Bharat Express DD Free Dish

Election Commission

احتجاج کے دوران انڈیا اتحاد کے لیڈران نے الیکشن کمیشن پر ووٹر لسٹ میں گڑبڑی اور ووٹ حذف کرنے کے الزامات عائد کیے۔ مظاہرین نے الیکشن کمیشن کے کام کاج پر سوال اٹھاتے ہوئے سی ای سی گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر فارم-6 میں غیر قانونی اور یکطرفہ تبدیلی کا الزام لگایا تھا، جس پر الیکشن کمیشن نے ان کے دعوے کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہار میں SIR کے لیے جاری حکم کمیشن کی متفقہ منظوری سے جاری ہوا تھا اور سپریم کورٹ بھی اسے برقرار رکھ چکا ہے، اب اسی معاملے پر کانگریس نے ملک بھر میں ’سیو ڈیموکریسی مارچ‘ نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ایک پریس نوٹ شیئر کیا، جس میں فارم-6 سے متعلق سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کا ذکر ہے۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اب یہ بات پوری طرح ثابت ہوچکی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے غیر قانونی اور یک طرفہ طریقے سے ’فارم-6‘ میں تبدیلی کی ہے۔

اویسی نے کہا ’’اگر فرضی فارم 7 داخل کیے جا رہے ہیں تو ہم الیکشن کمیشن سے اپیل کرتے ہیں کہ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اگر یہ ڈراما بند نہیں ہوا تو یاد رکھیں، حیدرآباد کی سڑکوں اور گلیوں میں دہلی کے جنتر منتر سے بھی بڑے احتجاج ہوں گے اور آپ کے لیے بہت مشکلات پیدا ہوں گی۔ مجلس اتحاد المسلمین خاموش نہیں رہے گی۔‘‘

انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاجی مارچ میں کانگریس، این سی پی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی شرکت کی دعوت۔ احتجاج سے قبل سنجے راؤت نے کہا کہ یہ احتجاج جمہوری اداروں، انتخابی عمل اور شہریوں کے آئینی حقوق کو مبینہ طور پر کمزور کرنے کی کوششوں کے خلاف اجتماعی ردعمل ہے۔

گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف مظاہرے، راہل گاندھی نے کہا- ہزاروں نوجوان پُرامن طریقے سے اپنے آئینی حق کا استعمال کر رہے ہیں، مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات کی خبروں کے درمیان سابق جوائنٹ ڈائریکٹر محمد امین نے کہا - اگر الیکشن کمشنروں کو کوئی خط لکھنا تھا تو وزارت قانون و انصاف یا صدر جمہوریہ سے رابطہ کرنا چاہیے تھا، کہا، پورے کمیشن کو ملک کے سامنے اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ بیلا اسٹیٹ کی جھگی بستی میں 728 افراد رہتے ہیں، لیکن SIR کے بعد ووٹر لسٹ میں صرف ایک شخص کا نام باقی بچا ہے، جبکہ 727 نام حذف کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کئی دہائیوں سے یہاں رہ رہے ہیں اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ساتھ 2025 کے دہلی اسمبلی انتخابات میں بھی ووٹ ڈال چکے ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق، 2023 میں ان کے گھر توڑ دیے گئے تھے، لیکن اس کے باوجود یہ لوگ کہیں نہیں گئے اور اب بھی وہیں رہ رہے ہیں۔

اے آئی ٹی سی کے نام اور ’پھول اور گھاس‘ انتخابی نشان پر دونوں دھڑوں کے درمیان جاری تنازع پر سپریم کورٹ کا اہم حکم، دونوں فریقوں کو 4 ہفتوں میں حلف نامے اور جوابی حلف نامے داخل کرنے ہوں گے، اس کے بعد کمیشن کو فیصلہ کے لیے 3 ماہ کا وقت ملے گا۔

اکھلیش نے کہا کہ فارم-7 کے ذریعے گاؤں گاؤں اپوزیشن ووٹروں کے نام حذف کرانے کی کوشش کی گئی اور بعد میں فارم-7 کے عمل پر روک لگائی گئی۔ ایس پی صدر نے کہا کہ ان کی پارٹی 2027 کے اسمبلی انتخابات کے لیے پوری طرح سرگرم ہے۔