مغربی بنگال کے گورنر سی وی آنند بوس اور وزیراعلیٰ ممتا بنرجی۔ (فائل فوٹو)
کلکتہ: مغربی بنگال اور بنگلہ دیش کی سرحد پر جاری صورتحال کے پیش نظر ریاست کے گورنر سی وی آنند بوس پیر کے روز نارتھ 24 پرگنہ کے حکیم پور بارڈر کا دورہ کریں گے۔ یہ دورہ اس وقت خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے جب سے بھارتی الیکشن کمیشن نے 4 نومبر کو انتخابی لسٹوں پر خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کا عمل شروع کیا، جس کے بعد غیر قانونی بنگلہ دیشی باشندوں کی بڑی تعداد اپنے ملک لوٹتی ہوئی دیکھی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق گورنر ان دنوں ضلع نادیہ میں موجود ہیں، جو خود بھی بنگلہ دیش کے ساتھ بین الاقوامی سرحد رکھتا ہے۔ نادیہ سے وہ براہِ راست حکیم پور پہنچیں گے اور وہاں کی صورت حال کا جائزہ لیں گے۔ راج بھون کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ گورنر وہاں موجود غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں سے ملاقات کریں گے اور ان سے بات چیت کے ذریعے جاننے کی کوشش کریں گے کہ وہ کس راستے سے سرحد پار کرکے مغربی بنگال آئے، وہ یہاں کتنے عرصے سے رہ رہے تھے اور روزگار کے لیے کیا کرتے تھے۔ ممکن ہے کہ کلکتہ واپسی پر گورنر اپنی زمینی رپورٹ کی بنیاد پر مرکزی وزارتِ داخلہ کو ایک مفصل رپورٹ بھی ارسال کریں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، منگل کے روز گورنر مذہبی اقلیتوں کے اکثریتی ضلع مرشدآباد کا بھی دورہ کریں گے، جہاں بنگلہ دیش سے متصل ایک اور حساس سرحد واقع ہے۔
ایس آئی آر پر سیاسی تنازع
ایس آئی آر کے آغاز کے بعد ریاست کی مختلف سرحدی چوکیوں پر بنگلہ دیشیوں کی واپسی کی لہر دیکھنے میں آئی ہے، جس میں سب سے زیادہ دباؤ حکیم پور پر دیکھا گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ ریورس مائیگریشن اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر قانونی بنگلہ دیشی اور روہنگیا باشندوں کو ووٹر لسٹ سے ہٹانے کے لیے ایس آئی آر ناگزیر تھا۔
ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اسمبلی شبھندو ادھیکاری نے الزام لگایا کہ ریورس مائیگریشن سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ ترنمول کانگریس شروع سے اس عمل کی مخالفت کیوں کر رہی تھی۔ دوسری جانب ٹی ایم سی کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر دراصل بھارتیہ جنتا پارٹی اور مرکزی حکومت کی جانب سے مغربی بنگال میں این آر سی نافذ کرنے کی ایک سیاسی چال ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
