Bharat Express DD Free Dish

SIR

مغربی بنگال اور بنگلہ دیش کی سرحد پر جاری صورتحال کے پیش نظر ریاست کے گورنر سی وی آنند بوس پیر کے روز نارتھ 24 پرگنہ کے حکیم پور بارڈر کا دورہ کریں گے۔ یہ دورہ اس وقت شروع ہوا، جب ایس آئی آر کے بعد غیر قانونی بنگلہ دیشی باشندوں کی بڑی تعداد اپنے ملک لوٹتی ہوئی دیکھی جا رہی ہے۔

ایس آئی آر پر ملک بھر میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ حزب اختلاف نے بہار کے انتخابات سے پہلے کی گئی ایس آئی آر میں تقریباً 65 لاکھ ووٹ کاٹے جانے پر ”ووٹ چوری“ کا الزام لگایا ہے۔ اب ایس آئی آر کا عمل 12 ریاستوں میں جاری ہے۔ کانگریس نے اس مسئلہ پر دسمبر کے پہلے ہفتہ میں احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

ایک ایڈیشنل سی ای او سطح کا افسر ضلع مجسٹریٹس کے ساتھ روزانہ کی پیشرفت کا جائزہ لے گا، جبکہ ایک جوائنٹ سی ای او سطح کا افسر اضلاع میں عمل کی نگرانی کے لیے الیکٹورل رجسٹریشن افسروں (EROs) کے ساتھ رابطہ قائم کرے گا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کا مقصد ووٹر لسٹ کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران سی ای سی نے بہار میں منعقدہ ایس آئی آر کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران کسی بھی سیاسی جماعت نے کوئی اعتراض درج نہیں کرایا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ بہار کی ووٹر لسٹ اب تک کی سب سے درست اور شفاف فہرست ہے۔

بنچ نے زور دیا کہ کوئی بھی غیر قانونی تارکین وطن کو ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کرنا چاہتا اور صرف اصل شہریوں کو ہی ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے گی۔

بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کے فعال سیاست میں آنے کی قیاس آرائیوں کے درمیان روہنی آچاریہ نے نوجوانوں کی سیاست میں شمولیت کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو سیاست میں آنا چاہئے، جن کے دل میں غریبوں کی عزت ہے انہیں سیاست میں ضرور آنا چاہئے۔

کمیشن کے مطابق ابتدائی انتخابی فہرست میں شامل 7.24 کروڑ ووٹرز میں سے اب تک 0.16 فیصد کی جانب سے دعوے اور اعتراضات موصول ہوئے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر نے الیکشن کمیشن سے ایس آئی آر میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور غلطیوں کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کمیشن سے دونوں جگہوں سے دنیش سنگھ کے خلاف الگ الگ نوٹس جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے بعد مظفر پور کے الیکٹورل رجسٹریشن افسر نے جے ڈی یو کے قانون ساز کونسلر دنیش پرساد سنگھ اور ایل جے پی (رام ولاس) کی رکن اسمبلی وینا دیوی کو نوٹس بھی بھیجا ہے۔ نوٹس میں 16 اگست تک جواب دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ یہ مشق پہلی بار نہیں ہو رہی ہے اور سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اسے شروع کیا تھا۔

بہارمیں ووٹرلسٹ کے اسپیشل انٹینسیورویژن (ایس آئی آر) پر پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ اپوزیشن ارکان نے اس معاملے پر دونوں ایوانوں میں بحث کا مطالبہ کیا، جس کی وجہ سے کارروائی ملتوی کردی گئی۔ ڈپٹی چیئرمین اورلوک سبھا اسپیکرنے پارلیمانی ضوابط پرعمل کرنے کی اپیل کی۔ کانگریس اورڈی ایم کے نے بحث کے لئے نوٹس دیئے، جبکہ انڈیا الائنس نے احتجاج کیا۔