Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون و نظم برقرار رکھنا بنیادی طور پر انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، تاہم اگر اس اختیار کا استعمال ضرورت سے زیادہ یا غیر متناسب انداز میں کیا جاتا ہے تو عدالت اس کا جائزہ لے سکتی ہے۔ جسٹس باگچی نے کہا کہ ایسے معاملات میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کی بات کرنا آسان ہے، لیکن عملی طور پر صورت حال مختلف ہو سکتی ہے۔

وکیل نے معاملہ عدالت کے سامنے رکھتے ہوئے یہ الزام بھی لگایا کہ جن لوگوں نے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران حملہ کیا تھا، انہیں بعد میں 4 پولیس اہلکاروں کے ساتھ دیکھا گیا۔ وکیل کے مطابق اس بات کے ثبوت کے طور پر ویڈیوز بھی موجود ہیں۔

امیدواروں کو جواب کلید، نتیجے اور دیگر تازہ معلومات کے لیے صرف سرکاری ویب سائٹس پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔ گزشتہ سال NEET PG کا اسکور کارڈ جاری ہونے کے ساتھ ہی حتمی جواب کلید بھی جاری کی گئی تھی۔

ابوسلیم کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل رشی ملہوترا نے دلیل دی کہ جیل میں اچھے برتاؤ کے لیے ملی سزا میں چھوٹ اور مقدمے کی کارروائی کے دوران جیل میں گزاری گئی مدت کو شامل کرنے کے بعد اس کی 25 سال کی سزا مکمل ہو چکی ہے۔ملہوترا نے یہ بھی کہا کہ اب ابوسلیم کو جیل میں رکھنا غیر قانونی حراست کے مترادف ہے اور یہ اس کے آئینی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

گورو بھاٹیہ نے کہا، ’’وہ کوئی VVIP نہیں ہیں۔ معاملہ 5 ماہ پہلے بھی فہرست میں شامل کیا گیا تھا، لیکن اس پر سماعت نہیں ہوئی۔ یہ ادارے کے لیے بھی اچھی بات نہیں ہے۔‘‘اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا، ’’ہمیں طریقۂ کار پر عمل کرنے دیں۔ جلد سماعت کے لیے درخواست دائر کریں۔ ہمارے لیے سب برابر ہیں۔ براہ کرم جلد سماعت کے لیے درخواست دائر کریں۔ ہم اس پر سماعت کریں گے۔‘‘

یہ قانونی تنازع 2010 کا ہے، جب راجپال یادو نے اپنی پہلی ہندی فلم ’اتا پتا لاپتا‘ بنانے کے لیے دہلی کی کمپنی مُرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے تقریباً 5 کروڑ روپے کا قرض لیا تھا۔ وقت پر ادائیگی نہ ہونے اور سود بڑھنے کے باعث یہ رقم تقریباً 9 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ راجپال یادو اب تک کمپنی کو 4 کروڑ 25 لاکھ روپے ادا کر چکے ہیں، تاہم باقی رقم اور جرمانے کو لے کر تنازع عدالت میں چلتا رہا۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی کو بتانا چاہیے کہ اگر کسی معاملے میں عدالتی کارروائی آگے بڑھ سکتی تھی تو جلد بازی میں ایسی کارروائی کیوں کی گئی۔ انہوں نے صحافیوں سے بھی اپیل کی کہ کسی بھی معاملے کو سیاسی دباؤ یا چمک دمک کے اثر میں توڑ مروڑ کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے دہلی، آسام، مغربی بنگال اور بہار میں طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم دہلی پولیس کو ان 2,873 افراد کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے جن کے خلاف پہلے سے مجرمانہ مقدمات کا ریکارڈ موجود ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی ریاست میں اسی احتجاج سے متعلق ایسی کوئی ایف آئی آر موجود ہے جس کی اطلاع عدالت کو ابھی نہیں دی گئی، تو اسے بھی منسوخ کرنے کی درخواست کی جا سکتی ہے اور ریاستیں اس کی مخالفت نہیں کریں گی۔

سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ سے آرٹیکل 142 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ فریقین کے درمیان سمجھوتے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایف آئی آر منسوخ کرنے کے لیے درخواست دائر کی جا رہی ہے۔ اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اگر فریقین آپس میں سمجھوتہ کر رہے ہیں تو عدالت کو اس میں کوئی دشواری نہیں ہے۔

ابھیشیک منوسنگھوی نے بتایا کہ دیپک پرابتدا میں بی این ایس کی دفعہ 191 کے تحت فساد کرنے کا الزام لگایا گیا تھا، لیکن بعد میں اسے ہٹا دیا گیا، کیونکہ اس دفعہ کے اطلاق کی کوئی بنیاد نہیں ملی۔ انہوں نے عدالت کوبتایا کہ دیپک کے خلاف عائد جرائم میں 7 سال سے کم کی سزا کی گنجائش ہے، اس لیے سپریم کورٹ کی جانب سے ارنیش کمار معاملے میں دی گئی ہدایات بھی لاگوہوتی ہیں۔