Bharat Express DD Free Dish

SIR

تلنگانہ میں جاری خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے حوالے سے اویسی نے کہا کہ میپنگ میں بے ضابطگیوں، جیسے 6 سے زیادہ بچوں کی میپنگ والے معاملات کے سلسلے میں ووٹروں کو ایس آئی آر نوٹس بھیجے جا رہے ہیں۔

پرکاش راج نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ان کا جنم اسی انتخابی حلقے میں ہوا اور وہ طویل عرصے سے اسی علاقے میں رہتے آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تعلیم، اسکول، کالج اور تھیٹر سے متعلق کام بھی اسی علاقے میں ہوا ہے۔اداکار نے یہ بھی کہا کہ وہ اسی انتخابی حلقے سے لوک سبھا کا انتخاب لڑ چکے ہیں۔ ان کے مطابق، ’’کھیل شروع ہو گیا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ جن ووٹروں یا ان کے والدین اور دادا دادی کے نام 2002 کی ووٹر فہرست میں موجود نہیں ہیں، ان سے 12 مخصوص دستاویزات میں سے کسی ایک کی فراہمی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ان میں سے چار دستاویزات تلنگانہ میں عملاً دستیاب ہی نہیں ہیں۔

اویسی نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے اب تک یہ اعداد و شمار جاری نہیں کیے کہ کتنے افراد کو غیر ملکی قرار دے کر فہرست سے باہر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایس آئی آر کے باعث متاثر ہونے والوں میں اکثریت مسلمانوں، خواتین، غریبوں اور مہاجر مزدوروں کی ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہماری رائے میں ایس آئی آر کے دوران اٹھائے گئے اقدامات ضرورت کے مطابق تھے۔ ووٹر پر خود کو ثابت کرنے کا بوجھ ڈالنے کی دلیل ہم قبول نہیں کرتے۔

سپریم کورٹ بدھ کے روز اُن عرضیوں کے سلسلے میں اہم فیصلہ سنانے جا رہا ہے جن میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کی جانب سے ووٹر فہرستوں کی ’خصوصی گہری نظرثانی‘ (ایس آئی آر) کرانے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے۔

ترنمول کانگریس نے عدالت عظمیٰ میں دعویٰ کیا ہے کہ ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے کے باعث کئی اسمبلی حلقوں کے انتخابی نتائج متاثر ہوئے ہیں۔ پارٹی کے مطابق ریاست کی متعدد سیٹوں پر کامیابی کا فرق ان ووٹوں کی تعداد سے بھی کم تھا جو ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ نے ٹی ایم سی کو نئی درخواستیں دائر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مرکزی بی جے پی حکومت پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی ایس آئی آر (SIR) کے ذریعے لوگوں کی شہریت چھیننے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے ہوشیار رہنے اور ووٹر لسٹ میں اپنے نام کی تصدیق یقینی بنانے کی اپیل کی۔

انتخابی قوانین کے تحت فارم-7 کا استعمال ووٹر فہرست میں کسی نام کی شمولیت پر اعتراض کرنے یا اسے حذف کرنے کی درخواست کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ، کسی بھی نام کو ہٹانے سے قبل حکام کے لیے دعووں کی تصدیق کرنا اور متعلقہ فرد کو وضاحت کا موقع دینا لازمی ہے۔

اطلاعات کے مطابق آدھی رات کے کچھ دیر بعد سکیورٹی گارڈ اور چند مقامی افراد نے ایک کمرے سے سیاہ دھواں اٹھتے دیکھا۔ سکیورٹی گارڈز نے فوری طور پر آگ بجھانے کی کوشش شروع کی، جس کے بعد پردھان نگر پولیس اسٹیشن اور فائر بریگیڈ کو اطلاع دی گئی۔