Bharat Express DD Free Dish

Delhi High Court

ہائی کورٹ نے این ڈی ایم سی سے دو ہفتوں کے اندر جواب طلب کرتے ہوئے سوال کیا کہ آخر بغیر نوٹس جاری کیے بجلی کا کنکشن کیسے کاٹ دیا گیا۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت دسمبر میں مقرر کی ہے۔

کالجیم کا نظام ججوں کی تقرری اور تبادلوں کی سفارش کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ سپریم کورٹ کالجیم امیدواروں کی اہلیت کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات مزید کارروائی کے لیے مرکزی حکومت کو بھیجتا ہے۔تازہ ترین تجاویز کا تعلق چار ہائی کورٹس میں چیف جسٹس کے عہدوں سے ہے۔ تاہم، کالجیم کی سفارشات کو حتمی تقرری نہیں سمجھا جا سکتا۔

امن برقرار رکھنے کے لیے 10,000 روپے کے ذاتی مچلکے اور ایک ضامن سے متعلق نوٹس کو دیا گیا تھا چیلنج، عدالت نے کارروائی میں استعمال ہونے والے دستاویزات کی نقول فراہم کرنے کا حکم دیا

آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی صدر نیہا بورا کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ یہ عرضی پولیس کے نوٹس اور حراست سے متعلق ہے۔ عدالت 23 اکتوبر کو شام 6 بجے فیصلہ سنائے گی۔

دہلی ہائی کورٹ 22 اکتوبر کو آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کرے گی۔ نیہا نے دہلی پولیس کی جانب سے جاری بانڈ نوٹس کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔

دہلی پولیس نے سورَو داس اورآشوتوش رانکا کو13 اکتوبرکوحراست میں لیا تھا۔ دونوں پرالزام ہے کہ وہ جنترمنترپرلگائی گئی بیرکیڈنگ کو پھلانگ کرممنوعہ علاقے میں داخل ہوگئے تھے۔ اس معاملے میں 14 اکتوبر کو عدالت نے دونوں کو پانچ دنوں کی عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ اس کے بعد پھر دو دنوں کی توسیع کردی گئی تھی۔

دہلی ہائی کورٹ نے سی جے پی لیڈر سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو اپنی عرضی واپس لینے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کی تبدیلی کا ذریعہ انتخابات ہونا چاہیے، نہ کہ افراتفری پھیلانا۔

سی جے پی لیڈر سورو داس اور آشوتوش رانکا نے اپنی عدالتی حراست کے خلاف دہلی ہائی کورٹ کا رخ کیا ہے۔ دونوں کے وکلا ہائی کورٹ سے اس معاملے کی فوری سماعت کی درخواست کر رہے ہیں۔ ایک خصوصی ایگزیکٹیو مجسٹریٹ نے گزشتہ روز داس اور رانکا کی حراست میں 21 اکتوبر تک توسیع کر دی تھی۔ اس سے پہلے آشوتوش رانکا اور سورو داس کو پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیجا گیا تھا۔

جسٹس امت مہاجن کی سربراہی والی بنچ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے 15 اکتوبر کے اپنے حکم میں کہا کہ ہائی کورٹ یا اطلاعاتی کمیشن، سکیورٹی اداروں کے اس جائزے پر اپنی رائے مسلط نہیں کر سکتے کہ کون سی معلومات سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کی اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا کہ معاملہ عوامی پیسے کے خرچ سے متعلق ہے

ہائی کورٹ میں دائر عرضی میں نیہا بورا نے انتہائی سنگین الزامات لگائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 16 اکتوبر کو حراست سے رہائی کے بعد سے ہی دہلی پولیس کے اہلکار سادہ لباس میں مسلسل ان کا پیچھا کر رہے ہیں اور انہیں ذہنی طور پر خوف زدہ کرنے اور دھمکانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔