Bharat Express DD Free Dish

SIR

بہارکی ووٹرلسٹ ریویژن (ایس آئی آر) کے معاملے پرسپریم کورٹ نے ایک بارپھرالیکشن کمیشن سے کہا کہ وہ آدھارکارڈ اور ووٹر آئی ڈی کو نامزدگی کے لیے درست دستاویزات کے طورپرتسلیم کرے۔ عدالت نے ڈرافٹ ووٹرلسٹ کی اشاعت پرپابندی لگانے سے بھی انکارکردیا۔ عدالت نے کہا کہ سماعت کے شیڈول کا اعلان منگل کے روزکیا جائے گا۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے کہا کہ ایوان کی کارروائی تبھی آگے بڑھے گی جب حکومت بہار میں ووٹر لسٹ پر نظرِثانی کے معاملے پر جواب دے گی۔

شیو سینا (یو بی ٹی) کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے ایس آئی آر کے معاملے پر کہا، ’’جس طرح سے ووٹرز کو ان کے حق رائے دہی سے محروم رکھا جا رہا ہے وہ ایک منصوبہ بند حکمت عملی کا حصہ ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ سپریم کورٹ نے ایس آئی آر میں درست ووٹر شناختی کارڈ کے طور پر قبول شدہ دستاویزات کو شامل کرنے کو کہا تھا۔

سی پی ایم نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ SIR مہم دراصل NRC جیسی مشق کو در پردہ نافذ کرنے کی کوشش ہے، جس کی ماضی میں بڑے پیمانے پر مخالفت ہو چکی ہے۔

عرضی گزار نے اندازہ لگایا ہے کہ 3 کروڑ سے زیادہ رائے دہندگان، خاص طور پر پسماندہ گروہوں جیسے ایس سی، ایس ٹی اور تارکین وطن مزدوروں کو ایس آئی آر کے حکم میں سخت شرائط کی وجہ سے ووٹ دینے کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں۔

جن افراد کے نام 2003 کی فہرست میں شامل ہیں، انھیں صرف اپنی تفصیلات کی تصدیق کرنے اور مکمل شدہ گنتی فارم جمع کرانے کی ضرورت ہے۔