Bharat Express DD Free Dish

ECI

سپریم کورٹ بدھ کے روز اُن عرضیوں کے سلسلے میں اہم فیصلہ سنانے جا رہا ہے جن میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کی جانب سے ووٹر فہرستوں کی ’خصوصی گہری نظرثانی‘ (ایس آئی آر) کرانے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے۔

آسام اسمبلی انتخابات 2026 کے لیے ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو صبح 7 بجے شروع ہوگی۔ 126 سیٹوں پر 722 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ چند گھنٹوں میں ہو جائے گا۔

چیف آف آرمی اسٹاف (سی ڈی ایس) اُپیندر دویویدی کے بیان پر طارق انور نے کہا کہ بھارت پوری فلم دیکھنا چاہتا تھا، لیکن درمیان میں اس فلم کو وزیر اعظم یا حکومتِ ہند کی جانب سے روک دیا گیا۔ اُس وقت جو ماحول تھا، ہمارے جوان جس طرح آگے بڑھ رہے تھے اور ان کا حوصلہ بلند تھا، یہ ایک اچھا موقع تھا کہ ہم پی او کے کو واپس لے سکتے تھے۔

ایک ایڈیشنل سی ای او سطح کا افسر ضلع مجسٹریٹس کے ساتھ روزانہ کی پیشرفت کا جائزہ لے گا، جبکہ ایک جوائنٹ سی ای او سطح کا افسر اضلاع میں عمل کی نگرانی کے لیے الیکٹورل رجسٹریشن افسروں (EROs) کے ساتھ رابطہ قائم کرے گا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کا مقصد ووٹر لسٹ کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

کمیشن کے مطابق ابتدائی انتخابی فہرست میں شامل 7.24 کروڑ ووٹرز میں سے اب تک 0.16 فیصد کی جانب سے دعوے اور اعتراضات موصول ہوئے ہیں۔

ای سی آئی نے ہدایت کی کہ ان کے خلاف ’’مناسب تادیبی کارروائی‘‘ شروع کی جائے اور ’’مجرمانہ بدانتظامی‘‘ کے لیے ایف آئی آر درج کی جائے۔

ای سی آئی نے تمام اضلاع کو حکم دیا ہے کہ وہ رنکو کے نام یا تصویر والے پروموشنل مواد، جیسے کہ پوسٹرز، بینرز، ویڈیوز اور ڈیجیٹل مواد کو ہٹا دیں۔

کمیشن نے کہا کہ جن اہل ووٹروں کے نام رہ گئے ہیں انھیں 1 اگست سے 1 ستمبر کے درمیان عمل کے اگلے مرحلے کے دوران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

مرکزی حکومت اور نتیش کمار کی ریاستی حکومت، دونوں پر تنقید کرتے ہوئے آر جے ڈی لیڈر نے کہا کہ اگر ووٹر لسٹ میں کوئی ’’مشکوک نام‘‘ شامل کیا گیا ہے تو اس کی ذمہ داری بہار کی اس حکومت پر عائد ہوتی ہے جو 2005 سے اقتدار میں ہے۔

ممتا بنرجی نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ اعلان بہار کے بہانے کیا گیا ہے، لیکن اس کا اصل ہدف بنگال ہے۔