Bharat Express DD Free Dish

Suicide

آئی آئی ٹیین بابا ابھے سنگھ گریوال ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں، لیکن اس بار وجہ ان کی موت کی افواہیں ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ دعوے گردش کر رہے ہیں کہ ان کی لاش حصار کے ایک ہوٹل سے ملی ہے۔ ان کی موت کی خبریں بے بنیاد ہیں اور پولیس نے ان کی تردید کی ہے۔

ندھی تیواری سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فیس بک پر ان کے تقریباً 9 لاکھ اور انسٹاگرام پر تقریباً 7 لاکھ فالوورز تھے۔ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بڑی تعداد میں لوگ جڑے ہوئے تھے۔واقعے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک جذباتی پیغام بھی سامنے آیا، جس میں لکھا تھا، ’’اس ادھورے دل کو کسی نے مکمل نہیں کیا۔‘‘

ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران اور آئی آئی ٹی کے دیگر متعلقہ عہدیداروں کے خلاف بھی شکایت کی ہے۔ ایسے میں تحقیقات کے دوران یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ساحل کی شکایات کے بارے میں ادارے کے افسران کو کوئی معلومات تھی یا نہیں اور اگر تھی تو اس پر کیا کارروائی کی گئی۔فی الحال معاملے کی تحقیقات کرائم برانچ کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ آئی آئی ٹی ممبئی کیمپس میں گزشتہ تقریباً 7 ماہ کے دوران طالب علم کی موت کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔فروری میں دوسرے سال کے ایک طالب علم کی ہاسٹل میں موت ہوئی تھی۔ اس کے بعد جولائی 2026 میں نئے تعلیمی سیشن کے آغاز کے دوران 20 سالہ بی ٹیک دوسرے سال کے طالب علم نے بھی خودکشی کرلی تھی۔

ضلع اسپتال کے ڈاکٹر دیپک نے بتایا کہ اہل خانہ پوروَی کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال لے کر آئے تھے، جہاں طبی معائنے کے بعد اسے مردہ قرار دیا گیا۔ اسپتال کی جانب سے کوتوالی پولیس کو میمو بھیج دیا گیا ہے۔پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ اب سب کو پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے، جس کے بعد ہی پوروَی کی موت کی اصل وجہ واضح ہو سکے گی۔

ایف آئی آر کے مطابق 21 اگست کی صبح تقریباً چار بجے نازیہ کے میکے والوں کو فون کرکے اس کی موت کی اطلاع دی گئی۔ اطلاع ملنے کے بعد اہل خانہ فوری طور پر موقع پر پہنچے۔ خاندان نے نازیہ کی موت پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ممکن ہے اسے سسرال والوں نے قتل کیا ہو اور بعد میں واقعے کو خودکشی کا رنگ دے دیا گیا ہو۔

واقعے کے بعد کرائم ٹیم نے ہاسٹل کے کمرے کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ پولیس کی جانب سے موقع سے ملنے والی اشیا اور دیگر شواہد کو تفتیش کا حصہ بنایا جارہا ہے۔ پولیس یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ واقعے سے قبل طالبہ کی سرگرمیاں کیسی تھیں اور آیا اس نے کسی شخص سے کوئی ایسی بات شیئر کی تھی جس سے اس کی ذہنی یا جذباتی کیفیت کا اندازہ ہوسکے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ آشیش بنرجی پانچ مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر اور چیئرمین بھی رہے۔ انہوں نے رام پورہاٹ کی ترقی کے لیے خود کو وقف کر دیا تھا اور علاقے کے لوگوں کے لیے کئی اہم کام انجام دیے تھے۔ تاہم، ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ اتنی طویل عوامی خدمت کے باوجود انہیں بار بار بدنام کیا گیا،

مغربی بنگال کے سابق ڈپٹی اسپیکر اور ٹی ایم سی کے سینئر لیڈر آشیِش بنرجی کی موت کے بعد سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ پارٹی دفتر میں ان کی لاش پھندے سے لٹکی ہوئی ملی تھی اور پولیس نے ایک مبینہ خودکشی نوٹ بھی برآمد کیا ہے۔ پولیس ابتدائی طور پر اسے خودکشی کا معاملہ مان رہی ہے، تاہم موت کے حالات کی مکمل جانچ جاری ہے۔

آشیش بنرجی رام پورہاٹ اسمبلی حلقے سے پانچ مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ وہ 2021 سے 2026 تک مغربی بنگال اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر بھی رہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی حکومت میں انہوں نے کئی اہم محکموں کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ 2017 سے 2021 کے دوران وہ ریاست کے وزیر زراعت بھی رہے تھے۔سیاست میں طویل عرصے تک سرگرم رہنے والے آشیش بنرجی کو ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈروں میں شمار کیا جاتا تھا۔