Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور ویجلنس اینڈ اینٹی کرپشن بیورو (وی اے سی بی) دو الگ الگ معاملات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ایسے میں سپریم کورٹ وجین کے لیے اگلا قانونی محاذ بن گیا ہے۔ تحقیقات میں کسی بھی قسم کی تیزی سی پی آئی (ایم) کے سیاسی بحران کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔

چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی کی بنچ نے سپریم کورٹ کے احاطے کے باہر حال ہی میں نکالے گئے احتجاجی مارچ اور ایس آئی آر سے متعلق بے ضابطگیوں کے معاملات پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے دونوں فریقوں سے جواب طلب کیا ہے اور سپریم کورٹ کے احاطے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے کی سخت ہدایت بھی دی ہے۔

سماعت کے دوران راجپال یادو کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اداکار کو ایک پروگرام میں شرکت کے لیے کینیڈا جانا ہے۔ وہاں ہونے والے پروگرام سے انہیں کچھ رقم ملنے کی امید ہے، جس سے انہیں مالی مدد حاصل ہو سکتی ہے۔ اس پر سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کو راجپال یادو کا پاسپورٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے سوال کیا کہ آخر دونوں فریق آپس میں بیٹھ کر اس معاملے کو کیوں نہیں سلجھا لیتے؟

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک عزت کیس میں سپریم کورٹ نے راہل گاندھی کو راحت دیتے ہوئے نچلی عدالت کی کارروائی پر عبوری روک لگا دی۔ عدالت نے مہاراشٹر حکومت اور شکایت کنندہ سے جواب طلب کیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ’انڈیا‘ بلاک اپنے احتجاج کو وسیع تحریک میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔ سڑکوں پر مظاہروں اور سپریم کورٹ میں قانونی لڑائی کے بعد اپوزیشن نومبر میں ایک بڑی ریلی کے ذریعے اس معاملے کو قومی سطح پر اٹھانے کی تیاری کر سکتی ہے۔

پیر کو قائم مقام چیف جسٹس نتن سامبرے نے دو عرضیوں کو سماعت کے لیے فہرست میں شامل کرنے سے انکار کردیا تھا۔ انہوں نے اس کی وجہ سپریم کورٹ میں احتجاجی مظاہروں سے متعلق عرضیوں کا زیر التوا ہونا بتایا تھا۔ تاہم، انہوں نے کہا تھا کہ ان عرضیوں کو منگل کو سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا جائے گا۔

ووٹ چوری کے الزامات اور ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے دہلی میں مارچ نکالا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کے اس احتجاج میں بڑی تعداد میں کارکنوں اور شہری تنظیموں کے ارکان نے شرکت کی۔ مارچ کی قیادت اپوزیشن کے سینئر رہنماؤں نے کی۔مظاہرین نے جھنڈے اور پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔

راہل گاندھی نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ جب تک عرضی میں اٹھائے گئے اہم سوالات پر غور کرکے فیصلہ نہیں کرلیا جاتا، تب تک تمام ریاستوں میں جاری خصوصی گہری نظرثانی کے عمل پر عبوری روک لگائی جائے۔

سپریم کورٹ نے 2018 میں احتجاج پر مکمل پابندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے محدود اور منظم مظاہروں کی اجازت دینے کی ہدایت دی تھی۔ اب رام لیلا میدان، براڑی میدان اور سی بی ڈی گراؤنڈ کو متبادل مقامات مقرر کیے جانے پر قانونی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

راہل گاندھی، اکھلیش یادو اور پرینکا گاندھی سمیت کئی اپوزیشن لیڈر مارچ میں شریک؛ منڈی ہاؤس کے قریب پولیس نے آگے بڑھنے سے روکا، گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ تیز