بنگلورو: کانگریس قیادت نے کرناٹک میں تنظیمی سطح پر ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے سینئر لیڈر بی کے ہری پرساد کو کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کا نیا صدر مقرر کر دیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کانگریس صدر نے بی کے ہری پرساد کی تقرری فوری طور پر نافذ العمل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس موقع پر پارٹی نے سبکدوش ہونے والے صدر ڈی کے شیوکمار کی خدمات اور پارٹی کے لیے ان کے نمایاں کردار کو بھی سراہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بی کے ہری پرساد کو پارٹی کے مختلف دھڑوں کے درمیان ایک متوازن اور غیر جانبدار شخصیت تصور کیا جاتا ہے۔ انہیں کانگریس ہائی کمان کی پسندیدہ قیادت میں شمار کیا جاتا ہے، جس کے باعث ان کی تقرری کو ریاستی تنظیم میں استحکام پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈی کے شیوکمار نے کرناٹک کے 25ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا ہے اور نئی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد پارٹی کے ریاستی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق ڈی کے شیوکمار نے اپنا استعفیٰ آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے صدر ملکارجن کھڑگے کو ارسال کر دیا تھا۔ شیوکمار گزشتہ چھ برسوں سے کرناٹک کانگریس کی قیادت کر رہے تھے اور اس دوران انہوں نے پارٹی کو ریاست میں دوبارہ اقتدار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی میں بھی ان کی حکمت عملی اور تنظیمی صلاحیتوں کو کلیدی حیثیت حاصل رہی۔
ڈی کے شیوکمار نے 2 جولائی 2020 کو کرناٹک کانگریس کے صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ ان کے لیے ابتدائی دور آسان نہیں تھا کیونکہ اس وقت ریاست میں سیاسی عدم استحکام کے ساتھ ساتھ کورونا وبا کا بحران بھی موجود تھا۔ مزید برآں ان پر منی لانڈرنگ کے الزامات کے سلسلے میں مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانچ جاری تھی۔ جیل سے رہائی کے بعد پارٹی قیادت نے انہیں ریاستی صدر کی ذمہ داری سونپی تھی، جس پر اس وقت سیاسی حلقوں میں مختلف سوالات بھی اٹھائے گئے تھے۔ ان تمام چیلنجز کے باوجود شیوکمار نے تنظیم کو نئی سمت دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے ریاست بھر میں عوامی رابطہ مہمات چلائیں، کارکنوں کو متحرک کیا اور پارٹی کے دفاتر کو سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ اپوزیشن کے دور میں انہوں نے حکومت کی پالیسیوں اور مبینہ ناکامیوں کو عوام کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
پارٹی تنظیم کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو کانگریس سے جوڑنے کے لیے بھی شیوکمار نے متعدد اقدامات کیے۔ ان کی قیادت میں پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل ممبرشپ مہم چلائی گئی، جس کے ذریعے ہزاروں نئے کارکنوں کو پارٹی میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے کارکنوں کو گھر گھر جا کر عوام سے رابطہ کرنے اور پارٹی کی پالیسیوں کو عام لوگوں تک پہنچانے کی ترغیب دی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بی کے ہری پرساد کی تقرری سے کانگریس کو ریاستی سطح پر ایک تجربہ کار اور قابل قبول قیادت میسر آئے گی۔ اب ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج پارٹی کے مختلف دھڑوں میں ہم آہنگی برقرار رکھنا، تنظیم کو مزید مضبوط بنانا اور نئی ریاستی حکومت کے ساتھ مؤثر تال میل قائم رکھنا ہوگا۔ کانگریس قیادت کو امید ہے کہ ہری پرساد کی سربراہی میں پارٹی نہ صرف اپنی تنظیمی بنیاد کو مزید مستحکم کرے گی بلکہ آئندہ سیاسی چیلنجز کا بھی کامیابی سے مقابلہ کر سکے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

