم سی کے ڈیرک اوبرائن سمیت اپوزیشن کے دیگر ارکانِ پارلیمنٹ شامل تھے۔
دہلی پولیس کے مطابق 250 افراد کو لیا گیا حراست میں
دہلی پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران تقریباً 250 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق زیادہ تر لیڈروں کو کچھ دیر بعد ہی چھوڑ دیا گیا، جبکہ راہل گاندھی اور دیگر ارکانِ پارلیمنٹ کو تقریباً دو گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد رات 10 بجے کے بعد رہا کیا گیا۔ احتجاج منگل کی صبح تقریباً 11 بجے اس وقت شروع ہوا تھا، جب اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ نے سخت پولیس بیریکیڈنگ کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب مارچ شروع کیا۔ بعد میں راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور کانگریس کے کئی ارکان الیکشن کمیشن کے دفتر سے تقریباً 200 میٹر دور آکاش وانی بھون کے احاطے میں پہنچے اور الیکشن کمشنرز سے ملاقات کی اجازت طلب کی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



