Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

سپریم کورٹ نے کانگریس کی کیرالہ یونٹ کے عہدیداروں کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی آزادی سیاسی سہولت کا معاملہ نہیں، کسی بھی شخص یا سیاسی تنظیم کو آئین سے بالاتر ہونے کا حق نہیں۔

عدالت عالیہ نے آلودگی کے لیے صرف پرالی جلانے کو ذمہ دار ٹھہرانے پر سوال اٹھاتے ہوئے امیر طبقے کی مہنگی گاڑیوں اور ٹریفک سے نکلنے والے دھوئیں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

وہیں گوا حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹرجنرل تشارمہتا نے ترون تیج پال کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ توسزا بڑھانے کا ہے۔ اس سے پہلے 6 اگست کو بامبے ہائی کورٹ نے ترون تیج پال کو ریپ کا قصوروارقراردیتے ہوئے 10 سال کی سخت قید کی سزا سنائی تھی۔ ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کو پلٹ دیا تھا، جس میں پانچ سال پہلے ترون تیج پال کو بری کر دیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران کپل سبل نے کہا کہ ان کے موکل کی عمر 80 سال ہے، ان کے خلاف 28 مقدمات درج ہیں اور ایک ای سی آئی آر بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مکمل طور پر ہراسانی کا معاملہ ہے۔ کپل سبل نے دلیل دی کہ جس واقعہ کا تعلق 2006 سے بتایا جا رہا ہے، اس میں 2019 میں ایف آئی آر درج کی گئی، جبکہ اس وقت اعظم خان اقتدار میں نہیں تھے۔

یہ معاملہ اتر پردیش کے ضلع سلطان پور کے اسمبلی حلقہ 191-کادی پور سے متعلق ہے۔ درخواست گزار جگدیش سنگھ اسی حلقے کے ووٹر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کادی پور اسمبلی حلقہ قائم ہونے کے بعد سے تقریباً سات دہائیوں سے درج فہرست ذاتوں کے لیے مخصوص ہے۔

جسٹس ایم ایم سندریش نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) ایشوریہ بھاٹی سے اخبار میں شائع ہونے والی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بازاروں میں ہر طرح کے پٹاخے دستیاب ہیں۔ جسٹس سندریش نے کہا کہ لائسنس یافتہ ہوں یا بغیر لائسنس والے، کیو آر کوڈ والے ہوں یا بغیر کیو آر کوڈ والے، ہر طرح کے پٹاخے بازاروں میں مل رہے ہیں۔ جبکہ سپریم کورٹ نے صرف گرین پٹاخوں کو مخصوص شرائط اور مقررہ وقت کے اندر جلانے کی اجازت دی ہے۔

فضائی آلودگی کے بڑھتے خطرے کے درمیان سپریم کورٹ نے 7 اور 8 نومبر کو محدود وقت کے لیے مصدقہ گرین پٹاخے جلانے کی اجازت دے دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کم آلودگی کا دعویٰ کرنے والے یہ پٹاخے دہلی کی زہریلی ہوا کو مزید خراب ہونے سے روک پائیں گے؟

جسٹس ایم ایم سندریش اورجسٹس پرسنّا بی ورالے کی بنچ نے 29 اکتوبر کے اپنے حکم میں محدود مدت کے لیے صرف تصدیق شدہ گرین پٹاخوں کی تیاری، فروخت اوراستعمال کی اجازت دی ہے۔ 7 اور8 نومبر2026 کوصبح 6 بجے سے 7 بجے تک اوررات 8 بجے سے 10 بجے تک ہی پٹاخے جلائے جا سکیں گے۔ اسپتالوں، نرسنگ ہوم، صحت مراکز، اولڈ ایج ہوم، تعلیمی اداروں اورنوٹیفائیڈ خاموش علاقوں کے 300 میٹرکے دائرے میں پٹاخے جلانے پر پابندی رہے گی۔

سماعت کے دوران اتر پردیش حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ معاملے کی جانچ مکمل ہونے کے بعد چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے۔ اس کے بعد عدالت نے معاملے کی نگرانی جاری رکھنے کے بجائے عرضیوں کو نمٹا دیا۔ بنچ نے کہا کہ یہ صرف ملزم اور ریاست کے درمیان کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس میں عوامی مفاد کا پہلو بھی شامل ہے۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کا یہ مقدمہ رام پور میں ’مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ‘ اور ’جوہر یونیورسٹی‘ کے قیام کے دوران سرکاری فنڈز کے غلط استعمال اور غیر مصدقہ ذرائع سے رقوم حاصل کرنے کے الزامات سے متعلق ہے۔ اس تفتیش کے حصے کے طور پر، ای ڈی (ای ڈی) نے جوہر یونیورسٹی سے منسلک 1,170 کروڑ روپے مالیت کے اثاثے بھی ضبط کر لیے ہیں۔