Bharat Express DD Free Dish

Gyanesh Kumar

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ بیلا اسٹیٹ کی جھگی بستی میں 728 افراد رہتے ہیں، لیکن SIR کے بعد ووٹر لسٹ میں صرف ایک شخص کا نام باقی بچا ہے، جبکہ 727 نام حذف کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کئی دہائیوں سے یہاں رہ رہے ہیں اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ساتھ 2025 کے دہلی اسمبلی انتخابات میں بھی ووٹ ڈال چکے ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق، 2023 میں ان کے گھر توڑ دیے گئے تھے، لیکن اس کے باوجود یہ لوگ کہیں نہیں گئے اور اب بھی وہیں رہ رہے ہیں۔

تھامسن کے انکشاف پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری بنوئے وشوم نے چیف الیکشن کمشنر پر سخت تنقید کی اور ان سے فوری طور پر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔

پپو یادو نے کہا کہ سیلاب جیسی سنگین صورتحال میں انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ متاثرین تک فوری راحت پہنچائی جائے، لیکن اب تک اس سمت میں ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کو فوری مدد فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور حکومت کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر اٹھائے سوال، الزام لگایا کہ گیانیش کمار کو بی جے پی کے لیے ’بھرتی‘ کرنے میں استعمال کیا گیا۔

چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے ہفتے کے روز ایک اہم میٹنگ کی۔ اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ دونوں الیکشن کمشنروں ڈاکٹر سکھبیر سنگھ سندھو اور ڈاکٹر وویک جوشی نے بھی شرکت کی۔ میٹنگ میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے دوران حذف ہونے والے ناموں سے متعلق دعووں اور اعتراضات کی مدت میں توسیع سمیت کئی اہم فیصلے کیے گئے۔

SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم پر آنے کی تیاری میں، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نئے Removal Motion پر بھی غور، 29 ستمبر کو کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ

پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ شہریوں کے لیے ووٹر بننا آسان بنایا جائے، مشکل نہیں۔ ووٹ دینے کا حق اسی وقت بامعنی ہوسکتا ہے جب شہری غیر ضروری رکاوٹوں کے بغیر ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کراسکیں۔ الیکشن کمیشن ملک کے آئین اور عوام کا ادارہ ہے، کسی ایک عہدے دار کا ذاتی ادارہ نہیں ہے۔ شہریوں کو ان کے بنیادی حقِ رائے دہی سے محروم کرنا محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ ملک اور اس کے عوام کے ساتھ سنگین غداری کے مترادف ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، امیدوار اور انتخابی مہم سے وابستہ افراد سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال یقینی بنائیں۔ اس سلسلے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000، آئی ٹی رولز 2021 اور ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (ایم سی سی) کی مکمل پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق کانگریس، ترنمول کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے سمیت کئی بڑی اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر سرگرم ہو گئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان جماعتوں کے کم از کم پانچ سینئر اراکین پارلیمنٹ مل کر ایک نیا اور جامع نوٹس تیار کر رہے ہیں، جس میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط دلائل اور نئے الزامات شامل کیے جائیں گے۔

میں مغربی بنگال اسمبلی انتخابات آٹھ مراحل میں ہوئے تھے۔ یہ انتخابات اس لیے طویل تھے کیونکہ ریاست میں 294 نشستیں ہیں اور سکیورٹی، قانون و نظم، اور بڑے ووٹر بیس کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخابی کمیشن نے انہیں آٹھ مراحل میں کرایا تھا۔