Bharat Express DD Free Dish

Special Intensive Revision

راہل گاندھی کی قیادت میں ممتا بنرجی، اکھلیش یادو اور تیجسوی یادو سمیت کئی رہنما احتجاج میں شامل۔ ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں پر عرضی، 10 رہنما سپریم کورٹ میں کریں گے دستخط۔ اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ وہ ایس آئی آر اور انتخابی فہرستوں سے متعلق اپنے اعتراضات کو سپریم کورٹ کے سامنے رکھیں گے اور اس معاملے پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

راہل گاندھی نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ صدر جمہوریہ کے دفتر نے ان کے بیان کی تردید نہیں کی۔  انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے تحفظ کی لڑائی طویل عرصے تک جاری رہے گی۔

ابھجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرکے بنگلورو میں ملنے والی محبت اور عزت کے لیے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے لکھا، ’’میں بنگلورو سے اپنے دل میں ڈھیر ساری محبت لے کر جا رہا ہوں۔ گزشتہ دو دنوں میں مجھے جو گرم جوشی، پیار اور مہربانی ملی ہے، وہ واقعی میری توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔‘‘انہوں نے کویتا لنکیش اور ایشا لنکیش کو اپنا نیا خاندان قرار دیتے ہوئے ان سے گلے ملنے کا ذکر کیا۔

مقامی لوگوں نے کہا کہ افسران اور ملازمین مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ جب بھی وہ فون کرتے ہیں تو افسران اور ملازمین کال کا جواب دے کر ضروری معلومات فراہم کرتے ہیں۔ کیمپ لگائے جانے سے لوگوں کو کافی سہولت ہو رہی ہے۔ اگر گھر پر کسی وجہ سے ایس آئی آر کا عمل مکمل نہیں ہو پا رہا ہے تو لوگ کیمپ آ کر اپنی پریشانی بتا سکتے ہیں۔ یہاں ملازمین دستاویزات کی جانچ کے بعد آئندہ کے عمل کے بارے میں معلومات فراہم کر رہے ہیں۔

اویسی نے کہا ’’اگر فرضی فارم 7 داخل کیے جا رہے ہیں تو ہم الیکشن کمیشن سے اپیل کرتے ہیں کہ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اگر یہ ڈراما بند نہیں ہوا تو یاد رکھیں، حیدرآباد کی سڑکوں اور گلیوں میں دہلی کے جنتر منتر سے بھی بڑے احتجاج ہوں گے اور آپ کے لیے بہت مشکلات پیدا ہوں گی۔ مجلس اتحاد المسلمین خاموش نہیں رہے گی۔‘‘

ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے تمام ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کو بیک وقت تحریری درخواستیں دیں، اہل شہریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم نہ کرنے اور قانونی طریقۂ کار و شفافیت یقینی بنانے پر زور

تلنگانہ میں جاری خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے حوالے سے اویسی نے کہا کہ میپنگ میں بے ضابطگیوں، جیسے 6 سے زیادہ بچوں کی میپنگ والے معاملات کے سلسلے میں ووٹروں کو ایس آئی آر نوٹس بھیجے جا رہے ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی نے ووٹرلسٹوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے موجودہ عمل پرشدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ محض ووٹرلسٹوں کی نظر ثانی نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی جمہوری اورآئینی حقوق سے متعلق ایک نہایت سنگین معاملہ بنتا جا رہا ہے۔ اگرہرشہری کوبارباراپنی شہریت اورحقِ رائے دہی ثابت کرنے پرمجبور کیا جائے تویہ صرف ووٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ آئین، جمہوریت اورشہری آزادیوں کا مسئلہ ہے۔

انڈیا الائنس کی اتحادی پارٹیوں نے ایس آئی آراورالیکشن کمیشن سے متعلق دیگرمسائل کے حوالے سے چیف جسٹس آف انڈیا کوایک مشترکہ خط بھیجا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ 23 ​​پارٹیاں یقین کے اصول پرمضبوطی سے کھڑی ہیں۔

اویسی نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے اب تک یہ اعداد و شمار جاری نہیں کیے کہ کتنے افراد کو غیر ملکی قرار دے کر فہرست سے باہر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایس آئی آر کے باعث متاثر ہونے والوں میں اکثریت مسلمانوں، خواتین، غریبوں اور مہاجر مزدوروں کی ہے۔