Bharat Express DD Free Dish

SC Upholds EC’s Power To Conduct SIR: ’’ایس آئی آر کو غیر آئینی قرار نہیں دے سکتے…آزاد اور منصفانہ انتخابات ضروری… سپریم کورٹ کا اسپیشل انٹینسیو ریویژن پر بڑا فیصلہ

سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہماری رائے میں ایس آئی آر کے دوران اٹھائے گئے اقدامات ضرورت کے مطابق تھے۔ ووٹر پر خود کو ثابت کرنے کا بوجھ ڈالنے کی دلیل ہم قبول نہیں کرتے۔

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے بدھ 27 مئی کو ووٹر فہرستوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں کوئی آئینی خامی نہیں ہے اور اسے غیر آئینی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ آزاد اور منصفانہ انتخابات جمہوریت کی بنیاد ہیں، اس لیے الیکشن کمیشن کو ووٹر فہرستوں کی درستگی یقینی بنانے کا اختیار حاصل ہے۔ چیف جسٹس سوریہ  کانت اور جسٹس جوی مالیا باغچی پر مشتمل بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنی آئینی طاقتوں کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کی ہے، نہ کہ اس سے باہر جا کر۔

’ایس آئی آر میں کوئی خامی نہیں‘

سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا، “ہماری رائے میں ایس آئی آر کے دوران اٹھائے گئے اقدامات ضرورت کے مطابق تھے۔ ووٹر پر خود کو ثابت کرنے کا بوجھ ڈالنے کی دلیل ہم قبول نہیں کرتے۔” عدالت نے مزید کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی پرانی رہائش گاہ چھوڑ کر کہیں اور منتقل ہو گیا ہو تب بھی وہ پرانی ووٹر فہرست یا ایس آئی آر عمل سے مکمل طور پر الگ نہیں ہو جاتا۔ اس کا یا اس کے خاندان کا نام پرانی فہرستوں میں موجود ہو سکتا ہے۔ بنچ نے کہا کہ ایس آئی آر کے دوران کسی نام کا حذف ہونا لازمی طور پر قواعد کے خلاف نہیں مانا جا سکتا۔

دستاویزات کے انتخاب کو من مانا نہیں کہا جا سکتا

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن نے دستاویزات کو ان کی ’اعتباریت‘ کی بنیاد پر اپنی فہرست میں شامل کیا تھا، اس لیے اس عمل کو من مانا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح طور پر کہا، “یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایس آئی آر کا مقصد صرف لوگوں کو ووٹر فہرست سے باہر کرنا تھا۔”

عرضیوں میں کیا اعتراضات تھے؟

اس معاملے میں طویل سماعت کے بعد عدالت نے سال کے آغاز میں اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ مختلف عرضیوں میں الیکشن کمیشن کی جانب سے شروع کی گئی ایس آئی آر کارروائی کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ یہ عمل آئین کے آرٹیکل 326، عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 اور اس کے تحت بنائے گئے قوانین سے تجاوز کرتا ہے۔

شہریت ثابت کرنے کی شرط پر تنازع

تنازع بنیادی طور پر الیکشن کمیشن کی اُس شرط پر تھا جس کے تحت سال 2002 یا بعض ریاستوں میں 2003 کی ووٹر لسٹ سے باہر رہنے والے افراد کو اپنی شہریت ثابت کرنا ضروری قرار دیا گیا تھا۔ اس کے لیے متعلقہ ووٹرز کو کسی ایسے فرد سے خاندانی تعلق ثابت کرنا تھا جس کا نام اُس وقت کی ووٹر فہرست میں درج ہو۔

درخواست گزاروں نے دلیل دی تھی کہ اس شرط سے غریب، مہاجر اور پسماندہ طبقات کے حقیقی ووٹرز متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس پرانے دستاویزی ثبوت دستیاب نہیں ہوتے۔ حالانکہ، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے موقف کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ ووٹر فہرستوں کی شفافیت اور درستگی جمہوری نظام کے لیے ناگزیر ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read