Bharat Express DD Free Dish

Election Commission

ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے تمام ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کو بیک وقت تحریری درخواستیں دیں، اہل شہریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم نہ کرنے اور قانونی طریقۂ کار و شفافیت یقینی بنانے پر زور

بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی ووٹر فہرست سے میچ نہیں ہو سکا تھا۔ایسے زیادہ تر معروف ووٹر نئی دہلی اسمبلی حلقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انتخابی حکام کے مطابق نوٹس جاری ہونے کا مطلب ووٹر کا نام خود بخود فہرست سے خارج ہونا نہیں ہے۔

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف معطلی اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ راؤت نے ایس آئی آر کے عمل اور الیکشن کمیشن کے کام کاج پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔

راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا، درخواست میں 1980 کی ووٹر لسٹ میں نام شامل ہونے سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔

ممتا بنرجی نے بی جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا، انہوں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ نہ نام رکھنے دوں گا اور نہ نشان رہنے دوں گا۔ یہ لوگ کون ہیں؟ آج اقتدار میں ہیں، کل نہیں رہیں گے۔انہوں نے بی جے پی پر بہار، چھتیس گڑھ، ہریانہ اور مغربی بنگال میں ووٹ چوری کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ ممتا نے کہا کہ بی جے پی ملک میں جمہوریت، آئین اور تعلیمی نظام کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی انتخابات کے لیے نامزدگی کا عمل 9 ستمبر سے شروع ہوگا۔ امیدوار 16 ستمبر تک اپنے نامزدگی کے کاغذات داخل کر سکیں گے۔ نامزدگی کے کاغذات کی جانچ پڑتال 17 ستمبر کو ہوگی، جبکہ امیدوار 19 ستمبر تک اپنی امیدواری واپس لے سکیں گے۔ انتخابی شیڈول کے اعلان کے ساتھ ہی ان تمام حلقوں میں سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہونے کی توقع ہے۔

اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات میں سیٹوں کی تقسیم اور کانگریس کی جانب سے 115 سے 120 نشستوں کے مطالبے پر عمران مسعود نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ یہ اعداد و شمار کہاں سے آئے ہیں۔

دہلی میں 1.45 کروڑ ووٹروں میں سے تقریباً 97.5 لاکھ نام ڈرافٹ لسٹ میں شامل، دعوے اور اعتراضات 30 ستمبر تک داخل کئے جا سکیں گے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کا مقصد کسی بھی اہل ووٹر کو فہرست سے باہر نہ رکھنا اور کسی بھی نا اہل شخص کو ووٹر لسٹ میں شامل ہونے سے روکنا ہے۔

بنگال میں SIR کے38لاکھ معاملات ہیں۔ ان میں سے83 ہزار معاملات میں فیصلہ آ چکا ہے۔90 فیصد کیسز میں نام کاٹنے کو غلط قرار دیا گیا ہے۔ یعنی 90 فیصد نام درست ہیں۔ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا بنگال میں دوبارہ الیکشن ہوں گے؟

الیکشن کمیشن نے ممتا بنرجی اور رتبرتا بنرجی دونوں سے وضاحت طلب کی ہے۔ کمیشن نے دونوں فریقوں کو پیر6 جولائی شام 5:30 بجے تک اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ الیکشن کمیشن کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترنمول کانگریس کے اندر اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔