Bharat Express DD Free Dish

SIR

مدھیہ پردیش الیکشن کمیشن نے ریاست کی ووٹر لسٹ کا ڈرافٹ جاری کر دیا ہے، جس میں مجموعی طور پر 42 لاکھ 74 ہزار 160 نام ہٹا دیے گئے ہیں۔ ان میں مرد و خواتین دونوں شامل ہیں۔

یوپی میں ایس آئی آر سے متعلق وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پارٹی عہدیداران کو واضح طور پرکہہ دیا ہے کہ جہاں بھی ایس آئی آرٹھیک نہیں ہوگا، وہاں اراکین اسمبلی کا ٹکٹ کٹنا طے ہے۔ اس لئے وہ لاپرواہی نہ کریں۔

سپریم کورٹ نے ملک بھر میں ایس آئی آر کے سلسلے میں مسلسل دائر ہونے والی عرضیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جائے مالیا باگچی کی بینچ نے کہا کہ یہ معاملہ قابو سے باہر ہو گیا ہے اور بہت ساری عرضیوں پہلے ہی دائر ہو چکی ہیں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اب مجھے نہیں لگتا کہ مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر سے متعلق نئی عرضیوں قبول کی جانی چاہئیں۔

مدھیہ پردیش کے گوالیار ضلع میں انتظامیہ نے غیر قانونی بنگلہ دیشی اور روہنگیا شہریوں کے خلاف سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ شہر میں کرائے پر یا خفیہ طور پر رہنے والے تمام افراد کی مکمل معلومات 15 دنوں کے اندر متعلقہ تھانے میں جمع کرانا لازمی کر دیا گیا ہے۔ مقررہ مدت میں معلومات نہ دینے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن نے 6 ریاستوں میں ایس آئی آر کی ڈیڈ لائن بڑھا دی ہے۔ 5 ریاستوں میں ایک ہفتے کی توسیع کی گئی ہے، جبکہ یوپی کو 31 دسمبر تک کا موقع دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ووٹر لسٹ اپڈیٹ کرانے کے لیے کیا گیا ہے۔ اب ڈرافٹ لسٹ 16 دسمبر کو جاری ہوگی۔

پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران منگل کو لوک سبھا میں انتخابی اصلاحات پر اہم بحث شروع ہوئی، جس میں ووٹر لسٹ کے خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) سے لے کر الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کی شفافیت اور سیاسی جماعتوں کو ملنے والے چندے تک مختلف موضوعات شامل رہے۔ بحث کا آغاز کانگریس کے سینئر رکنِ پارلیمان منیش تیواری نے کیا۔

وزیراعظم مودی نے بدھ کو بی جے پی کے مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن میٹنگ کی، جسے آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے تناظر میں بڑی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ وقت سخت محنت کا ہے اور آنے والے الیکشن میں جیت کو یقینی بنانے کے لیے ہر سطح پر مضبوط تیاری ضروری ہے۔

پارلیمنٹ میں جاری سرمائی اجلاس میں خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر گزشتہ دو دن سے جاری ہنگامے کے درمیان مرکزی حکومت نے آخرکار اپوزیشن کی بحث کی مانگ منظور کر لی ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے واضح کیا کہ حکومت ایس آئی آر پر بحث کے لیے تیار ہے، لیکن اپوزیشن اس کے لیے وقت کی شرط نہیں تھوپ سکتا۔

اکھلیش یادونے کہا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اترپردیش سے ہارنے کے بعد بی جے پی ایس آئی آرکے ذریعہ ووٹ کاٹ رہی ہے۔ انہوں نے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کویہ بھی ہدایت دی کہ وہ ایس آئی آرفارم بھرنے میں مدد کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کسی کا ووٹ نہ کاٹا جائے۔

رام بھدراچاریہ کے اس بیان کے بارے میں کہ سونیا گاندھی ہندوستانی نہیں ہیں، کانگریس لیڈر نے کہا کہ ان کی نظر میں کون بھارتی ہے اور کون نہیں، اس کا کوئی مطلب نہیں۔ ہمارے یہاں لوگوں کی شہریت ہمارا آئین طے کرتا ہے، یہ کوئی فرد طے نہیں کر سکتا۔