Bharat Express DD Free Dish

SIR Controversy and Congress Protest Rally : ایس آئی آر پر ملک گیر ہنگامہ! بی ایل او کی خودکشی سے کشیدگی میں اضافہ، کانگریس نکالے گی احتجاجی ریلی

ایس آئی آر پر ملک بھر میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ حزب اختلاف نے بہار کے انتخابات سے پہلے کی گئی ایس آئی آر میں تقریباً 65 لاکھ ووٹ کاٹے جانے پر ”ووٹ چوری“ کا الزام لگایا ہے۔ اب ایس آئی آر کا عمل 12 ریاستوں میں جاری ہے۔ کانگریس نے اس مسئلہ پر دسمبر کے پہلے ہفتہ میں احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

نئی دہلی: ملک بھر میں ایس آئی آر پر ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ حزب اختلاف نے بہار کے انتخابات سے پہلے کی گئی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) میں تقریباً 65 لاکھ ووٹ کاٹے جانے پر ”ووٹ چوری“ کا الزام لگایا ہے۔ اب ایس آئی آر کا عمل 12 ریاستوں میں جاری ہے۔ کانگریس نے اس مسئلہ پر دسمبر کے پہلے ہفتہ میں احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب حال ہی میں اختتام پذیر بہار اسمبلی انتخابات سے قبل بھارتی انتخابی کمیشن کی جانب سے کی گئی ایس آئی آر کارروائی کے دوران تقریباً 65 لاکھ ووٹوں کو انتخابی فہرست سے نکال دیا گیا۔ اپوزیشن نے اس اقدام کو جمہوری عمل کے ساتھ سنگین چھیڑچھاڑ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بی جے پی اپنے سیاسی مفاد کیلئے ووٹر لسٹ میں من مانا کھیل کھیل رہی ہے۔

12 ریاستوں میں جاری ہے ایس آئی آر
اطلاعات کے مطابق اس وقت ایس آئی آر کی کارروائی ملک کے 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری ہے۔ اس دوران سامنے آنے والی خبروں نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، کیونکہ مبینہ طور پر اضافی کام کے دباؤ تلے کچھ بوتھ لیول آفیسرز (بی ایل او) نے خودکشی کر لی ہے۔

تین ریاستوں میں بی ایل او نے کی خودکشی
میڈیا رپورٹس کے مطابق کیرالا، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں ایک ایک بی ایل او نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی، جبکہ مغربی بنگال میں ایک بی ایل او نے خودکشی کی دھمکی دی ہے۔ اسی طرح تمل ناڈو کے تنجاور ضلع میں ایک آنگن واڑی کارکن نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔ ان تمام واقعات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایس آئی آر کے اضافی بوجھ کی وجہ سے ان پر بہت زیادہ کام کا دباؤ تھا، جسے وہ برداشت نہیں کر سکے۔

کانگریس کا بڑا اعلان
کانگریس نے منگل (18 نومبر) کو ان ریاستوں کے رہنماؤں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی، جہاں ایس آئی آر کی کارروائی جاری ہے۔ کانگریس صدر ملکا رجُن کھڑگے نے سخت الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ “بی جے پی ووٹر لسٹ کے عمل کو ووٹ چوری کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے“۔ اس میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔ اس میٹنگ میں راہل گاندھی سمیت کئی اہم اپوزیشن رہنما بھی موجود تھے۔

اپوزیشن کا مشترکہ مؤقف
اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کا استعمال انتخابی عمل کو متاثر کرنے کیلئے کیا جا رہا ہے اور یہ بی جے پی کیلئے سیاسی ہتھیار بن چکا ہے۔ اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ ووٹ کمی کے عمل کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ ہونی چاہیے اور بی ایل او پر غیر انسانی دباؤ ختم کیا جائے۔ ملک بھر کی سیاست میں اس معاملے نے گرمی پیدا کر دی ہے اور آنے والے دنوں میں اس کا اثر پارلیمنٹ اور ریاستی سیاست دونوں میں دکھائی دینے کی امید ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read