Bharat Express DD Free Dish

Special Intensive Revision

کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال نے کہا کہ ہم ہمیشہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے لڑیں گے کہ اقتدار عام لوگوں کے پاس رہے اور تقسیم کرنے والی طاقتوں، دوستوں اور طاقتوروں کے لیے کام کرنے والوں کے ذریعے چھینا نہ جائے۔

الیکشن کمیشن کے ذریعہ اقتدار کا صریح غلط استعمال قرار دیتے ہوئے چدمبرم نے الزام لگایا کہ کمیشن ریاستوں کے انتخابی کردار اور پیٹرن کو زبردستی تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقتدار کا سنگین غلط استعمال ہے اور اسے سیاسی اور قانونی سطح پر چیلنج کیا جانا چاہئے۔

شیو سینا (یو بی ٹی) کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے ایس آئی آر کے معاملے پر کہا، ’’جس طرح سے ووٹرز کو ان کے حق رائے دہی سے محروم رکھا جا رہا ہے وہ ایک منصوبہ بند حکمت عملی کا حصہ ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ سپریم کورٹ نے ایس آئی آر میں درست ووٹر شناختی کارڈ کے طور پر قبول شدہ دستاویزات کو شامل کرنے کو کہا تھا۔

آر جے ڈی، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں سمیت اپوزیشن کے ایم ایل ایز نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ انہوں نے بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے عمل کے ذریعے ’’سازش‘‘ کرنے کا الزام لگایا اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

تیجسوی یادو نے لکھا کہ گزشتہ دو اسمبلی انتخابات میں کلوز مارجن سے ہار یا جیت والی سیٹوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو 2015 کے اسمبلی انتخابات میں 3000 سے کم ووٹوں سے ہار یا جیت والی کل 15 سیٹیں تھیں، جبکہ 2020 میں ایسی 35 سیٹیں تھیں، اگر 500 سے کم فرق سے ہار یا جیت والی سیٹوں کی تعداد پر نظر ڈالیں تو 2015 میں 23 سیٹیں تھیں اور 2020 میں ایسی کل 52 سیٹیں تھیں۔

ٹی ڈی پی نے کہا کہ آندھرا پردیش میں 2029 سے پہلے اسمبلی انتخابات نہیں ہوں گے، اس لیے ایس آئی آر اس بات کو یقینی بنانے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے کہ ووٹر لسٹیں منصفانہ، جامع اور شفاف طریقے سے دکھائی جائیں۔

 پریس کانفرنس میں تیجسوی یادو سے خصوصی گہرائی کے جائزے  کے دوران مبینہ طور پر بڑی تعداد میں ملے نیپا، بنگلہ دیش اور میانمار کے لوگوں پر سوال پوچھا گیا۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’خود سامنے آنے کے بجائے الیکشن کمیشن ذرائع کے حوالہ سے خبر پلانٹ کروا رہا  ہے تاکہ اس کی آڑ میں کھیلا کر سکے، یہ وہی ذرائع ہیں جو آپریشن سندورکے دوران اسلام آباد، لاہور اور کراچی پر قبضہ کر چکے تھے۔‘‘

رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے کہا کہ بہار میں پہلے دس انتخابات موجودہ ووٹر لسٹ کی بنیاد پر ہوئے ہیں تو اب یہ اچانک نظر ثانی کیوں؟ پپو یادو نے اس عمل کو آئینی اور جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے شفاف اور منصفانہ بنانے کا مطالبہ کیا۔

عرضی گزار نے اندازہ لگایا ہے کہ 3 کروڑ سے زیادہ رائے دہندگان، خاص طور پر پسماندہ گروہوں جیسے ایس سی، ایس ٹی اور تارکین وطن مزدوروں کو ایس آئی آر کے حکم میں سخت شرائط کی وجہ سے ووٹ دینے کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں۔