Bharat Express DD Free Dish

Voter List

بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر لسٹ سے ہوتا ہے۔ لسٹ میں نام درج ہے تو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے، لیکن نام نہ ہو تو انتخابی عمل میں حصہ لینا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے ووٹر لسٹ کو وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کرنا اور فوت شدہ، ڈپلیکیٹ یا نااہل ناموں کو ہٹانا انتخابی عمل کا ایک ضروری حصہ ہے۔

راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا، درخواست میں 1980 کی ووٹر لسٹ میں نام شامل ہونے سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔

پنجاب میں جاری SIR کے تحت راگھو چڈھا کا نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہے۔ انہیں ASDD فہرست میں ’Permanently Shifted‘ یعنی ’مستقل طور پر منتقل‘ بتایا گیا ہے۔ جانیں پورا معاملہ۔

دہلی میں 1.45 کروڑ ووٹروں میں سے تقریباً 97.5 لاکھ نام ڈرافٹ لسٹ میں شامل، دعوے اور اعتراضات 30 ستمبر تک داخل کئے جا سکیں گے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کا مقصد کسی بھی اہل ووٹر کو فہرست سے باہر نہ رکھنا اور کسی بھی نا اہل شخص کو ووٹر لسٹ میں شامل ہونے سے روکنا ہے۔

ملک کی 16 ریاستوں اور 3 مرکزی زیر انتظام علاقوں میں ووٹر لسٹ کی جانچ، تصدیق اور اپڈیٹ کا عمل شروع کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس مہم کا مقصد انتخابی فہرستوں کو مزید شفاف، درست اور جامع بنانا ہے تاکہ ہر اہل شہری کا نام ووٹر لسٹ میں درست طور پر شامل ہو سکے۔

ایس آئی آر کی یہ مہم مجموعی طور پر 166 دنوں تک جاری رہی، جس کے دوران ووٹر لسٹ کی ہر سطح پر جانچ کی گئی۔ جاری کردہ حتمی فہرست کے مطابق ریاست میں 7 کروڑ 30 لاکھ 71 ہزار 61 مرد ووٹرز اور 6 کروڑ 9 لاکھ 9 ہزار 5 سو 25 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

راجستھان میں ایس آئی آر کے عمل کے مکمل ہونے کے بعد حتمی ووٹر لسٹ جاری کر دی گئی ہے۔ 199 اسمبلی حلقوں میں نوجوان اور خواتین ووٹرز کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

انتخابی قوانین کے تحت فارم-7 کا استعمال ووٹر فہرست میں کسی نام کی شمولیت پر اعتراض کرنے یا اسے حذف کرنے کی درخواست کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ، کسی بھی نام کو ہٹانے سے قبل حکام کے لیے دعووں کی تصدیق کرنا اور متعلقہ فرد کو وضاحت کا موقع دینا لازمی ہے۔

مدھیہ پردیش الیکشن کمیشن نے ریاست کی ووٹر لسٹ کا ڈرافٹ جاری کر دیا ہے، جس میں مجموعی طور پر 42 لاکھ 74 ہزار 160 نام ہٹا دیے گئے ہیں۔ ان میں مرد و خواتین دونوں شامل ہیں۔

مرکزی حکومت اور نتیش کمار کی ریاستی حکومت، دونوں پر تنقید کرتے ہوئے آر جے ڈی لیڈر نے کہا کہ اگر ووٹر لسٹ میں کوئی ’’مشکوک نام‘‘ شامل کیا گیا ہے تو اس کی ذمہ داری بہار کی اس حکومت پر عائد ہوتی ہے جو 2005 سے اقتدار میں ہے۔