Bharat Express DD Free Dish

SIR

راہل گاندھی نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ جب تک عرضی میں اٹھائے گئے اہم سوالات پر غور کرکے فیصلہ نہیں کرلیا جاتا، تب تک تمام ریاستوں میں جاری خصوصی گہری نظرثانی کے عمل پر عبوری روک لگائی جائے۔

راہل گاندھی کی قیادت میں ممتا بنرجی، اکھلیش یادو اور تیجسوی یادو سمیت کئی رہنما احتجاج میں شامل۔ ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں پر عرضی، 10 رہنما سپریم کورٹ میں کریں گے دستخط۔ اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ وہ ایس آئی آر اور انتخابی فہرستوں سے متعلق اپنے اعتراضات کو سپریم کورٹ کے سامنے رکھیں گے اور اس معاملے پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انڈین مسلمز فار سول رائٹس کے چیئرمین، 51 رکنی مانیٹرنگ کمیٹی آف انڈین مسلمز کے قومی کنوینر اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے کہا کہ 10 اکتوبر کو مختلف سماجی اور جمہوری تنظیمیں آئین، جمہوریت اور شہریوں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے پرامن طور پر اپنی آواز بلند کریں گی۔ انہوں نے ملک کے نوجوانوں، بالخصوص اقلیتی برادریوں سے اپیل کی کہ وہ اس احتجاج میں بھرپور شرکت کریں۔

مقامی لوگوں نے کہا کہ افسران اور ملازمین مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ جب بھی وہ فون کرتے ہیں تو افسران اور ملازمین کال کا جواب دے کر ضروری معلومات فراہم کرتے ہیں۔ کیمپ لگائے جانے سے لوگوں کو کافی سہولت ہو رہی ہے۔ اگر گھر پر کسی وجہ سے ایس آئی آر کا عمل مکمل نہیں ہو پا رہا ہے تو لوگ کیمپ آ کر اپنی پریشانی بتا سکتے ہیں۔ یہاں ملازمین دستاویزات کی جانچ کے بعد آئندہ کے عمل کے بارے میں معلومات فراہم کر رہے ہیں۔

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی معطلی کے مطالبے کے ساتھ یہ بھی چیلنج کیا گیا ہے کہ گیانیش کمار نے مبینہ طور پر دونوں الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی رضامندی کے بغیر کئی فیصلے کیے، رہنما اصول جاری کیے اور سافٹ ویئر میں تبدیلیاں کیں۔

اویسی نے کہا ’’اگر فرضی فارم 7 داخل کیے جا رہے ہیں تو ہم الیکشن کمیشن سے اپیل کرتے ہیں کہ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اگر یہ ڈراما بند نہیں ہوا تو یاد رکھیں، حیدرآباد کی سڑکوں اور گلیوں میں دہلی کے جنتر منتر سے بھی بڑے احتجاج ہوں گے اور آپ کے لیے بہت مشکلات پیدا ہوں گی۔ مجلس اتحاد المسلمین خاموش نہیں رہے گی۔‘‘

سی ڈبلیو سی کے اجلاس میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) اور ووٹر لسٹوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے۔ کھرگے نے کہا کہ مودی حکومت ملک میں جمہوری نظام کی مضبوط بنیاد کو کمزور کر رہی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ایک سازش کے تحت ووٹر لسٹوں سے نام حذف کیے جا رہے ہیں۔ کھرگے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بھی نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ مودی حکومت کی ’کٹھ پتلی‘ بن گئے ہیں۔

تلنگانہ میں جاری خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے حوالے سے اویسی نے کہا کہ میپنگ میں بے ضابطگیوں، جیسے 6 سے زیادہ بچوں کی میپنگ والے معاملات کے سلسلے میں ووٹروں کو ایس آئی آر نوٹس بھیجے جا رہے ہیں۔

پرکاش راج نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ان کا جنم اسی انتخابی حلقے میں ہوا اور وہ طویل عرصے سے اسی علاقے میں رہتے آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تعلیم، اسکول، کالج اور تھیٹر سے متعلق کام بھی اسی علاقے میں ہوا ہے۔اداکار نے یہ بھی کہا کہ وہ اسی انتخابی حلقے سے لوک سبھا کا انتخاب لڑ چکے ہیں۔ ان کے مطابق، ’’کھیل شروع ہو گیا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ جن ووٹروں یا ان کے والدین اور دادا دادی کے نام 2002 کی ووٹر فہرست میں موجود نہیں ہیں، ان سے 12 مخصوص دستاویزات میں سے کسی ایک کی فراہمی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ان میں سے چار دستاویزات تلنگانہ میں عملاً دستیاب ہی نہیں ہیں۔