SC Strict on Closing Metro Stations: جنتر منتر مظاہرے کے دوران میٹرو اسٹیشن بند کرنے پر سپریم کورٹ سخت، مرکز، دہلی حکومت اور ڈی ایم آر سی سے جواب طلب
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون و نظم برقرار رکھنا بنیادی طور پر انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، تاہم اگر اس اختیار کا استعمال ضرورت سے زیادہ یا غیر متناسب انداز میں کیا جاتا ہے تو عدالت اس کا جائزہ لے سکتی ہے۔ جسٹس باگچی نے کہا کہ ایسے معاملات میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کی بات کرنا آسان ہے، لیکن عملی طور پر صورت حال مختلف ہو سکتی ہے۔
Swatantra Bhardwaj Case: سوتنتر بھاردواج معاملے میں چیف جسٹس سخت، اگر سماج دشمن عناصر نے بچوں کے خلاف تشدد کیا ہے اور وہ اب بھی آزاد ہیں، تو یہ سنگین معاملہ ہے
وکیل نے معاملہ عدالت کے سامنے رکھتے ہوئے یہ الزام بھی لگایا کہ جن لوگوں نے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران حملہ کیا تھا، انہیں بعد میں 4 پولیس اہلکاروں کے ساتھ دیکھا گیا۔ وکیل کے مطابق اس بات کے ثبوت کے طور پر ویڈیوز بھی موجود ہیں۔
NEET PG 2026 کی انسر اور رسپانس شیٹ کب آئے گی؟ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بدلا یہ ضابطہ
امیدواروں کو جواب کلید، نتیجے اور دیگر تازہ معلومات کے لیے صرف سرکاری ویب سائٹس پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔ گزشتہ سال NEET PG کا اسکور کارڈ جاری ہونے کے ساتھ ہی حتمی جواب کلید بھی جاری کی گئی تھی۔
Supreme Court: ابوسلیم نہیں ہوں گےرہا، سپریم کورٹ نے مسترد کی درخواست، پہلے بھی کر چکا ہے، رہائی کی کوشش
ابوسلیم کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل رشی ملہوترا نے دلیل دی کہ جیل میں اچھے برتاؤ کے لیے ملی سزا میں چھوٹ اور مقدمے کی کارروائی کے دوران جیل میں گزاری گئی مدت کو شامل کرنے کے بعد اس کی 25 سال کی سزا مکمل ہو چکی ہے۔ملہوترا نے یہ بھی کہا کہ اب ابوسلیم کو جیل میں رکھنا غیر قانونی حراست کے مترادف ہے اور یہ اس کے آئینی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔
Rahul Gandhi is no VVIP: راہل گاندھی کوئی VVIP نہیں، سپریم کورٹ میں دلیل پر چیف جسٹس سوریہ کانت بولے- ہمارے لیے سب برابر ہیں
گورو بھاٹیہ نے کہا، ’’وہ کوئی VVIP نہیں ہیں۔ معاملہ 5 ماہ پہلے بھی فہرست میں شامل کیا گیا تھا، لیکن اس پر سماعت نہیں ہوئی۔ یہ ادارے کے لیے بھی اچھی بات نہیں ہے۔‘‘اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا، ’’ہمیں طریقۂ کار پر عمل کرنے دیں۔ جلد سماعت کے لیے درخواست دائر کریں۔ ہمارے لیے سب برابر ہیں۔ براہ کرم جلد سماعت کے لیے درخواست دائر کریں۔ ہم اس پر سماعت کریں گے۔‘‘
Rajpal Cheque Bounce Case: چیک باؤنس کیس، راجپال یادو نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں دی چیلنج، 15 ستمبر کو اگلی سماعت
یہ قانونی تنازع 2010 کا ہے، جب راجپال یادو نے اپنی پہلی ہندی فلم ’اتا پتا لاپتا‘ بنانے کے لیے دہلی کی کمپنی مُرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے تقریباً 5 کروڑ روپے کا قرض لیا تھا۔ وقت پر ادائیگی نہ ہونے اور سود بڑھنے کے باعث یہ رقم تقریباً 9 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ راجپال یادو اب تک کمپنی کو 4 کروڑ 25 لاکھ روپے ادا کر چکے ہیں، تاہم باقی رقم اور جرمانے کو لے کر تنازع عدالت میں چلتا رہا۔
Saharanpur Mosque Demolition: ’’دوسرے مذہب کے عقیدے سے کھلواڑ کرنے والے سناتنی نہیں ہو سکتے…‘‘، مسجد انہدام معاملے میں اکھلیش یادو کا یوگی حکومت پر نشانہ
اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی کو بتانا چاہیے کہ اگر کسی معاملے میں عدالتی کارروائی آگے بڑھ سکتی تھی تو جلد بازی میں ایسی کارروائی کیوں کی گئی۔ انہوں نے صحافیوں سے بھی اپیل کی کہ کسی بھی معاملے کو سیاسی دباؤ یا چمک دمک کے اثر میں توڑ مروڑ کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔
Supreme Court’s Important Decision: نیٹ پیپر لیک کے خلاف مظاہروں سے متعلق مقدمات پر سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کا حکم
عدالت نے دہلی، آسام، مغربی بنگال اور بہار میں طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم دہلی پولیس کو ان 2,873 افراد کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے جن کے خلاف پہلے سے مجرمانہ مقدمات کا ریکارڈ موجود ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی ریاست میں اسی احتجاج سے متعلق ایسی کوئی ایف آئی آر موجود ہے جس کی اطلاع عدالت کو ابھی نہیں دی گئی، تو اسے بھی منسوخ کرنے کی درخواست کی جا سکتی ہے اور ریاستیں اس کی مخالفت نہیں کریں گی۔
Jantar Mantar Protests:جنتر منتر مظاہرے سے متعلق ایف آئی آر منسوخ کرنے کے لیے مرکز نے سپریم کورٹ سے کیا رجوع، یکم ستمبر کو ہوگی سماعت
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ سے آرٹیکل 142 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ فریقین کے درمیان سمجھوتے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایف آئی آر منسوخ کرنے کے لیے درخواست دائر کی جا رہی ہے۔ اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اگر فریقین آپس میں سمجھوتہ کر رہے ہیں تو عدالت کو اس میں کوئی دشواری نہیں ہے۔
محمد دیپک کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، مسلم دکاندار کی حمایت کے بعد درج کی گئی ایف آئی آر، کارروائی پر عدالت نے لگائی روک، جانئے پوری تفصیل
ابھیشیک منوسنگھوی نے بتایا کہ دیپک پرابتدا میں بی این ایس کی دفعہ 191 کے تحت فساد کرنے کا الزام لگایا گیا تھا، لیکن بعد میں اسے ہٹا دیا گیا، کیونکہ اس دفعہ کے اطلاق کی کوئی بنیاد نہیں ملی۔ انہوں نے عدالت کوبتایا کہ دیپک کے خلاف عائد جرائم میں 7 سال سے کم کی سزا کی گنجائش ہے، اس لیے سپریم کورٹ کی جانب سے ارنیش کمار معاملے میں دی گئی ہدایات بھی لاگوہوتی ہیں۔





