Bharat Express DD Free Dish

ECI

گیانیش کمار کی معطلی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اگر فیصلے مطلوبہ اتفاق رائے کے بغیر کیے جانے کی بات ثابت ہوئی تو انہیں واپس لینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

عرضی گزار نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ گیانیش کمار کو عبوری طور پر چیف الیکشن کمشنر کے فرائض انجام دینے سے روکا جائے اور کمیشن کے معاملات باقی دونوں الیکشن کمشنروں کے ذریعے چلانے کی ہدایت دی جائے۔ عرضی میں بنیادی طور پر عدالت سے یہ اعلان کرنے کی درخواست کی گئی ہے کہ آرٹیکل 324 کے تحت اختیارات کا استعمال دفعہ 18 کے مطابق کثیر رکنی الیکشن کمیشن کو اجتماعی طور پر کرنا چاہیے۔

سپریم کورٹ بدھ کے روز اُن عرضیوں کے سلسلے میں اہم فیصلہ سنانے جا رہا ہے جن میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کی جانب سے ووٹر فہرستوں کی ’خصوصی گہری نظرثانی‘ (ایس آئی آر) کرانے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے۔

آسام اسمبلی انتخابات 2026 کے لیے ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو صبح 7 بجے شروع ہوگی۔ 126 سیٹوں پر 722 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ چند گھنٹوں میں ہو جائے گا۔

چیف آف آرمی اسٹاف (سی ڈی ایس) اُپیندر دویویدی کے بیان پر طارق انور نے کہا کہ بھارت پوری فلم دیکھنا چاہتا تھا، لیکن درمیان میں اس فلم کو وزیر اعظم یا حکومتِ ہند کی جانب سے روک دیا گیا۔ اُس وقت جو ماحول تھا، ہمارے جوان جس طرح آگے بڑھ رہے تھے اور ان کا حوصلہ بلند تھا، یہ ایک اچھا موقع تھا کہ ہم پی او کے کو واپس لے سکتے تھے۔

ایک ایڈیشنل سی ای او سطح کا افسر ضلع مجسٹریٹس کے ساتھ روزانہ کی پیشرفت کا جائزہ لے گا، جبکہ ایک جوائنٹ سی ای او سطح کا افسر اضلاع میں عمل کی نگرانی کے لیے الیکٹورل رجسٹریشن افسروں (EROs) کے ساتھ رابطہ قائم کرے گا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کا مقصد ووٹر لسٹ کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

کمیشن کے مطابق ابتدائی انتخابی فہرست میں شامل 7.24 کروڑ ووٹرز میں سے اب تک 0.16 فیصد کی جانب سے دعوے اور اعتراضات موصول ہوئے ہیں۔

ای سی آئی نے ہدایت کی کہ ان کے خلاف ’’مناسب تادیبی کارروائی‘‘ شروع کی جائے اور ’’مجرمانہ بدانتظامی‘‘ کے لیے ایف آئی آر درج کی جائے۔

ای سی آئی نے تمام اضلاع کو حکم دیا ہے کہ وہ رنکو کے نام یا تصویر والے پروموشنل مواد، جیسے کہ پوسٹرز، بینرز، ویڈیوز اور ڈیجیٹل مواد کو ہٹا دیں۔

کمیشن نے کہا کہ جن اہل ووٹروں کے نام رہ گئے ہیں انھیں 1 اگست سے 1 ستمبر کے درمیان عمل کے اگلے مرحلے کے دوران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔