Rahul Demands CEC Resignation: ’گیانیش کمار جائیں گے اور انہیں بٹھانے والا سسٹم بھی‘، دہلی-ممبئی میں احتجاج کے درمیان راہل گاندھی کا حملہ
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف مظاہرے، راہل گاندھی نے کہا- ہزاروں نوجوان پُرامن طریقے سے اپنے آئینی حق کا استعمال کر رہے ہیں، مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
Rahul Gandhi Targets EC: ایس آئی آر معاملے پر راہل گاندھی کا حملہ، کہا۔ ’گیانیش کمار تو جائیں گے، جس سسٹم نے ان سے یہ کروایا، اس کا بھی ہوگا حساب‘
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ بیلا اسٹیٹ کی جھگی بستی میں 728 افراد رہتے ہیں، لیکن SIR کے بعد ووٹر لسٹ میں صرف ایک شخص کا نام باقی بچا ہے، جبکہ 727 نام حذف کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کئی دہائیوں سے یہاں رہ رہے ہیں اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ساتھ 2025 کے دہلی اسمبلی انتخابات میں بھی ووٹ ڈال چکے ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق، 2023 میں ان کے گھر توڑ دیے گئے تھے، لیکن اس کے باوجود یہ لوگ کہیں نہیں گئے اور اب بھی وہیں رہ رہے ہیں۔
Rahul Gandhi Attacks BJP: گیانیش کمار کو پہلے امپائر بنایا، پھر ’میچ فکسنگ‘ کی ذمہ داری بھی دے دی؟ راہل گاندھی کا بی جے پی پر حملہ
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر اٹھائے سوال، الزام لگایا کہ گیانیش کمار کو بی جے پی کے لیے ’بھرتی‘ کرنے میں استعمال کیا گیا۔
Rahul on Amit Shah’s debate offer: امت شاہ کے لیکچر میں کوئی دلچسپی نہیں، طلبہ پر مبینہ پولیس کارروائی کا جواب چاہتی ہے اپوزیشن: راہل گاندھی
وزیر داخلہ امت شاہ کے مباحثے کی پیشکش پر اپوزیشن کا سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ پر پارلیمنٹ سے غیر حاضر رہنے کا الزام لگایا ہوئے کہا کہ طلبہ پر مبینہ فائرنگ اور لاٹھی چارج کا حکم کس نے دیا؟
BJP CM’s Reactions to Rahul Gandhi’s Statement: راہل گاندھی کے متنازع بیان پر بی جے پی حکومت والی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ برہم، فوری عوامی معافی کا مطالبہ
وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر راہل گاندھی کے متنازع بیان سے متعلق سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ بی جے پی حکومت والی کئی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے راہل گاندھی کے بیان کو غیر مہذب قرار دیتے ہوئے عوامی معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
Gen Naravane Memoir: جنرل نرونے کی کتاب لے کر پارلیمنٹ پہنچے راہل گاندھی، کہا- وزیراعظم مودی آئے تو انہیں تحفہ پیش کروں گا
راہل گاندھی نے بدھ کے روز مرکز کی مودی حکومت پر قومی سلامتی جیسے سنگین معاملے پر جانچ سے بچنے کا الزام عائد کیا۔ اپوزیشن کی جانب سے 2020 میں مشرقی لداخ میں چین کے ساتھ سرحدی تصادم کے مخصوص حوالے کو شامل کرنے پر زور دینے کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ ہوا، جس کے نتیجے میں کارروائی بار بار معطل کرنا پڑی۔
Rahul Gandhi’s after India-US deal: ’’وزیراعظم سمجھوتہ کر چکے ہیں‘‘ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے پر راہل گاندھی کے سنگین الزامات
جب صحافیوں نے پوچھا کہ وہ وزیراعظم کو ’’سمجھوتہ شدہ‘‘ کیوں مانتے ہیں تو راہل گاندھی نے امریکہ میں گوتم اڈانی کے خلاف مبینہ مقدمے اور ایپسٹین فائلز کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا: ’’امریکہ میں اڈانی جی پر جو کیس ہے، دراصل وہ مودی جی پر کیس ہے۔ اس کے علاوہ ایپسٹین فائلز میں ایسی کئی باتیں ہیں جو ابھی تک امریکہ نے عام نہیں کی ہیں۔ ان دونوں معاملات کی وجہ سے شدید دباؤ ہے۔ یہی دو بڑے پریشر پوائنٹس ہیں۔ ملک کو یہ حقیقت سمجھنی چاہیے۔‘‘
Rahul Gandhi hits out at government: سابق آرمی چیف کے موقف سے حکومت اتنی خوفزدہ کیوں؟ لوک سبھا تعطل پر راہل گاندھی کا سخت حملہ
راہل گاندھی نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’’جنرل نرونے کی یادداشت شائع نہیں ہونے دی جا رہی، سچ سامنے آیا تو مودی اور راج ناتھ سنگھ کی حقیقت عوام پر عیاں ہو جائے گی۔‘‘ چین کے ساتھ سرحدی تنازع، قومی سلامتی اور سابق آرمی چیف کی غیر مطبوعہ یادداشت کے حوالے سے پیدا ہونے والا یہ تنازع آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
Great nations are not built in silence: ’’عظیم قومیں خاموشی میں نہیں بنتیں‘‘ راہل گاندھی نے کوچی میں اظہار رائے کی ضرورت پر دیا زور
20 جنوری کو راہل گاندھی اپنے پارلیمانی حلقے رائے بریلی (اتر پردیش) کا دورہ کریں گے، جہاں وہ کانگریس کی ’منریگا بچاؤ‘ مہم کے تحت ایک عوامی اجلاس سے خطاب کریں گے، جو VB-G RAM G ایکٹ 2025 کے خلاف منعقد کیا جا رہا ہے۔
Vote Chori is an anti-national act: ’’ووٹ چوری ایک ملک مخالف عمل ہے‘‘: بی ایم سی ووٹوں کی گنتی کے دوران راہل گاندھی کا الزام
ابتدائی گنتی کے مطابق بی جے پی 53 نشستوں پر سبقت حاصل کیے ہوئے ہے، جبکہ شیوسینا کو 25 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ ادھو ٹھاکرے گروپ کی شیوسینا (یو بی ٹی) 45 نشستوں پر آگے ہے، راج ٹھاکرے کی مہاراشٹر نونرمان سینا (MNS) 8 نشستوں پر سبقت رکھتی ہے، جبکہ کانگریس کو اب تک ایک سیٹ پر کامیابی مل چکی ہے۔





