Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

دہلی-این سی آر میں خواتین اور بچوں کی سلامتی سے متعلق دو سنگین معاملات پر چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی میں خصوصی بنچ سماعت کرے گی، سلیپر بس میں 16 سالہ طالبہ سے اجتماعی زیادتی اور موج پور کے پلے اسکول میں 3 سالہ بچے کے مبینہ جنسی استحصال کے معاملے میں اسٹیٹس رپورٹ طلب کیے جانے کا امکان

سپریم کورٹ نے 2008 کے احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکوں کے معاملے میں سزائے موت پانے والے مجرم احمد باوا کی پھانسی پر روک لگا دی ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں گجرات حکومت سے جواب بھی طلب کیا ہے۔

جسٹس سوریہ کانت نے اپنے نام سے منسوب ایک الگ اینٹی ریزرویشن بیان کی تردید کی ہے۔ ایک بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی تصویر میں جسٹس سوریہ کانت سے یہ بیان منسوب کیا گیا ہے کہ اگر کوئی برادری آئی اے ایس، آئی پی ایس افسران، چیف جسٹس، صدر یا وزیر اعظم پیدا کر چکی ہے تو پھر اس کے باوجود پسماندہ رہنے کے لیے برہمنوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

اسٹینڈ اَپ کامیڈین کنال کامرا نے سپریم کورٹ کی 7 رکنی آئینی بنچ کے سامنے درخواست دائر کرکے اپنا موقف رکھنے کی مانگی اجازت، سماعت 6 اکتوبر کو۔

عرضی گزار نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ گیانیش کمار کو عبوری طور پر چیف الیکشن کمشنر کے فرائض انجام دینے سے روکا جائے اور کمیشن کے معاملات باقی دونوں الیکشن کمشنروں کے ذریعے چلانے کی ہدایت دی جائے۔ عرضی میں بنیادی طور پر عدالت سے یہ اعلان کرنے کی درخواست کی گئی ہے کہ آرٹیکل 324 کے تحت اختیارات کا استعمال دفعہ 18 کے مطابق کثیر رکنی الیکشن کمیشن کو اجتماعی طور پر کرنا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے غیر قانونی احتیاطی حراست کا حکم جاری کرنے پر اتر پردیش حکومت پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ متعلقہ حکام نے معاملے کے حالات پر مناسب غور نہیں کیا اور اپنے اختیارات کا درست استعمال نہیں کیا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ صرف ای-چالان جاری کرنا کافی نہیں، بقایا جرمانوں کی وصولی کے لیے مؤثر اقدامات ضروری، بجلی کے بل کے ساتھ چالان کی رقم وصول کرنے سمیت کئی تجاویز زیرِ غور

اے آئی ٹی سی کے نام اور ’پھول اور گھاس‘ انتخابی نشان پر دونوں دھڑوں کے درمیان جاری تنازع پر سپریم کورٹ کا اہم حکم، دونوں فریقوں کو 4 ہفتوں میں حلف نامے اور جوابی حلف نامے داخل کرنے ہوں گے، اس کے بعد کمیشن کو فیصلہ کے لیے 3 ماہ کا وقت ملے گا۔

۔اس معاملے میں بس کی نگرانی کے انتظامات پر بھی سوال اٹھے تھے۔ بتایا گیا کہ بس کے خلاف 11 ٹریفک چالان تھے اور اس میں نصب سی سی ٹی وی کیمرہ بھی کام نہیں کر رہا تھا۔ بس کئی پولیس چیک پوسٹوں سے گزری، لیکن اسے روکا نہیں گیا۔

وانگچک نے کہا کہ 24 ستمبر 2025 کو لداخ میں ’’یوم شہدا‘‘ منایا گیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس دن میڈیا بلیک آؤٹ جیسا ماحول تھا اور پی ٹی آئی، اے این آئی سمیت کئی میڈیا اداروں کی موجودگی نہیں تھی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا میڈیا کو کسی خبر کو دکھانے یا روکنے کے لیے کنٹرول کیا جا رہا ہے؟ وانگچک نے کہا، ’’میں پوچھنا چاہتا ہوں، کیا ایسی خبر دکھانے کے لیے میڈیا کو بلیک آؤٹ کیا جاتا ہے؟‘