Bharat Express DD Free Dish

SIR

اویسی نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے اب تک یہ اعداد و شمار جاری نہیں کیے کہ کتنے افراد کو غیر ملکی قرار دے کر فہرست سے باہر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایس آئی آر کے باعث متاثر ہونے والوں میں اکثریت مسلمانوں، خواتین، غریبوں اور مہاجر مزدوروں کی ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہماری رائے میں ایس آئی آر کے دوران اٹھائے گئے اقدامات ضرورت کے مطابق تھے۔ ووٹر پر خود کو ثابت کرنے کا بوجھ ڈالنے کی دلیل ہم قبول نہیں کرتے۔

سپریم کورٹ بدھ کے روز اُن عرضیوں کے سلسلے میں اہم فیصلہ سنانے جا رہا ہے جن میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کی جانب سے ووٹر فہرستوں کی ’خصوصی گہری نظرثانی‘ (ایس آئی آر) کرانے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے۔

ترنمول کانگریس نے عدالت عظمیٰ میں دعویٰ کیا ہے کہ ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے کے باعث کئی اسمبلی حلقوں کے انتخابی نتائج متاثر ہوئے ہیں۔ پارٹی کے مطابق ریاست کی متعدد سیٹوں پر کامیابی کا فرق ان ووٹوں کی تعداد سے بھی کم تھا جو ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ نے ٹی ایم سی کو نئی درخواستیں دائر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مرکزی بی جے پی حکومت پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی ایس آئی آر (SIR) کے ذریعے لوگوں کی شہریت چھیننے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے ہوشیار رہنے اور ووٹر لسٹ میں اپنے نام کی تصدیق یقینی بنانے کی اپیل کی۔

انتخابی قوانین کے تحت فارم-7 کا استعمال ووٹر فہرست میں کسی نام کی شمولیت پر اعتراض کرنے یا اسے حذف کرنے کی درخواست کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ، کسی بھی نام کو ہٹانے سے قبل حکام کے لیے دعووں کی تصدیق کرنا اور متعلقہ فرد کو وضاحت کا موقع دینا لازمی ہے۔

اطلاعات کے مطابق آدھی رات کے کچھ دیر بعد سکیورٹی گارڈ اور چند مقامی افراد نے ایک کمرے سے سیاہ دھواں اٹھتے دیکھا۔ سکیورٹی گارڈز نے فوری طور پر آگ بجھانے کی کوشش شروع کی، جس کے بعد پردھان نگر پولیس اسٹیشن اور فائر بریگیڈ کو اطلاع دی گئی۔

مدھیہ پردیش الیکشن کمیشن نے ریاست کی ووٹر لسٹ کا ڈرافٹ جاری کر دیا ہے، جس میں مجموعی طور پر 42 لاکھ 74 ہزار 160 نام ہٹا دیے گئے ہیں۔ ان میں مرد و خواتین دونوں شامل ہیں۔

یوپی میں ایس آئی آر سے متعلق وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پارٹی عہدیداران کو واضح طور پرکہہ دیا ہے کہ جہاں بھی ایس آئی آرٹھیک نہیں ہوگا، وہاں اراکین اسمبلی کا ٹکٹ کٹنا طے ہے۔ اس لئے وہ لاپرواہی نہ کریں۔

سپریم کورٹ نے ملک بھر میں ایس آئی آر کے سلسلے میں مسلسل دائر ہونے والی عرضیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جائے مالیا باگچی کی بینچ نے کہا کہ یہ معاملہ قابو سے باہر ہو گیا ہے اور بہت ساری عرضیوں پہلے ہی دائر ہو چکی ہیں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اب مجھے نہیں لگتا کہ مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر سے متعلق نئی عرضیوں قبول کی جانی چاہئیں۔