Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi Statement

وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر راہل گاندھی کے متنازع بیان سے متعلق سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ بی جے پی حکومت والی کئی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے راہل گاندھی کے بیان کو غیر مہذب قرار دیتے ہوئے عوامی معافی کا مطالبہ کیا ہے۔

راہل گاندھی نے بدھ کے روز مرکز کی مودی حکومت پر قومی سلامتی جیسے سنگین معاملے پر جانچ سے بچنے کا الزام عائد کیا۔ اپوزیشن کی جانب سے 2020 میں مشرقی لداخ میں چین کے ساتھ سرحدی تصادم کے مخصوص حوالے کو شامل کرنے پر زور دینے کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ ہوا، جس کے نتیجے میں کارروائی بار بار معطل کرنا پڑی۔

جب صحافیوں نے پوچھا کہ وہ وزیراعظم کو ’’سمجھوتہ شدہ‘‘ کیوں مانتے ہیں تو راہل گاندھی نے امریکہ میں گوتم اڈانی کے خلاف مبینہ مقدمے اور ایپسٹین فائلز کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا: ’’امریکہ میں اڈانی جی پر جو کیس ہے، دراصل وہ مودی جی پر کیس ہے۔ اس کے علاوہ ایپسٹین فائلز میں ایسی کئی باتیں ہیں جو ابھی تک امریکہ نے عام نہیں کی ہیں۔ ان دونوں معاملات کی وجہ سے شدید دباؤ ہے۔ یہی دو بڑے پریشر پوائنٹس ہیں۔ ملک کو یہ حقیقت سمجھنی چاہیے۔‘‘

راہل گاندھی نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’’جنرل نرونے کی یادداشت شائع نہیں ہونے دی جا رہی، سچ سامنے آیا تو مودی اور راج ناتھ سنگھ کی حقیقت عوام پر عیاں ہو جائے گی۔‘‘ چین کے ساتھ سرحدی تنازع، قومی سلامتی اور سابق آرمی چیف کی غیر مطبوعہ یادداشت کے حوالے سے پیدا ہونے والا یہ تنازع آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

20 جنوری کو راہل گاندھی اپنے پارلیمانی حلقے رائے بریلی (اتر پردیش) کا دورہ کریں گے، جہاں وہ کانگریس کی ’منریگا بچاؤ‘ مہم کے تحت ایک عوامی اجلاس سے خطاب کریں گے، جو VB-G RAM G ایکٹ 2025 کے خلاف منعقد کیا جا رہا ہے۔

ابتدائی گنتی کے مطابق بی جے پی 53 نشستوں پر سبقت حاصل کیے ہوئے ہے، جبکہ شیوسینا کو 25 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ ادھو ٹھاکرے گروپ کی شیوسینا (یو بی ٹی) 45 نشستوں پر آگے ہے، راج ٹھاکرے کی مہاراشٹر نونرمان سینا (MNS) 8 نشستوں پر سبقت رکھتی ہے، جبکہ کانگریس کو اب تک ایک سیٹ پر کامیابی مل چکی ہے۔

رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کا تمل ناڈو کے گودالور میں اسکول کے گولڈن جوبلی پروگرام سے خطاب۔ انہوں نے اسکولوں کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر ہمارے پاس حکمت نہ ہو اور ہم صرف معلومات کے پیچھے بھاگتے رہیں تو دنیا بہت بری جگہ بن جائے گی۔ اسی لیے ایسے اسکولوں کا کردار بہت اہم ہے، کیونکہ یہ نوجوان طلبہ کو دانا شہری بناتے ہیں۔‘‘

ایک پریس کانفرنس کے دوران راہل گاندھی نے ہریانہ الیکشن کے حوالے سے بھی بڑے پیمانے پر ”ووٹ چوری“ کا الزام لگایا۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’سچ اور عدم تشدد کے راستے پر چلتے ہوئے آپ کے پاس جمہوریت کو بچانے کی طاقت ہے۔‘‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے بھارت پر اضافی 25 فیصد محصولات عائد کیے کیونکہ بھارت کی روسی تیل کی درآمدات، براہ راست یا بالواسطہ، امریکہ کے لیے غیرمعمولی اور خطرناک ہیں۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ملک اس دور کی طرف لوٹ رہا ہے جب بادشاہ اپنی مرضی سے کسی کو بھی عہدے سے ہٹا دیتا تھا۔ ’’یہاں جمہوریت ہے لیکن منتخب نمائندے کا کوئی تصور باقی نہیں رہا۔ اگر حکمران کو آپ کا چہرہ پسند نہ آئے تو ای ڈی کے ذریعے مقدمہ دائر کروا کے آپ کو 30 دن میں عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔‘‘