Bharat Express DD Free Dish

Election Commission

اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات میں سیٹوں کی تقسیم اور کانگریس کی جانب سے 115 سے 120 نشستوں کے مطالبے پر عمران مسعود نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ یہ اعداد و شمار کہاں سے آئے ہیں۔

دہلی میں 1.45 کروڑ ووٹروں میں سے تقریباً 97.5 لاکھ نام ڈرافٹ لسٹ میں شامل، دعوے اور اعتراضات 30 ستمبر تک داخل کئے جا سکیں گے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کا مقصد کسی بھی اہل ووٹر کو فہرست سے باہر نہ رکھنا اور کسی بھی نا اہل شخص کو ووٹر لسٹ میں شامل ہونے سے روکنا ہے۔

بنگال میں SIR کے38لاکھ معاملات ہیں۔ ان میں سے83 ہزار معاملات میں فیصلہ آ چکا ہے۔90 فیصد کیسز میں نام کاٹنے کو غلط قرار دیا گیا ہے۔ یعنی 90 فیصد نام درست ہیں۔ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا بنگال میں دوبارہ الیکشن ہوں گے؟

الیکشن کمیشن نے ممتا بنرجی اور رتبرتا بنرجی دونوں سے وضاحت طلب کی ہے۔ کمیشن نے دونوں فریقوں کو پیر6 جولائی شام 5:30 بجے تک اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ الیکشن کمیشن کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترنمول کانگریس کے اندر اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ 

مدھیہ پردیش کی دتیا اسمبلی نشست کانگریس کے رکن اسمبلی راجیندر بھارتی کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی۔ دھوکہ دہی کے ایک مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد انہیں ریاستی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیا گیا تھا۔ قابلِ ذکر ہے کہ راجیندر بھارتی نے 2023 کے اسمبلی انتخابات میں سابق وزیر داخلہ اور بی جے پی رہنما نروتم مشرا کو شکست دی تھی۔

 ممتا بنرجی کی مشکلات بڑھتی ہوئی نظرآرہی ہیں۔ جمعرات کو ترنمول کانگریس کے باغی اراکین پارلیمنٹ کے گروپ نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کی اوردوتہائی اراکین اسمبلی کی حمایت کا دعویٰ کیا ہے۔

انڈیا الائنس کی اتحادی پارٹیوں نے ایس آئی آراورالیکشن کمیشن سے متعلق دیگرمسائل کے حوالے سے چیف جسٹس آف انڈیا کوایک مشترکہ خط بھیجا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ 23 ​​پارٹیاں یقین کے اصول پرمضبوطی سے کھڑی ہیں۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے میعاد ختم ہونے کے بعد گرام پردھانوں کو’ایڈمنسٹریٹر‘ بنائے جانے کے فیصلے پر روک لگا دی ہے۔ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں حکومت کے فیصلے کو غیر آئینی بتایا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ جن ووٹروں یا ان کے والدین اور دادا دادی کے نام 2002 کی ووٹر فہرست میں موجود نہیں ہیں، ان سے 12 مخصوص دستاویزات میں سے کسی ایک کی فراہمی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ان میں سے چار دستاویزات تلنگانہ میں عملاً دستیاب ہی نہیں ہیں۔

 راجیہ سبھا رکن سنجے راوت کا کہنا ہے کہ وہپ کی خلاف ورزی کرنے والے اراکین پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہیں شوکازنوٹس بھیجا جائے گا۔ اگر 7 دنوں کے اندر جواب نہیں دیا تو مہنگا پڑے گا۔