Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

عدالت نے دہلی، آسام، مغربی بنگال اور بہار میں طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم دہلی پولیس کو ان 2,873 افراد کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے جن کے خلاف پہلے سے مجرمانہ مقدمات کا ریکارڈ موجود ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی ریاست میں اسی احتجاج سے متعلق ایسی کوئی ایف آئی آر موجود ہے جس کی اطلاع عدالت کو ابھی نہیں دی گئی، تو اسے بھی منسوخ کرنے کی درخواست کی جا سکتی ہے اور ریاستیں اس کی مخالفت نہیں کریں گی۔

سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ سے آرٹیکل 142 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ فریقین کے درمیان سمجھوتے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایف آئی آر منسوخ کرنے کے لیے درخواست دائر کی جا رہی ہے۔ اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اگر فریقین آپس میں سمجھوتہ کر رہے ہیں تو عدالت کو اس میں کوئی دشواری نہیں ہے۔

ابھیشیک منوسنگھوی نے بتایا کہ دیپک پرابتدا میں بی این ایس کی دفعہ 191 کے تحت فساد کرنے کا الزام لگایا گیا تھا، لیکن بعد میں اسے ہٹا دیا گیا، کیونکہ اس دفعہ کے اطلاق کی کوئی بنیاد نہیں ملی۔ انہوں نے عدالت کوبتایا کہ دیپک کے خلاف عائد جرائم میں 7 سال سے کم کی سزا کی گنجائش ہے، اس لیے سپریم کورٹ کی جانب سے ارنیش کمار معاملے میں دی گئی ہدایات بھی لاگوہوتی ہیں۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اسے یقین ہے کہ حکومت قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کرے گی۔ عدالت نے کہا کہ فی الحال اس کے سامنے ایسی کوئی بات نہیں ہے جس کی بنیاد پر اسے اس کے برعکس رائے قائم کرنے کی ضرورت ہو۔ بنچ نے کہا کہ تمام متعلقہ افراد سے ذمہ دارانہ اور پرامن رویے کی توقع کی جاتی ہے۔

صارفین کو دیے جانے والے ہر بل یا رسید پر فروخت کیے گئے پٹرول میں موجود ایتھنول کی مقدار واضح اور نمایاں حروف میں درج کرنا لازمی کیا جائے۔

سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید نے کہا کہ سپریم کورٹ یہ فیصلہ کرچکا ہے کہ اس معاملے میں اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے کہ کوئی مذہبی عمل کتنا ضروری ہے۔ صرف یہ طے کرنا ہے کہ ایک فرد کے بنیادی حقوق کیا ہیں، وہ کیا لباس پہننا چاہتا ہے، کیا کھانا چاہتا ہے، کہاں تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے اورکس طرح زندگی گزارنا چاہتا ہے۔

 تہلکہ میگزین کے سابق ایڈیٹر ترون تیج پال نے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔ حالانکہ انہیں راحت نہیں ملی۔ انہوں نے سرینڈر سے چھوٹ مانگی تھی۔ ہائی کورٹ نے انہیں سرینڈر کرنے کے لیے چار ہفتے کا وقت دیا تھا۔ اس کے بعد تیج پال نے سپریم کورٹ سے سرینڈر کرنے سے رعایت دینے کی درخواست کی تھی۔

اپنے بھائی کے قتل کے معاملے میں سزا کاٹ رہے 105 سالہ رسک چندر منڈل کو سپریم کورٹ نے بڑی راحت دی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے ان کی انتہائی عمر اور خراب صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے عمر قید کی سزا معاف کر دی ہے۔ اب انہیں دوبارہ جیل نہیں جانا ہوگا۔

کمیٹی میں پنجاب وہریانہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس روی شنکرجھا، دہلی ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس شالندرکور، سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر رشی کمار شکلا اور میگھالیہ کے ریٹائرڈ ڈائریکٹرجنرل آف پولیس (ڈی جی پی) ڈاکٹر ایل آربشنوئی شامل ہیں۔ یہ کمیٹی پولیس، نیم فوجی دستوں اور دیگر سیکورٹی اہلکاروں کی طرف سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے تحاشہ استعمال کے الزامات کی تحقیقات کرے گی۔

نئی دہلی۔ بچوں کے لیے کھیل اور جسمانی سرگرمیوں کو بنیادی حق قرار دینے کے مطالبے پر سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہوئی۔ عدالت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اگلی سماعت کے لیے 22 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ تاہم، سپریم کورٹ نے فی الحال کھیل کو بنیادی حق قرار نہیں دیا ہے۔