Bharat Express DD Free Dish

Karnataka Congress

سیاسی مبصرین کے مطابق بی کے ہری پرساد کو پارٹی کے مختلف دھڑوں کے درمیان ایک متوازن اور غیر جانبدار شخصیت تصور کیا جاتا ہے۔ انہیں کانگریس ہائی کمان کی پسندیدہ قیادت میں شمار کیا جاتا ہے، جس کے باعث ان کی تقرری کو ریاستی تنظیم میں استحکام پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کرناٹک کانگریس میں قیادت کی کشمکش نومبر 2025 میں اس وقت شروع ہوئی، جب حکومت نے اپنی پانچ سالہ مدت کا نصف مکمل کیا۔ موجودہ وزیراعلیٰ سدارامیا اور نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے علاوہ وزیرداخلہ جی پرمیشورا بھی اعلیٰ عہدے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدھارامیا نے وزیر اعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ کسی قسم کا 2.5 سالہ سمجھوتہ نہیں ہوا تھا اور وہ اپنی حکومت کی پوری مدت مکمل کریں گے۔

کرناٹک میں کانگریس حکومت اس وقت شدید داخلی تنازعے اور سیاسی بحران کا شکار ہے۔ وزیر اعلیٰ سِدّھارمیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے درمیان جاری رسہ کشی نے حکومت کی گرفت کو کمزور کر دیا ہے۔ ایسے میں بی جے پی نے ریاست میں اپنا جارحانہ سیاسی پلان شروع کرتے ہوئے کسانوں کو منظم کرنے کی مہم تیز کر دی ہے۔ کسان 9 دسمبر سے بڑے پیمانے پر احتجاج کا آغاز کریں گے اور بیلگاوی واقع ’سُورن سَودھا‘ کا گھیراؤ کریں گے۔

کافی عرصے سے مستحکم دکھائی دینے والے کرناٹک میں کانگریس کو سیاسی بحران کا سامنا ہے۔ ڈی کے شیوکمار اور وزیر اعلیٰ سدھارمایا کے حامیوں کے درمیان تنازع بڑھ گیا ہے۔

کرناٹک کی سیاست میں وزیراعلیٰ کےعہدے سے متعلق رسہ کشی جاری ہے۔ دریں اثنا، کے پی سی سی کے صدرڈی کے شیوکمارنے کہا ہے کہ کوئی عہدہ مستقل نہیں ہوتا۔ ان کے بیان کی مختلف طریقوں سے تشریح کی گئی ہے۔ انہوں نے دوسرے لیڈروں کو موقع دینے کی بات کہی ہے، جبکہ خود کو کانگریس کی فرنٹ لائن قیادت میں رہنے کا یقین دلایا ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ’’کرناٹک میں بہت سے لوگوں کے پاس زمینیں ہیں، لیکن ان کے پاس مالکانہ حق نہیں ہے۔ آج کرناٹک حکومت ریاست کے 1 لاکھ کنبوں کو مالکانہ حق دینے جا رہی ہے۔‘‘

سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوگوڑا کا پوتے پرجول ریونّا ملک کے سب سے بڑے سیکس اسکینڈل کا ملزم ہے۔ دعویٰ ہے کہ تقریباً 3000 ویڈیو وائرل ہو رہے ہیں، جس میں خواتین کا استحصال دکھائی دے رہا ہے۔

لوک سبھا الیکشن کے پہلے کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارمیا نے الزام لگایا کہ بی جے پی گزشتہ ایک سال سے ان کی حکومت کو گرانے کی کوشش کررہی ہے۔ بی جے پی کتنا بھی زور لگا لے، حکومت اپنی مدت کار پوری کرلے گی۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر پریانک کھرگے نے کہا کہ  ہمارے مطالبات میں  ٹیکسوں کی منتقلی شامل ہے، ہمیں خشک سالی سے نجات کی رقم نہیں مل رہی۔ مرکز کو یہ سمجھنا چاہئے کہ کرناٹک ایک اقتصادی پاور ہاؤس ہے۔ ہم یہاں ٹیکسوں کی منتقلی پر ریاست کےلوگوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے جمع ہوئے ہیں۔