Bharat Express DD Free Dish

Special Intensive Revision

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے منگل کے روز خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے تحت اتر پردیش کی ووٹر لسٹ کا ڈرافٹ جاری کر دیا ہے۔ ڈرافٹ ووٹر لسٹ کے مطابق ریاست میں اہل ووٹروں کی مجموعی تعداد 12.55 کروڑ سے زائد ہے، تاہم اس عمل کے دوران تقریباً 2.89 کروڑ نام لسٹ سے کاٹے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ نے ملک بھر میں ایس آئی آر کے سلسلے میں مسلسل دائر ہونے والی عرضیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جائے مالیا باگچی کی بینچ نے کہا کہ یہ معاملہ قابو سے باہر ہو گیا ہے اور بہت ساری عرضیوں پہلے ہی دائر ہو چکی ہیں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اب مجھے نہیں لگتا کہ مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر سے متعلق نئی عرضیوں قبول کی جانی چاہئیں۔

الیکشن کمیشن نے 6 ریاستوں میں ایس آئی آر کی ڈیڈ لائن بڑھا دی ہے۔ 5 ریاستوں میں ایک ہفتے کی توسیع کی گئی ہے، جبکہ یوپی کو 31 دسمبر تک کا موقع دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ووٹر لسٹ اپڈیٹ کرانے کے لیے کیا گیا ہے۔ اب ڈرافٹ لسٹ 16 دسمبر کو جاری ہوگی۔

پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران منگل کو لوک سبھا میں انتخابی اصلاحات پر اہم بحث شروع ہوئی، جس میں ووٹر لسٹ کے خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) سے لے کر الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کی شفافیت اور سیاسی جماعتوں کو ملنے والے چندے تک مختلف موضوعات شامل رہے۔ بحث کا آغاز کانگریس کے سینئر رکنِ پارلیمان منیش تیواری نے کیا۔

وزیراعظم مودی نے بدھ کو بی جے پی کے مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن میٹنگ کی، جسے آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے تناظر میں بڑی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ وقت سخت محنت کا ہے اور آنے والے الیکشن میں جیت کو یقینی بنانے کے لیے ہر سطح پر مضبوط تیاری ضروری ہے۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بتایا کہ جن افراد نے دباؤ سے تنگ آ کر خودکشی کر لی یا بیماری کی وجہ سے موت ہو گئی، ان کے لواحقین کو دو لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے گا۔ جبکہ وہ لوگ جو شدید بیمار ہو گئے لیکن زندہ بچ گئے، انہیں ایک ایک لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ فیصلہ انسانیت اور ریاستی ذمہ داری کے تحت کیا گیا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو یہ احساس ہو کہ حکومت مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

مغربی بنگال اور بنگلہ دیش کی سرحد پر جاری صورتحال کے پیش نظر ریاست کے گورنر سی وی آنند بوس پیر کے روز نارتھ 24 پرگنہ کے حکیم پور بارڈر کا دورہ کریں گے۔ یہ دورہ اس وقت شروع ہوا، جب ایس آئی آر کے بعد غیر قانونی بنگلہ دیشی باشندوں کی بڑی تعداد اپنے ملک لوٹتی ہوئی دیکھی جا رہی ہے۔

ایس آئی آر پر ملک بھر میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ حزب اختلاف نے بہار کے انتخابات سے پہلے کی گئی ایس آئی آر میں تقریباً 65 لاکھ ووٹ کاٹے جانے پر ”ووٹ چوری“ کا الزام لگایا ہے۔ اب ایس آئی آر کا عمل 12 ریاستوں میں جاری ہے۔ کانگریس نے اس مسئلہ پر دسمبر کے پہلے ہفتہ میں احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

سی ای او دفتر کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا: الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں ووٹر لسٹ کی سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے SIR شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور دہلی میں بھی اسی کے تحت یہ مہم چلائی جائے گی۔

اپوزیشن لیڈر نے الیکشن کمیشن سے ایس آئی آر میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور غلطیوں کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کمیشن سے دونوں جگہوں سے دنیش سنگھ کے خلاف الگ الگ نوٹس جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے بعد مظفر پور کے الیکٹورل رجسٹریشن افسر نے جے ڈی یو کے قانون ساز کونسلر دنیش پرساد سنگھ اور ایل جے پی (رام ولاس) کی رکن اسمبلی وینا دیوی کو نوٹس بھی بھیجا ہے۔ نوٹس میں 16 اگست تک جواب دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔