نئی دہلی: سونیا گاندھی کے ووٹر لسٹ میں نام شامل ہونے سے متعلق معاملے میں دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے ریویژن پٹیشن منظور کر لی ہے۔ عدالت نے مجسٹریٹ کے اس سابقہ حکم کو منسوخ کر دیا، جس میں معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ اب معاملے کی دوبارہ سماعت ہوگی اور اگلی تاریخ 29 ستمبر مقرر کی گئی ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ سونیا گاندھی کا نام 1980 کی نئی دہلی کی ووٹر لسٹ میں درج تھا، جبکہ ان کے مطابق انہوں نے 30 اپریل 1983 کو بھارتی شہریت حاصل کی تھی۔ اسی بنیاد پر درخواست میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ شہریت حاصل کرنے سے پہلے ان کا نام ووٹر لسٹ میں کیسے شامل ہوا۔
ووٹر لسٹ میں نام شامل ہونے سے متعلق کیا الزام ہے؟
درخواست میں کہا گیا ہے کہ 1980 میں سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میں درج کیا گیا تھا، لیکن 1982 میں اسے فہرست سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے بعد 1983 میں ان کا نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں درج ہوا۔ درخواست گزار نے اسی سلسلے کو بنیاد بناتے ہوئے متعلقہ دستاویزات اور نام ووٹر لسٹ میں شامل کیے جانے کے طریقہ کار کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ تمام الزامات درخواست میں عائد کیے گئے ہیں اور عدالت نے انہیں ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا ہے۔
مجسٹریٹ کا سابقہ حکم کیوں منسوخ کیا گیا؟
اس معاملے میں مجسٹریٹ عدالت نے ستمبر 2025 میں ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست والی شکایت مسترد کر دی تھی۔ اس حکم کے خلاف ریویژن پٹیشن دائر کی گئی۔ اسپیشل جج وشال گوگنے نے کہا کہ نچلی عدالت کے حکم میں معاملے کے حقائق اور شکایت پر مناسب وجوہات درج نہیں کی گئی تھیں۔ عدالت نے سابقہ حکم کو ’نان اسپیکنگ آرڈر‘ قرار دیا، یعنی ایسا حکم جس میں فیصلے کی وجوہات مناسب طور پر درج نہ ہوں۔ اس کے بعد عدالت نے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت کو بھیج دیا۔
29 ستمبر کو دوبارہ ہوگی سماعت
اب نچلی عدالت اس معاملے پر نئے سرے سے غور کرے گی۔ عدالت نے کہا ہے کہ شکایت پر دوبارہ سماعت کی جائے اور ضروری جانچ کے بعد مناسب حکم جاری کیا جائے۔ اگلی سماعت 29 ستمبر 2026 کو ہوگی۔ اہم بات یہ ہے کہ موجودہ عدالتی حکم صرف سابقہ فیصلے کو منسوخ کرکے معاملے کی دوبارہ سماعت تک محدود ہے۔ اس حکم سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے میں کوئی جعل سازی ہوئی ہے یا سونیا گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج ہو چکی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



