CM Mamata Banerjee Announced Compensation : مغربی بنگال میں ایس آئی آر کارکنان کے موت کا معاملہ، وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا بڑا اعلان، متاثرہ اہل خانہ کو دیا جائے گا معاوضہ
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بتایا کہ جن افراد نے دباؤ سے تنگ آ کر خودکشی کر لی یا بیماری کی وجہ سے موت ہو گئی، ان کے لواحقین کو دو لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے گا۔ جبکہ وہ لوگ جو شدید بیمار ہو گئے لیکن زندہ بچ گئے، انہیں ایک ایک لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ فیصلہ انسانیت اور ریاستی ذمہ داری کے تحت کیا گیا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو یہ احساس ہو کہ حکومت مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
Bengal Governor To Visit Hakimpur Border : بنگلہ دیش بارڈر پر ہلچل، مغربی بنگال کے گورنر سی وی آنند بوس حکیم پور سرحد کا کریں گے دورہ
مغربی بنگال اور بنگلہ دیش کی سرحد پر جاری صورتحال کے پیش نظر ریاست کے گورنر سی وی آنند بوس پیر کے روز نارتھ 24 پرگنہ کے حکیم پور بارڈر کا دورہ کریں گے۔ یہ دورہ اس وقت شروع ہوا، جب ایس آئی آر کے بعد غیر قانونی بنگلہ دیشی باشندوں کی بڑی تعداد اپنے ملک لوٹتی ہوئی دیکھی جا رہی ہے۔
SIR Controversy and Congress Protest Rally : ایس آئی آر پر ملک گیر ہنگامہ! بی ایل او کی خودکشی سے کشیدگی میں اضافہ، کانگریس نکالے گی احتجاجی ریلی
ایس آئی آر پر ملک بھر میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ حزب اختلاف نے بہار کے انتخابات سے پہلے کی گئی ایس آئی آر میں تقریباً 65 لاکھ ووٹ کاٹے جانے پر ”ووٹ چوری“ کا الزام لگایا ہے۔ اب ایس آئی آر کا عمل 12 ریاستوں میں جاری ہے۔ کانگریس نے اس مسئلہ پر دسمبر کے پہلے ہفتہ میں احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔
Election Commission of India on Delhi SIR: بہار کے بعد اب دہلی میں بھی ہوگا ایس آئی آر، الیکشن کمیشن نے شروع کی تیاری
سی ای او دفتر کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا: الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں ووٹر لسٹ کی سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے SIR شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور دہلی میں بھی اسی کے تحت یہ مہم چلائی جائے گی۔
Ruckus on SIR: ’’بی جے پی کی بی ٹیم کی طرح کام کر رہا ہے الیکشن کمیشن…‘‘ تیجسوی یادو نے ای سی آئی کو پھر بنایا نشانہ
اپوزیشن لیڈر نے الیکشن کمیشن سے ایس آئی آر میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور غلطیوں کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کمیشن سے دونوں جگہوں سے دنیش سنگھ کے خلاف الگ الگ نوٹس جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے بعد مظفر پور کے الیکٹورل رجسٹریشن افسر نے جے ڈی یو کے قانون ساز کونسلر دنیش پرساد سنگھ اور ایل جے پی (رام ولاس) کی رکن اسمبلی وینا دیوی کو نوٹس بھی بھیجا ہے۔ نوٹس میں 16 اگست تک جواب دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
Vote Adhikar Yatra in Bihar: بہار کے ان اضلاع سے گزرے گی ’ووٹ ادھیکار یاترا‘، کے سی وینوگوپال نے کہا – عوام سکھائے گی سبق
کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال نے کہا کہ ہم ہمیشہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے لڑیں گے کہ اقتدار عام لوگوں کے پاس رہے اور تقسیم کرنے والی طاقتوں، دوستوں اور طاقتوروں کے لیے کام کرنے والوں کے ذریعے چھینا نہ جائے۔
Tamil Nadu Voter List News: تمل ناڈو میں 6.5 لاکھ مہاجر مزدور ووٹر لسٹ میں شامل، چدمبرم ہوئے برہم، الیکشن کمیشن پر لگائے سنگین الزامات
الیکشن کمیشن کے ذریعہ اقتدار کا صریح غلط استعمال قرار دیتے ہوئے چدمبرم نے الزام لگایا کہ کمیشن ریاستوں کے انتخابی کردار اور پیٹرن کو زبردستی تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقتدار کا سنگین غلط استعمال ہے اور اسے سیاسی اور قانونی سطح پر چیلنج کیا جانا چاہئے۔
Ruckus over SIR: پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں SIR پر ہنگامہ، اپوزیشن کا ووٹر لسٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا الزام
شیو سینا (یو بی ٹی) کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے ایس آئی آر کے معاملے پر کہا، ’’جس طرح سے ووٹرز کو ان کے حق رائے دہی سے محروم رکھا جا رہا ہے وہ ایک منصوبہ بند حکمت عملی کا حصہ ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ سپریم کورٹ نے ایس آئی آر میں درست ووٹر شناختی کارڈ کے طور پر قبول شدہ دستاویزات کو شامل کرنے کو کہا تھا۔
Opposition’s Ruckus in Bihar Assembly: بہار اسمبلی میں SIR کے تعلق سے اپوزیشن کا زوردار ہنگامہ، مین گیٹ کو کیا بلاک، دوسرے گیٹ کو توڑ کر حکمراں پارٹی کے ایم ایل ایز گئے اندر
آر جے ڈی، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں سمیت اپوزیشن کے ایم ایل ایز نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ انہوں نے بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے عمل کے ذریعے ’’سازش‘‘ کرنے کا الزام لگایا اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
Special Intensive Revision: ’’کم فرق سے جیت یا ہار والی سیٹوں پر ووٹ چھانٹنا چاہتی ہے سرکار…‘‘، تیجسوی یادو کا بی جے پی پر بڑا الزام
تیجسوی یادو نے لکھا کہ گزشتہ دو اسمبلی انتخابات میں کلوز مارجن سے ہار یا جیت والی سیٹوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو 2015 کے اسمبلی انتخابات میں 3000 سے کم ووٹوں سے ہار یا جیت والی کل 15 سیٹیں تھیں، جبکہ 2020 میں ایسی 35 سیٹیں تھیں، اگر 500 سے کم فرق سے ہار یا جیت والی سیٹوں کی تعداد پر نظر ڈالیں تو 2015 میں 23 سیٹیں تھیں اور 2020 میں ایسی کل 52 سیٹیں تھیں۔





