Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

سپریم کورٹ نیٹ یو جی 2026 پیپر لیک اور جنتر منتر طلبہ احتجاج سے متعلق مقدمات کی اگلی سماعت 18 اگست کو کرے گی۔ عدالت نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے یا انہیں بند کرنے کا اختیار متعلقہ ریاستی حکومتوں کے پاس ہے۔

حکومت کے مطابق، 2011 سے اب تک عدالتی بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی پر 9,800 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کے باوجود بھارت کا عدالتی نظام اب بھی زیر التوا مقدمات کے بڑے بوجھ سے دوچار ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ پولیس کی مبینہ زیادتیوں کی تحقیقات کے لیے پولیس افسران پر مشتمل خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) یا کسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے پر غور کر رہی ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 18 اگست مقرر کر دی ہے۔

سپریم کورٹ نے حکومت سے یہ بھی جاننا چاہا ہے کہ اگر جنتر منتر موجودہ حالات میں مناسب مقام نہیں تو کیا دہلی میں کسی دوسری جگہ کو احتجاجی مظاہروں کے لیے مختص کیا جا سکتا ہے، جہاں ایک طرف شہریوں کے آئینی حقِ احتجاج کا تحفظ ہو اور دوسری جانب عام لوگوں کی روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو۔عدالت نے اپنے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے،

ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے مدھیہ پردیش کے ضلع کھنڈوا میں 25 رہائشی مکانات کو منہدم کیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ آف انڈیا سے فوری عبوری تحفظ حاصل کر لیا ہے، جس کے نتیجے میں مجوزہ انہدامی کارروائی فی الحال روک دی گئی ہے۔

مسلم فریق کے سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے معاملے کا ذکر کیا، جس پر چیف جسٹس نے سماعت جمعرات کو مقرر کرنے کی ہدایت دی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے پوچھا کہ متبادل مقام کی تفصیلات مسلم فریق کو کیوں نہیں دی گئیں۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا 26 دسمبر 2024 کو انتقال ہو چکا تھا، جس کے باعث ان کے خلاف جاری سمن عملی طور پر غیر مؤثر ہو چکا تھا۔ تاہم، ان کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل کی درخواست پر سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت کے حکم کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا۔

دہلی کے جنترمنترپرسی جے پی کے احتجاج کے دوران مظاہرین کے لئے کھانے کا انتظام کرنے والے جنید ملک نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے دہلی اورغازی آباد پولیس پرغیرقانونی حراست، دھمکانے اوراہل خانہ کو ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے کہا ہے کہ وہ پولیس کی مبینہ بربریت کوروکنے اورکسی بھی طرح کی تحقیقات قانونی دائرہ کارمیں کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

عدالت نے سبھی ریاستوں کی پولیس کوان کے یہاں درج ایف آئی آر کی جانچ جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگلی سماعت تک مظاہرین کے خلاف گرفتاری جیسی کوئی تعزیری کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

جنترمنتر پرہوئے احتجاجی مظاہرہ کے دوران زخمی پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے ڈیوٹی کے دوران پولیس اہلکار کے لئے مضبوط قانونی سیکورٹی اور واضح گائیڈ لائن کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست میں تشدد بھڑکانے والوں کے احتساب اورپولیس اہلکاروں کی حفاظت کے لئے یکساں رہنما خطوط تیارکرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔