Protest Against CEC Gyanesh Kumar: ادھو اور راج ٹھاکرے کی قیادت میں ممبئی میں احتجاجی مارچ، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ
انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاجی مارچ میں کانگریس، این سی پی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی شرکت کی دعوت۔ احتجاج سے قبل سنجے راؤت نے کہا کہ یہ احتجاج جمہوری اداروں، انتخابی عمل اور شہریوں کے آئینی حقوق کو مبینہ طور پر کمزور کرنے کی کوششوں کے خلاف اجتماعی ردعمل ہے۔
Rahul Demands CEC Resignation: ’گیانیش کمار جائیں گے اور انہیں بٹھانے والا سسٹم بھی‘، دہلی-ممبئی میں احتجاج کے درمیان راہل گاندھی کا حملہ
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف مظاہرے، راہل گاندھی نے کہا- ہزاروں نوجوان پُرامن طریقے سے اپنے آئینی حق کا استعمال کر رہے ہیں، مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
Election Commission Dispute: ’کابینہ سکریٹری کو خط لکھنا پروٹوکول کے خلاف‘، الیکشن کمیشن کے سابق افسر محمد امین کا بڑا دعویٰ
الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات کی خبروں کے درمیان سابق جوائنٹ ڈائریکٹر محمد امین نے کہا - اگر الیکشن کمشنروں کو کوئی خط لکھنا تھا تو وزارت قانون و انصاف یا صدر جمہوریہ سے رابطہ کرنا چاہیے تھا، کہا، پورے کمیشن کو ملک کے سامنے اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔
Rahul Gandhi Targets EC: ایس آئی آر معاملے پر راہل گاندھی کا حملہ، کہا۔ ’گیانیش کمار تو جائیں گے، جس سسٹم نے ان سے یہ کروایا، اس کا بھی ہوگا حساب‘
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ بیلا اسٹیٹ کی جھگی بستی میں 728 افراد رہتے ہیں، لیکن SIR کے بعد ووٹر لسٹ میں صرف ایک شخص کا نام باقی بچا ہے، جبکہ 727 نام حذف کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کئی دہائیوں سے یہاں رہ رہے ہیں اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ساتھ 2025 کے دہلی اسمبلی انتخابات میں بھی ووٹ ڈال چکے ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق، 2023 میں ان کے گھر توڑ دیے گئے تھے، لیکن اس کے باوجود یہ لوگ کہیں نہیں گئے اور اب بھی وہیں رہ رہے ہیں۔
TMC Name and Election Symbol Dispute: ترنمول کانگریس کے انتخابی نشان تنازع پر سپریم کورٹ سخت، الیکشن کمیشن کو 4 ماہ میں فیصلہ سنانے کی ہدایت
اے آئی ٹی سی کے نام اور ’پھول اور گھاس‘ انتخابی نشان پر دونوں دھڑوں کے درمیان جاری تنازع پر سپریم کورٹ کا اہم حکم، دونوں فریقوں کو 4 ہفتوں میں حلف نامے اور جوابی حلف نامے داخل کرنے ہوں گے، اس کے بعد کمیشن کو فیصلہ کے لیے 3 ماہ کا وقت ملے گا۔
Akhilesh Yadav on Election Commission: ’’فارم-7 کے ذریعے ایس پی حامیوں کے ووٹ کاٹے گئے…2022 میں الیکشن کمیشن کی گڑبڑی کے باعث نہیں بن سکی حکومت…‘‘، اکھلیش یادو کا بڑا الزام
اکھلیش نے کہا کہ فارم-7 کے ذریعے گاؤں گاؤں اپوزیشن ووٹروں کے نام حذف کرانے کی کوشش کی گئی اور بعد میں فارم-7 کے عمل پر روک لگائی گئی۔ ایس پی صدر نے کہا کہ ان کی پارٹی 2027 کے اسمبلی انتخابات کے لیے پوری طرح سرگرم ہے۔
Ghulam Nabi Azad: سی ای سی گیانیش کمار پر غلام نبی آزاد کا بیان، اپوزیشن کا دوبارہ انتخابات کا مطالبہ غلط نہیں
غلام نبی آزاد نے کہا کہ اس بار دو الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر کے سامنے متعدد مرتبہ سوال اٹھائے اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کہیں کوئی غلط عمل تو نہیں ہو رہا۔ ان کے مطابق دونوں کمشنروں نے اپنی تشویش سے چیف الیکشن کمشنر کو آگاہ کیا۔رپورٹ کے مطابق ان اعتراضات میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے، نئے ووٹروں کے نام شامل کرنے، فارم-6 میں تبدیلی اور ووٹر ڈیٹا کے انتظام سے متعلق معاملات شامل تھے۔
Rahul Gandhi Attacks BJP: گیانیش کمار کو پہلے امپائر بنایا، پھر ’میچ فکسنگ‘ کی ذمہ داری بھی دے دی؟ راہل گاندھی کا بی جے پی پر حملہ
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر اٹھائے سوال، الزام لگایا کہ گیانیش کمار کو بی جے پی کے لیے ’بھرتی‘ کرنے میں استعمال کیا گیا۔
CEC Gyanesh Kumar EC Meeting: تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن کی اہم میٹنگ، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ دونوں کمشنر بھی شریک
چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے ہفتے کے روز ایک اہم میٹنگ کی۔ اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ دونوں الیکشن کمشنروں ڈاکٹر سکھبیر سنگھ سندھو اور ڈاکٹر وویک جوشی نے بھی شرکت کی۔ میٹنگ میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے دوران حذف ہونے والے ناموں سے متعلق دعووں اور اعتراضات کی مدت میں توسیع سمیت کئی اہم فیصلے کیے گئے۔
SIR Controversy: ایس آئی آر پر این ڈی اے میں پھوٹ کے آثار! بی جے پی کے 3 بڑے اتحادی الیکشن کمیشن کے سامنے، مانگی وضاحت
چراغ پاسوان کی ایل جے پی (رام ولاس)، اپیندر کشواہا کی آر ایل ایم اور چندرا بابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی نے انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات کے درمیان کمیشن سے اپنا موقف واضح کرنے کو کہا، کہا- عوام کا اعتماد برقرار رہنا ضروری۔





