Bharat Express DD Free Dish

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری مضبوط کرنے اور ٹیکنالوجی کو کسی بیرونی طاقت کے ہتھیار میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

آج کے دور میں ٹیکنالوجی صرف تفریح یا روزمرہ کام کا ذریعہ نہیں رہی، بلکہ یہ طے کرتی ہے کہ بینک اکاؤنٹ میں رقم کیسے پہنچے گی، شناخت کیسے ثابت ہوگی اور لوگوں کو کون سی معلومات دستیاب ہوں گی۔ ایسے میں اگر کوئی غیر ملکی کمپنی یا ملک ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کسی پورے ملک پر اثر و رسوخ یا کنٹرول قائم کرنے لگے تو اسے ڈیجیٹل سامراجیت کہا جاسکتا ہے۔ بھارت اب ڈیجیٹل انحصار اور ٹیکنالوجی کے ’ہتھیار بننے‘ کے رجحان کے خلاف اپنی حکمت عملی مضبوط کر رہا ہے۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال عوام کو کنٹرول کرنے کے بجائے انہیں بااختیار بنانے کے لیے ہونا چاہیے۔

کیا ہے ’ڈی ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘؟

ٹیکنالوجی کو ’ہتھیار بننے سے روکنے‘ کا مطلب کسی غیر ملکی ایپ یا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا بائیکاٹ کرنا نہیں ہے۔ اس کا بنیادی مقصد ڈیجیٹل نظام کو اس طرح تیار کرنا ہے کہ کوئی ایک غیر ملکی کمپنی، اجارہ دار پلیٹ فارم یا ملک جب چاہے کسی دوسرے ملک کی معیشت یا اہم ڈیجیٹل نظام کو متاثر نہ کرسکے۔ مثال کے طور پر اگر کسی ملک کا مکمل ادائیگی کا نظام، کلاؤڈ اسٹوریج یا انٹرنیٹ سرچ کسی ایک غیر ملکی پلیٹ فارم پر منحصر ہو تو وہ پلیٹ فارم اپنے اصول تبدیل کرکے من مانی فیس یا ٹیکس عائد کرسکتا ہے۔ بھارت اسی طرح کے انحصار کو کم کرکے اپنی ڈیجیٹل خودمختاری مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر بنا بھارت کا نیا ماڈل

بھارت نے ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر (DPI) کے ذریعے یہ ماڈل پیش کیا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو صرف کسی ایک نجی کمپنی کی ملکیت بنانے کے بجائے اسے سڑک یا بجلی کی طرح عوامی بنیادی ڈھانچے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

بھارت کا یو پی آئی (UPI) اور ڈیجیٹل شناخت کا نظام آدھار اس ماڈل کی بڑی مثالیں ہیں۔ یو پی آئی کسی ایک نجی بینک کی ملکیت نہیں، بلکہ ایک کھلا پلیٹ فارم ہے جس پر پے ٹی ایم، گوگل پے اور فون پے سمیت متعدد کمپنیاں اور پلیٹ فارم کام کرتے ہیں۔ اس ماڈل کا مقصد کسی ایک کمپنی کو مکمل اجارہ داری حاصل کرنے سے روکنا اور صارفین و کاروباری اداروں کے لیے ایک کھلا ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا ہے۔

دنیا کے لیے بھی پیش کیا گیا ڈی پی آئی ماڈل

بھارت نے اپنے ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر کے ماڈل کو ’گلوبل ساؤتھ‘ یعنی ترقی پذیر اور غریب ممالک کے ساتھ بھی شیئر کیا ہے۔ اس کا مقصد ان ممالک کو مغربی ممالک اور بڑی ٹیک کمپنیوں کے مہنگے اور بند ڈیجیٹل نظاموں پر مکمل انحصار سے بچنے میں مدد دینا ہے۔

اکثر کہا جاتا ہے کہ ’ڈیٹا نیا تیل ہے‘۔ بڑی ٹیک کمپنیاں طویل عرصے سے صارفین کے ڈیٹا کو جمع کرکے اس سے بڑی آمدنی حاصل کرتی رہی ہیں۔ بھارت کے ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ 2023 کے ذریعے شہریوں کے ڈیٹا کے استعمال کے حوالے سے قواعد سخت کیے گئے ہیں۔ اس کے تحت کمپنیوں کو بھارتی شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کے استعمال کے لیے ان کی واضح رضامندی حاصل کرنا ہوگی۔ تاہم ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ڈیٹا کا تحفظ صرف غیر ملکی کمپنیوں سے نہیں بلکہ ملک کے اندر بھی شہریوں کی رازداری کو مدنظر رکھتے ہوئے یقینی بنایا جانا چاہیے۔

خود انحصاری کی سمت اہم قدم

مصنوعی ذہانت کے موجودہ دور میں اگر سپر کمپیوٹرز اور جدید چپس تیار کرنے کی ٹیکنالوجی صرف چند ممالک تک محدود رہی تو دنیا کے دیگر ممالک ان پر انحصار کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔ بھارت اسی انحصار کو کم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں خود انحصاری پر زور دے رہا ہے۔ 10,371 کروڑ روپے کے انڈیا اے آئی مشن کا مقصد بھارتی زبانوں میں کام کرنے والے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تیاری اور تحقیق کو فروغ دینا ہے۔ اس کے ذریعے بھارت اپنی مقامی ضروریات اور زبانوں کے مطابق اے آئی کی صلاحیتیں تیار کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

سیمی کنڈکٹر مشن

بھارت نے 76,000 کروڑ روپے کے پیکیج کے ذریعے ملک میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کا ماحولیاتی نظام تیار کرنے کی کوشش شروع کی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد چپس کی تیاری کے لیے ملکی صلاحیت بڑھانا ہے، تاکہ مستقبل میں کسی عالمی بحران یا سپلائی چین میں رکاوٹ کے دوران ملک کا ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ بیرونی انحصار کی وجہ سے متاثر نہ ہو۔ یوں ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر، ڈیٹا خودمختاری، مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کو بھارت کی وسیع تر ٹیکنالوجی خودمختاری کی حکمت عملی کے اہم ستونوں کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read