Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اسے یقین ہے کہ حکومت قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کرے گی۔ عدالت نے کہا کہ فی الحال اس کے سامنے ایسی کوئی بات نہیں ہے جس کی بنیاد پر اسے اس کے برعکس رائے قائم کرنے کی ضرورت ہو۔ بنچ نے کہا کہ تمام متعلقہ افراد سے ذمہ دارانہ اور پرامن رویے کی توقع کی جاتی ہے۔

صارفین کو دیے جانے والے ہر بل یا رسید پر فروخت کیے گئے پٹرول میں موجود ایتھنول کی مقدار واضح اور نمایاں حروف میں درج کرنا لازمی کیا جائے۔

سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید نے کہا کہ سپریم کورٹ یہ فیصلہ کرچکا ہے کہ اس معاملے میں اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے کہ کوئی مذہبی عمل کتنا ضروری ہے۔ صرف یہ طے کرنا ہے کہ ایک فرد کے بنیادی حقوق کیا ہیں، وہ کیا لباس پہننا چاہتا ہے، کیا کھانا چاہتا ہے، کہاں تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے اورکس طرح زندگی گزارنا چاہتا ہے۔

 تہلکہ میگزین کے سابق ایڈیٹر ترون تیج پال نے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔ حالانکہ انہیں راحت نہیں ملی۔ انہوں نے سرینڈر سے چھوٹ مانگی تھی۔ ہائی کورٹ نے انہیں سرینڈر کرنے کے لیے چار ہفتے کا وقت دیا تھا۔ اس کے بعد تیج پال نے سپریم کورٹ سے سرینڈر کرنے سے رعایت دینے کی درخواست کی تھی۔

اپنے بھائی کے قتل کے معاملے میں سزا کاٹ رہے 105 سالہ رسک چندر منڈل کو سپریم کورٹ نے بڑی راحت دی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے ان کی انتہائی عمر اور خراب صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے عمر قید کی سزا معاف کر دی ہے۔ اب انہیں دوبارہ جیل نہیں جانا ہوگا۔

کمیٹی میں پنجاب وہریانہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس روی شنکرجھا، دہلی ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس شالندرکور، سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر رشی کمار شکلا اور میگھالیہ کے ریٹائرڈ ڈائریکٹرجنرل آف پولیس (ڈی جی پی) ڈاکٹر ایل آربشنوئی شامل ہیں۔ یہ کمیٹی پولیس، نیم فوجی دستوں اور دیگر سیکورٹی اہلکاروں کی طرف سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے تحاشہ استعمال کے الزامات کی تحقیقات کرے گی۔

نئی دہلی۔ بچوں کے لیے کھیل اور جسمانی سرگرمیوں کو بنیادی حق قرار دینے کے مطالبے پر سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہوئی۔ عدالت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اگلی سماعت کے لیے 22 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ تاہم، سپریم کورٹ نے فی الحال کھیل کو بنیادی حق قرار نہیں دیا ہے۔

دہلی پولیس نے سپریم کورٹ میں داخل حلف نامے میں کہا کہ جنتر منتر کے آس پاس تقریباً 30 ہزار افراد موجود تھے، بھیڑ 3 کلومیٹر کے علاقے میں پھیلی ہوئی تھی اور اسے قابو میں رکھنے کے لیے 5 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے

کمیٹی کی تشکیل پر چیف جسٹس نے کہا کہ کمیٹی معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔ ایک وکیل نے تجویز دی کہ دونوں فریقوں کی جانب سے نوڈل وکیل مقرر کیے جائیں، جو عدالت اور کمیٹی کی معاونت کرسکیں۔چیف جسٹس نے بتایا کہ کمیٹی میں شامل ہونے کے لیے ایک سابق سپریم کورٹ جج اور سابق ڈی جی پی سے رضامندی حاصل کرلی گئی ہے۔

تمل ناڈو حکومت کے مطابق، 29 جولائی سے 2 اگست کے درمیان بلگنڈولو میں کاویری ندی کے پانی کا بہاؤ صرف 158 سے 550 کیوسک کے درمیان رہا۔ حکومت نے دعویٰ کیا کہ یہ مقدار مقررہ 3,500 کیوسک یومیہ کے مقابلے میں بہت کم ہے۔تمل ناڈو کا کہنا ہے کہ کاویری کے پانی پر اس کا انحصار خاص طور پر زرعی ضروریات کے لیے اہم ہے۔