Bharat Express DD Free Dish

Delhi High Court

پیر کو قائم مقام چیف جسٹس نتن سامبرے نے دو عرضیوں کو سماعت کے لیے فہرست میں شامل کرنے سے انکار کردیا تھا۔ انہوں نے اس کی وجہ سپریم کورٹ میں احتجاجی مظاہروں سے متعلق عرضیوں کا زیر التوا ہونا بتایا تھا۔ تاہم، انہوں نے کہا تھا کہ ان عرضیوں کو منگل کو سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا جائے گا۔

یہ ضمانت ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی جانب سے پیروی کے بعد ملی ہے۔ جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس ارون بھاردواج پر مشتمل دہلی ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ نے یکم اکتوبر 2026 کو محمد شہزاد کمال بنام این آئی اے کے درمیان مقدمے میں فیصلہ سنایا۔

جسٹس پرتبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ کی بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے 5 جنوری کے حکم میں عائد شرائط میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی، دونوں پر فروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کی مبینہ بڑی سازش میں ملوث ہونے کا الزام۔

دہلی میں سال 2020 کے فسادات کی مبینہ سازش کے معاملے میں ملزم عمر خالد اور شرجیل امام کی جانب سے دائر ضمانت درخواستوں پر دہلی ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ کی ڈویژن بنچ ان درخواستوں پر سماعت کر رہی ہے۔

عدالت نے کہا کہ انتخابی ضابطوں کی ان خلاف ورزیوں کے لیے اجتماعی انتخابی ہرجانہ عائد کیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ لوگوں نے اپنے طریقوں میں تبدیلی نہیں کی ہے اور گزشتہ انتخابات کے دوران جاری کیے گئے عدالتی احکامات کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔عدالت نے اس واقعے کا بھی ذکر کیا، جس میں انتخابات جیتنے کے بعد ایک طالب علم نے ایک استاد کو تھپڑ مارا تھا۔

سَتیہ نکیتن میں پیش آئے اس بڑے حادثے کے بعد دہلی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پوری دہلی میں ایسی تمام عمارتیں، جو غیر قانونی طور پر پانچ یا اس سے زیادہ منزلوں کی تعمیر کی گئی ہیں، انہیں سیل کیا جائے گا۔حکومت کے اس فیصلے کے بعد پی جی میں رہنے والے طلبہ کو محسوس ہو رہا ہے کہ وہ دونوں طرف سے پھنس گئے ہیں، کیونکہ سَتیہ نکیتن میں زیادہ تر پی جی پانچ یا اس سے زیادہ منزلہ عمارتوں میں ہی قائم ہیں۔

یہ قانونی تنازع 2010 کا ہے، جب راجپال یادو نے اپنی پہلی ہندی فلم ’اتا پتا لاپتا‘ بنانے کے لیے دہلی کی کمپنی مُرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے تقریباً 5 کروڑ روپے کا قرض لیا تھا۔ وقت پر ادائیگی نہ ہونے اور سود بڑھنے کے باعث یہ رقم تقریباً 9 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ راجپال یادو اب تک کمپنی کو 4 کروڑ 25 لاکھ روپے ادا کر چکے ہیں، تاہم باقی رقم اور جرمانے کو لے کر تنازع عدالت میں چلتا رہا۔

ہائی کورٹ نے ایم سی ڈی کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر دہلی میں چل رہے پی جی اور ہاسٹل کا آڈٹ کرے۔ ایم سی ڈی کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ پی جی کے لیے کوئی ضابطہ یا نظام موجود ہے یا نہیں اور ان پی جی و ہاسٹل میں کتنے طلبہ رہ رہے ہیں۔ عدالت نے دہلی یونیورسٹی سے بھی معلومات طلب کی ہیں کہ دہلی سے باہر کے کتنے طلبہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں اور ان کے لیے کتنے ہاسٹل دستیاب ہیں۔

دہلی ہائی کورٹ نے فین پیجز کے حوالے سے بھی اہم تبصرہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ کسی اداکار یا مشہور شخصیت کے نام سے فین پیج چلانا بذات خود غیر قانونی نہیں ہوسکتا۔ ایسے صفحات پر فنکار کی تصاویر، ویڈیوز، فلموں سے متعلق معلومات، تعریف یا تنقید جیسا مواد موجود ہوسکتا ہے۔عدالت نے سوال اٹھایا کہ صرف کسی مشہور شخصیت کے نام یا تصویر کا استعمال کرنے کی بنیاد پر تمام فین کلب یا فین پیجز کو کیسے بند کرنے کا حکم دیا جاسکتا ہے۔

سینئر وکیل شادان فراست نے دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ 18 اگست کی صبح تقریباً 4 بجے 20 کے قریب سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکار کلدیپ کمار کو ان کے گھر سے اپنے ساتھ لے گئے۔ وکیل کے مطابق، کلدیپ کمار گزشتہ روز سے اپنے حلقے میں ایک صفائی ملازم کے قتل کے خلاف احتجاج کر رہے تھے