نئی دہلی: کانگریس لیڈر راہل گاندھی مسلسل ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو لے کر حملہ آور ہیں۔ اب الیکشن کمیشن نے بھی راہل گاندھی کے ایک دعوے کا فیکٹ چیک کیا ہے اور ان کی پوسٹ میں کیے گئے دعوے کو گمراہ کن قرار دیا ہے۔ کانگریس سمیت کئی اپوزیشن پارٹیاں SIR اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے کو لے کر مسلسل احتجاج کررہی ہیں۔ پیر کو بھی جنتر منتر پر NSUI سمیت کئی تنظیموں نے مظاہرہ کیا۔ SIR اور گیانیش کمار سے متعلق تنازع سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے اور عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا ہے۔ اس معاملے پر اگلے ہفتے سماعت ہونی ہے۔
راہل گاندھی نے کیا دعویٰ کیا؟
راہل گاندھی گزشتہ کچھ دنوں سے SIR کے عمل کو لے کر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر کئی الزامات عائد کررہے ہیں۔ پیر کو انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ بات بلا شبہ ثابت ہوچکی ہے کہ گیانیش کمار نے غیر قانونی اور یک طرفہ طریقے سے ’فارم-6‘ میں تبدیلی کی ہے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ یہ اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ گیانیش کمار نے بی جے پی کی مدد کرنے کے لیے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اور جمہوریت پر کیے گئے اس مبینہ حملے میں شامل ہر شخص کو اس کے لیے جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔ راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ کے ساتھ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ایک پریس ریلیز بھی شیئر کی تھی۔ اس میں تیسرے نکتے میں کہا گیا تھا کہ SIR کے لیے فارم-6 کے ساتھ منسلک حلف نامے کو سپریم کورٹ نے درست قرار دیا ہے، جبکہ غیر-SIR مدت کے لیے ووٹر رجسٹریشن رولز 1960 کے مطابق قابل اطلاق فارم استعمال کیا جائے گا۔
It is now established beyond doubt that Gyanesh Kumar changed Form 6 illegally and unilaterally.
This is just one more proof of him abusing his position to help the BJP.
He and everyone else involved in this criminal assault on our democracy will be held accountable. https://t.co/a33eJdPetu
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) October 5, 2026
الیکشن کمیشن نے کیا کہا؟
الیکشن کمیشن نے راہل گاندھی کی پوسٹ میں کیے گئے دعوے کا فیکٹ چیک کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے پیش کیا گیا بیان گمراہ کن ہے۔
کمیشن کے مطابق: بہار میں SIR کے لیے 24 جون 2025 کو جاری کیا گیا حکم الیکشن کمیشن کی متفقہ منظوری سے جاری ہوا تھا۔ سپریم کورٹ نے 27 مئی 2026 کے اپنے فیصلے میں اس حکم کو درست قرار دیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے 26 ستمبر 2026 کو جاری کیے گئے اپنے پریس نوٹ نمبر 120 کے نکتے 1(iii) میں کہا تھا کہ SIR کے لیے فارم-6 کے ساتھ منسلک حلف نامے کو سپریم کورٹ نے درست قرار دیا ہے۔
Fact Check
❌The statement made in this post is misleading
✅1) The order for SIR in Bihar issued on 24 June 2025 was issued with the unanimous approval of the Commission. This order has been upheld by the Hon’ble Supreme Court of India in its judgment dated 27 May 2026
✅2) In its Press Note No. 120 dated 26 September 2026, in Point 1(iii), ECI has stated that, “The declaration attached to Form 6 for SIR has been upheld by the Hon’ble Supreme Court.”
#ECIFactCheck
— Election Commission of India (@ECISVEEP) October 5, 2026
کانگریس ’سیو ڈیموکریسی مارچ‘ نکالے گی
ایس آئی آر اور گیانیش کمار کو ہٹانے کے مطالبے کو لے کر گزشتہ چار دنوں سے احتجاج جاری ہے۔ کانگریس نے بھی اس معاملے پر ایک اہم میٹنگ کی ہے۔ دہلی میں کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کی موجودگی میں ہوئی میٹنگ میں کئی فیصلے کیے گئے۔ کانگریس نے ملک بھر میں ’سیو ڈیموکریسی مارچ‘ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی لیڈر موٹر سائیکل ریلی، سائیکل ریلی اور پیدل یاترا نکالیں گے۔ ان کے ذریعے ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے مبینہ طور پر حذف کیے گئے ووٹروں کے نام جمع کیے جائیں گے۔ اس کے بعد یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں کانگریس کی بڑی ریلی منعقد ہوگی، جس میں انڈیا اتحاد کے لیڈروں کے بھی شامل ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 25 اور 26 نومبر کو چھ مختلف مقامات سے دہلی یاترا نکالنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ کانگریس کل پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک بھی مارچ نکالے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



