Bharat Express DD Free Dish

Special Intensive Revision

ٹی ڈی پی نے کہا کہ آندھرا پردیش میں 2029 سے پہلے اسمبلی انتخابات نہیں ہوں گے، اس لیے ایس آئی آر اس بات کو یقینی بنانے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے کہ ووٹر لسٹیں منصفانہ، جامع اور شفاف طریقے سے دکھائی جائیں۔

 پریس کانفرنس میں تیجسوی یادو سے خصوصی گہرائی کے جائزے  کے دوران مبینہ طور پر بڑی تعداد میں ملے نیپا، بنگلہ دیش اور میانمار کے لوگوں پر سوال پوچھا گیا۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’خود سامنے آنے کے بجائے الیکشن کمیشن ذرائع کے حوالہ سے خبر پلانٹ کروا رہا  ہے تاکہ اس کی آڑ میں کھیلا کر سکے، یہ وہی ذرائع ہیں جو آپریشن سندورکے دوران اسلام آباد، لاہور اور کراچی پر قبضہ کر چکے تھے۔‘‘

رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے کہا کہ بہار میں پہلے دس انتخابات موجودہ ووٹر لسٹ کی بنیاد پر ہوئے ہیں تو اب یہ اچانک نظر ثانی کیوں؟ پپو یادو نے اس عمل کو آئینی اور جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے شفاف اور منصفانہ بنانے کا مطالبہ کیا۔

عرضی گزار نے اندازہ لگایا ہے کہ 3 کروڑ سے زیادہ رائے دہندگان، خاص طور پر پسماندہ گروہوں جیسے ایس سی، ایس ٹی اور تارکین وطن مزدوروں کو ایس آئی آر کے حکم میں سخت شرائط کی وجہ سے ووٹ دینے کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں۔