Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

سپریم کورٹ نے معذور افراد کے بارے میں غیر سنجیدہ مذاق کرنے پر اسٹینڈ اپ کامیڈین اور یوٹیوبر سمے رینا سمیت پانچ افراد کے خلاف کیس بند کردیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم اس وقت دیا جب درخواست گزار این جی او نے بتایا کہ سمے رینا اب اس کے رابطے میں ہیں اور اسپائنل مسکیولر ایٹروفی (ایس ایم اے) سے متاثرہ افراد کی کامیابیوں کے بارے میں بیداری پھیلانے کے لیے کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔

 لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی کوویرساورکرکی توہین معاملے میں بڑی راحت مل ہے۔ سپریم کورٹ نے ان کے خلاف لکھنوکی عدالت سے جاری سمن کومنسوخ کردیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے مختلف فیصلوں میں واضح کیا ہے کہ نااہلی کی عرضیوں پر فیصلہ کرتے وقت اسپیکر عدالتی یا ٹریبونل جیسے فرائض انجام دیتے ہیں اور ان کے فیصلے کا عدالتی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ نااہلی سے متعلق عرضیوں پر ابتدائی فیصلہ کرنے کے لیے اسپیکر ہی متعلقہ آئینی اتھارٹی ہیں، تاہم انہیں غیر جانب دار،

راہل گاندھی نے ہائی کورٹ کی اس ہدایت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے اس عمل پر سوال اٹھایا ہے، جو ششر کی شکایت کی بنیاد پر شروع کیا گیا تھا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ راہل گاندھی کے پاس ان کی معلوم آمدنی کے ذرائع سے زیادہ اثاثے ہیں۔

 سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ان لوگوں کی اپیلوں کے نمٹارے کی جانکاری دینے کا حکم دیا ہے، جن کے نام مغربی بنگال میں ای سی آئی کی اسپیشل انٹینسیورویژن (ایس آئی آر) عمل کے دوران ووٹرلسٹ سے ہٹا دیئے گئے تھے۔

22 جولائی کو سپریم کورٹ نے چھ باغی ارکان کے انضمام پر فوری طور پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس وقت عدالت نے لوک سبھا اسپیکر، لوک سبھا کے سکریٹری اور ان چھ ارکانِ پارلیمنٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا تھا۔ عدالت نے جواب دہندگان سے جواب طلب کرتے ہوئے معاملے کی سماعت دو ہفتے بعد مقرر کی تھی۔

ملاقات کے دوران ایک جذباتی لمحہ بھی سامنے آیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے یوسف پٹھان کے والد کے ساتھ اپنی پرانی ملاقات کو یاد کیا۔ ماضی کی اس ملاقات کا ذکر ہوتے ہی ماحول مزید جذباتی اور دوستانہ ہوگیا۔ یوسف پٹھان کے لیے بھی یہ لمحہ خاص اہمیت کا حامل رہا۔

سپریم کورٹ نیٹ یو جی 2026 پیپر لیک اور جنتر منتر طلبہ احتجاج سے متعلق مقدمات کی اگلی سماعت 18 اگست کو کرے گی۔ عدالت نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے یا انہیں بند کرنے کا اختیار متعلقہ ریاستی حکومتوں کے پاس ہے۔

حکومت کے مطابق، 2011 سے اب تک عدالتی بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی پر 9,800 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کے باوجود بھارت کا عدالتی نظام اب بھی زیر التوا مقدمات کے بڑے بوجھ سے دوچار ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ پولیس کی مبینہ زیادتیوں کی تحقیقات کے لیے پولیس افسران پر مشتمل خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) یا کسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے پر غور کر رہی ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 18 اگست مقرر کر دی ہے۔