Bharat Express DD Free Dish

Congress Chief Kharge

2029 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے بی جے پی نئی ٹیم کے ساتھ تیاری میں مصروف، کانگریس میں کئی اہم عہدے خالی، پریانکا گاندھی کی تنظیمی ذمہ داری پر بھی ابہام اور ریاستی سطح پر اختلافات نے پارٹی کی مشکلات بڑھائیں

سیاسی مبصرین کے مطابق بی کے ہری پرساد کو پارٹی کے مختلف دھڑوں کے درمیان ایک متوازن اور غیر جانبدار شخصیت تصور کیا جاتا ہے۔ انہیں کانگریس ہائی کمان کی پسندیدہ قیادت میں شمار کیا جاتا ہے، جس کے باعث ان کی تقرری کو ریاستی تنظیم میں استحکام پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ وزیراعظم مودی پارلے بسکٹ اور چاکلیٹ کے اشتہارات اور تشہیری سرگرمیوں میں زیادہ مصروف دکھائی دیتے ہیں، لیکن ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے معاملے میں سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل بڑھتی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی دشوار بنا دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پارٹی کے مرکزی آبزرور نے ترواننت پورم میں نومنتخب اراکین اسمبلی اور اتحادی جماعتوں کے لیڈروں کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں حکومت سازی، قیادت اور کابینہ کی تشکیل جیسے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ کانگریس ہائی کمان وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں جلد بازی کے بجائے تمام سیاسی اور تنظیمی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق کانگریس نے پانچوں ریاستوں میں مجموعی طور پر 461 امیدوار میدان میں اتارے تھے، لیکن رجحانات کے مطابق پارٹی صرف تقریباً 91 نشستوں پر آگے چل رہی ہے، جو کہ مجموعی نشستوں کا قریب 20 فیصد بنتا ہے۔ اس صورتحال نے سیاسی مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا کانگریس بتدریج اپنی قومی حیثیت کھو رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق کانگریس کی اس نئی حکمتِ عملی کا مقصد بی جے پی کو مرکزی ہدف بنانا ہے، جبکہ ترنمول کانگریس پر نسبتاً نرم مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے بھی اپنی تقاریر میں اسی حکمت عملی کو اپنایا، جہاں ان کے بیانات کا بڑا حصہ بی جے پی کے خلاف رہا، جبکہ ترنمول کانگریس پر محض رسمی تنقید کی گئی۔

لوک سبھا میں اس آئینی ترمیمی بل کے پاس نہ ہو پانے کے بعد کانگریس نے اب جوابی حکمت عملی تیار کر لی ہے اور ملک گیر سطح پر اس مسئلے کو عوام تک لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ وہ 21 اپریل کو ملک کے 29 بڑے شہروں میں بیک وقت پریس کانفرنس کرے گی، جس میں پارٹی کے سرکردہ رہنما عوام کے سامنے اپنا موقف پیش کریں گے۔

انڈین نیشنل کانگریس، ترنمول کانگریس اور لیفٹ فرنٹ کے درمیان سب سے واضح ٹکراؤ مغربی بنگال میں دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں 294 نشستوں پر ہونے والے اسمبلی انتخابات میں تینوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف میدان میں ہیں۔ انتخابی جلسوں میں ایک دوسرے پر سخت سیاسی حملے کیے جا رہے ہیں، جس سے اتحاد کی کمزوریاں نمایاں ہو رہی ہیں۔

آسام میں ہونے جا رہے اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس پارٹی کو مسلسل بڑے جھٹکوں کا سامنا ہے۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران پارٹی کے پانچ اہم لیڈروں نے استعفیٰ دے کر سیاسی منظرنامے میں ہلچل مچا دی ہے، جس سے ریاست میں کانگریس کی پوزیشن کمزور ہوتی نظر آ رہی ہے۔

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں عام بجٹ پیش کیا، جس میں معیشت کی ترقی کو رفتار دینے پر زور دیا گیا ہے۔ اس بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے سخت تنقید کی اور اسے غریب مخالف بجٹ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں مہنگائی، بے روزگاری اور غربت جیسے بنیادی مسائل کا کوئی مؤثر حل پیش نہیں کیا گیا۔