نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے انتخابی عمل کی شفافیت کے معاملے پر مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے اپوزیشن سے مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کے ثبوت مانگے ہیں اور وہ یہ ثبوت فراہم کریں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے بیان کی تردید راشٹرپتی بھون سے نہیں، بلکہ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) سے کی گئی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن صدر جمہوریہ سے ملی تھی اور انہوں نے خود ثبوت پیش کرنے کو کہا تھا۔ راہل گاندھی کے مطابق، صدر جمہوریہ کے دفتر کی جانب سے ان کے بیان کی کوئی تردید نہیں کی گئی، جب کہ وزیر اعظم کے دفتر نے خاموشی سے اس کی تردید کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صدر جمہوریہ اور ان کا دفتر بھی صورت حال سے واقف ہیں اور صدر نے ان کے بیان کی تردید نہیں کی۔ یہ راہل گاندھی کا دعویٰ ہے۔
’ہم سڑک نہیں، عوام کے دل و دماغ کی لڑائی لڑ رہے ہیں‘
کانگریس رہنما نے کہا کہ اپوزیشن کی لڑائی محض سڑکوں پر احتجاج تک محدود نہیں، بلکہ وہ ہندوستانی عوام کے دل و دماغ تک اپنی بات پہنچانا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق، عوام کو یہ بتانا ضروری ہے کہ ملک میں جس طرح کے حالات پیدا ہو رہے ہیں، وہ ان کے لیے اور ان کے بچوں کے مستقبل کے لیے خطرناک ہیں۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ موجودہ صورت حال سے مکیش امبانی، گوتم اڈانی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اجیت ڈوول جیسے افراد کو فائدہ پہنچتا ہے، جب کہ عام شہریوں کے مفادات متاثر ہوتے ہیں۔
سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرے گا انڈیا بلاک
راہل گاندھی نے بتایا کہ کانگریس صدر اور انہوں نے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کو خط لکھ کر جمہوریت اور انتخابی شفافیت کو لاحق خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان کے مطابق، چیف جسٹس نے جواب دیتے ہوئے عرضی داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا بلاک کے رہنما ان کے ساتھ سپریم کورٹ جائیں گے اور مشترکہ طور پر عرضی داخل کریں گے۔ راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق وہی سوال اٹھائے جا رہے ہیں جو دو الیکشن کمشنروں نے بھی اٹھائے تھے۔ انہوں نے گیانیش کمار پر بدعنوانی سے متعلق الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ اپوزیشن اس معاملے کو اٹھانا جاری رکھے گی۔
’روکیں گے تو بھی ہم احتجاج جاری رکھیں گے‘
راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکاروں میں سے تقریباً 50 فیصد ان کے احتجاج کو درست قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، اجیت ڈوول، گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن کے بعض ارکان پر ووٹ چوری میں سہولت فراہم کرنے کا الزام بھی لگایا۔ یہ تمام الزامات راہل گاندھی کے بیان پر مبنی ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران آئین کی ایک نقل دکھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے کروڑوں نوجوان جمہوریت کو بچانا چاہتے ہیں اور آئین کو اپنے عقیدے کی طرح اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، آئین ہندوستان کے عوام کی آواز ہے اور اس آواز کا تحفظ سب کی مقدس ذمہ داری ہے، لیکن اس پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ پولیس نے پہلے بھی احتجاج کرنے والوں کو روکا، جنتر منتر پر مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکا گیا اور اتوار کو طلبہ کے احتجاج میں بھی رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ان کے مطابق، اب بھی مظاہرین کو روکا جا سکتا ہے، لیکن یہ مزاحمت گزشتہ چند دنوں سے نہیں، بلکہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اگر اپوزیشن اگلے دن یا اس کے بعد بھی احتجاج کرے گی تو اسے روکا جا سکتا ہے، لیکن اس سے تحریک ختم نہیں ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی قوم کا تحفظ صرف دو دن میں نہیں کیا جا سکتا اور محض سڑکوں پر نکل کر پرچم لہرانا ہی ملک کی حفاظت کی ضمانت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے صبر، مستقل مزاجی اور طویل جدوجہد ضروری ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق، اپوزیشن انتخابی شفافیت اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



