Urdu Conclave 2026

SC to Verdict on Petitions Challenging ECI’s SIR: ای سی آئی کی خصوصی ووٹر لسٹ نظرثانی کے خلاف عرضیوں پر سپریم کورٹ آج سنائے گا فیصلہ

سپریم کورٹ بدھ کے روز اُن عرضیوں کے سلسلے میں اہم فیصلہ سنانے جا رہا ہے جن میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کی جانب سے ووٹر فہرستوں کی ’خصوصی گہری نظرثانی‘ (ایس آئی آر) کرانے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ بدھ کے روز اُن عرضیوں کے سلسلے میں اہم فیصلہ سنانے جا رہا ہے جن میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کی جانب سے ووٹر فہرستوں کی ’خصوصی گہری نظرثانی‘ (ایس آئی آر) کرانے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باغچی پر مشتمل بنچ آج اپنا فیصلہ سنائے گی۔ اس معاملے میں طویل سماعت کے بعد عدالت نے اسی سال کے آغاز میں اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

ان عرضیوں میں الیکشن کمیشن کی جانب سے شروع کی گئی ایس آئی آر کارروائی کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ یہ نظرثانی کا عمل آئین کے آرٹیکل 326، عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 اور اس کے تحت بنائے گئے قوانین کے دائرۂ اختیار سے تجاوز کرتا ہے۔

شہریت ثابت کرنے کی شرط پر تنازع

یہ تنازع بنیادی طور پر الیکشن کمیشن کی اُس شرط سے جڑا ہوا ہے جس کے تحت سال 2002 (یا بعض ریاستوں میں 2003) کی ووٹر لسٹ میں شامل نہ رہنے والے ووٹروں کو اب اپنی شہریت ثابت کرنا ہوگی۔ اس کے لیے متعلقہ افراد کو کسی ایسے شخص سے خاندانی تعلق ثابت کرنا ہوگا جس کا نام اُس وقت کی ووٹر لسٹ میں درج تھا۔

درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ کے سامنے دلیل دی کہ اس شرط کے باعث حقیقی ووٹر اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں، خاص طور پر پسماندہ طبقات اور مہاجر برادریوں کے افراد، جن کے پاس پرانی ووٹر فہرستوں سے اپنی نسل یا خاندانی تعلق جوڑنے کے دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہوتے۔

عدالت کے عبوری احکامات

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کئی عبوری ہدایات جاری کیں جن کا مقصد شفافیت کو بڑھانا اور مختلف ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر عمل سے متاثر ووٹروں کی مشکلات کو کم کرنا تھا۔ الیکشن کمیشن نے ابتدا میں تصدیق کے لیے 11 دستاویزات کی نشاندہی کی تھی، تاہم بعد میں سپریم کورٹ نے ’آدھار‘ کو بھی ایس آئی آر عمل کے لیے ایک اضافی دستاویز کے طور پر شامل کرنے کی ہدایت دی۔

کئی ریاستوں تک پھیلا عمل

ان میں سے بیشتر عرضیاں گزشتہ سال جون میں دائر کی گئی تھیں، جب الیکشن کمیشن نے بہار میں ایس آئی آر عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد اس عمل کو مغربی بنگال، کیرلم اور تمل ناڈو سمیت کئی دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں تک بھی توسیع دی گئی۔

الیکشن کمیشن کا موقف

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس نظرثانی کا بنیادی مقصد ووٹر فہرستوں کی درستگی یقینی بنانا اور کسی بھی قسم کے ڈپلیکیٹ یا نااہل ووٹروں کے نام شامل ہونے سے روکنا ہے۔ دونوں فریقین کے دلائل تفصیل سے سننے کے بعد چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے 29 جنوری کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read