Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

سپریم کورٹ نے حکومت سے یہ بھی جاننا چاہا ہے کہ اگر جنتر منتر موجودہ حالات میں مناسب مقام نہیں تو کیا دہلی میں کسی دوسری جگہ کو احتجاجی مظاہروں کے لیے مختص کیا جا سکتا ہے، جہاں ایک طرف شہریوں کے آئینی حقِ احتجاج کا تحفظ ہو اور دوسری جانب عام لوگوں کی روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو۔عدالت نے اپنے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے،

ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے مدھیہ پردیش کے ضلع کھنڈوا میں 25 رہائشی مکانات کو منہدم کیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ آف انڈیا سے فوری عبوری تحفظ حاصل کر لیا ہے، جس کے نتیجے میں مجوزہ انہدامی کارروائی فی الحال روک دی گئی ہے۔

مسلم فریق کے سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے معاملے کا ذکر کیا، جس پر چیف جسٹس نے سماعت جمعرات کو مقرر کرنے کی ہدایت دی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے پوچھا کہ متبادل مقام کی تفصیلات مسلم فریق کو کیوں نہیں دی گئیں۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا 26 دسمبر 2024 کو انتقال ہو چکا تھا، جس کے باعث ان کے خلاف جاری سمن عملی طور پر غیر مؤثر ہو چکا تھا۔ تاہم، ان کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل کی درخواست پر سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت کے حکم کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا۔

دہلی کے جنترمنترپرسی جے پی کے احتجاج کے دوران مظاہرین کے لئے کھانے کا انتظام کرنے والے جنید ملک نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے دہلی اورغازی آباد پولیس پرغیرقانونی حراست، دھمکانے اوراہل خانہ کو ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے کہا ہے کہ وہ پولیس کی مبینہ بربریت کوروکنے اورکسی بھی طرح کی تحقیقات قانونی دائرہ کارمیں کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

عدالت نے سبھی ریاستوں کی پولیس کوان کے یہاں درج ایف آئی آر کی جانچ جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگلی سماعت تک مظاہرین کے خلاف گرفتاری جیسی کوئی تعزیری کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

جنترمنتر پرہوئے احتجاجی مظاہرہ کے دوران زخمی پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے ڈیوٹی کے دوران پولیس اہلکار کے لئے مضبوط قانونی سیکورٹی اور واضح گائیڈ لائن کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست میں تشدد بھڑکانے والوں کے احتساب اورپولیس اہلکاروں کی حفاظت کے لئے یکساں رہنما خطوط تیارکرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

دہلی کے بعد اب بہار طلبہ تحریک کا نیا مرکز بن گیا ہے۔ سیوان میں مبینہ اے کے-47 فائرنگ اور طلبہ کی گرفتاریوں کے سلسلے میں شدید سیاسی ہنگامہ برپا ہے۔ معاملہ اب سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔

سپریم کورٹ نے آئین کے دسویں شیڈول کی تشریح کو چیلنج کرنے والی سینئر وکیل کپل سبل کی عرضی پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عرضی میں اس قانونی شق پر سوال اٹھایا گیا ہے، جس کے تحت کسی سیاسی جماعت میں انضمام کے ذریعے اراکینِ اسمبلی اینٹی ڈیفیکشن قانون کے تحت نااہلی سے بچ سکتے ہیں۔

چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ مضبوط جمہوریت کے لیے خود نظم و ضبط بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انہوں نے تمام فریقین سے عدالت کی غیر جانبدارانہ انداز میں معاونت کرنے کی اپیل کی۔ مرکز کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو یقین دلایا کہ حکومت اس معاملے میں مکمل غیر جانبداری کے ساتھ عدالت کی معاونت کرے گی۔