Bharat Express DD Free Dish

Delhi High Court: احتجاجی مظاہروں سے کاروبار کو 2000 کروڑ روپے کا نقصان، تاجروں نے کھٹکھٹایا دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ

پیر کو قائم مقام چیف جسٹس نتن سامبرے نے دو عرضیوں کو سماعت کے لیے فہرست میں شامل کرنے سے انکار کردیا تھا۔ انہوں نے اس کی وجہ سپریم کورٹ میں احتجاجی مظاہروں سے متعلق عرضیوں کا زیر التوا ہونا بتایا تھا۔ تاہم، انہوں نے کہا تھا کہ ان عرضیوں کو منگل کو سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا جائے گا۔

نئی دہلی : دہلی میں احتجاجی مظاہروں کے دوران لگائی گئی رکاوٹوں اور پابندیوں کے باعث کاروبار کو بھاری نقصان پہنچنے کا معاملہ اب دہلی ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے منگل کو وکلا اور تاجروں کی تنظیموں کی عرضیوں پر جلد سماعت کرنے کی اجازت دے دی۔ ان عرضیوں میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ احتجاج کے لیے مقررہ مقامات پر قواعد و ضوابط اور انتظامات سے متعلق معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) نافذ کیا جائے، تاکہ مظاہروں کے دوران عام لوگوں اور تاجروں کو ہونے والی پریشانیوں کو کم کیا جاسکے۔عرضی گزاروں کا دعویٰ ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے سبب لگائے گئے بیریکیڈز اور دیگر پابندیوں کی وجہ سے تاجروں کو تقریباً 2000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

ایس او پی نافذ کرنے کا مطالبہ

عرضی گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل سچن پوری نے کہا، ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ایس او پی نافذ کیا جائے، جسے سپریم کورٹ پہلے ہی طے کرچکا ہے۔ ہم صرف اپنے بنیادی حقوق کو نافذ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔حالانکہ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل چیتن شرما نے ابتدا میں اس بات پر زور دیا کہ سپریم کورٹ میں پہلے ہی احتجاجی مظاہروں سے متعلق عرضیوں پر سماعت جاری ہے، لیکن بعد میں انہوں نے دہلی ہائی کورٹ میں ان عرضیوں پر منگل کو سماعت کیے جانے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔

این ایس یو آئی صدر کی عرضی پر بھی سماعت

ہائی کورٹ نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے صدر ونود جاکھڑ کی عرضی پر بھی سماعت کرے گا۔ اس عرضی میں 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر مظاہرین کے ساتھ مارپیٹ کرنے والے مبینہ سماج دشمن عناصرکے خلاف جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ احتجاجی مظاہروں کے لیے مقررہ مقامات اور وہاں کیے جانے والے انتظامات سے متعلق خدشات پر بھی سماعت ہونے کا امکان ہے۔

سی جے پی اور اپوزیشن کے مظاہروں سے پیدا ہوئی صورت حال

گزشتہ ہفتے سے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)، طلبہ تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے دہلی کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔ مظاہرین ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔دہلی پولیس نے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے سخت پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس دوران مظاہرے میں شرکت کے لیے پہنچنے والے سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، جن میں طلبہ، اپوزیشن رہنما اور ہائی کورٹ و سپریم کورٹ کے وکلا بھی شامل تھے۔

پیر کو عرضیوں کی سماعت سے کیا گیا تھا انکار

پیر کو قائم مقام چیف جسٹس نتن سامبرے نے دو عرضیوں کو سماعت کے لیے فہرست میں شامل کرنے سے انکار کردیا تھا۔ انہوں نے اس کی وجہ سپریم کورٹ میں احتجاجی مظاہروں سے متعلق عرضیوں کا زیر التوا ہونا بتایا تھا۔ تاہم، انہوں نے کہا تھا کہ ان عرضیوں کو منگل کو سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا جائے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read