Bharat Express DD Free Dish

Delhi High Court

درخواست گزار کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے دلیل دی کہ اروند کیجریوال اور دیگر عدالتی کارروائی کو بدنام کرنے اور متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعت کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا حکم دیں؟ لیکن کیا سیاسی جماعت کی رجسٹریشن ختم کرنے کی قانون میں کوئی شق موجود ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کا مکمل قانونی ڈھانچہ کیا ہے؟

دہلی ہائی کورٹ نے اروند کیجریوال، منیش سسودیا اورسنجے سنگھ سمیت دیگرلیڈران سے ان کے تبصروں کے لئے جسٹس سورن کانتا شرما کے خلاف تبصروں کے لئے توہین عدالت کے معاملے میں جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے 14 مئی کے حکم کی بنیاد پرکارروائی شروع کی، جس میں سوشل میڈیا پوسٹس اوردیگرمواد کا حوالہ دیا گیا تھا۔ یہ معاملہ ایکسائز پالیسی کیس سے متعلق ہے، جہاں سیاسی لیڈران نے جج کوہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

دہلی ہائی کورٹ نے پیرکے روزبارہمولہ کے رکن پارلیمنٹ عبدالرشید شیخ عرف انجینئر رشید کو2 جون تک کی عبوری ضمانت منظورکرلی ہے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ عبوری ضمانت کی مدت کے دوران انجینئررشید کے ساتھ ہروقت کم ازکم دوسادہ لباس میں پولیس اہلکارموجود رہیں گے۔

جسٹس سوریہ کانت شرما نے کہا کہ انہوں نے اروند کیجریوال کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے اور اب اس معاملے کی سماعت کوئی اور بینچ کرے گی۔ جسٹس شرما صرف توہین عدالت کیس کی سماعت کریں گی۔

عدالت نے کہا کہ جب عدلیہ جیسے ادارے کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے تو یہ جج کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس بات کویقینی بنائے کہ بدنام کئے جانے کی کوششیں اس کے فیصلے پر اثرانداز نہ ہوں۔ جب اس عدالت نے جج کے معاملے سے الگ ہونے کا مطالبہ کرنے والی عرضی کی سماعت کی تھی، تب عدالت کی سمجھ یہ تھی کہ اس کے سامنے واحد مسئلہ عدالتی حکم کی درستگی اورتعصب کا اندیشہ تھا۔

درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عالمی فٹبال ٹورنامنٹ کو عوامی اور مفت پلیٹ فارمز، خصوصاً دوردرشن اور ڈی ڈی اسپورٹس پر نشر کیا جائے تاکہ ملک کے تمام شائقین اس سے استفادہ کر سکیں۔ درخواست گزار کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملک کے کروڑوں فٹبال شائقین دنیا کے سب سے بڑے کھیل مقابلوں میں سے ایک دیکھنے سے محروم ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سسودیا اور کیجریوال کے یہ خطوط نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی سطح پر بھی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہ عدالتی عمل پر براہ راست سوال اٹھاتے ہیں۔ فی الحال اس معاملے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ آگے کی کارروائی پر سب کی نظریں مرکوز ہیں کہ آیا عدالت اس پر کوئی مزید ردِ عمل ظاہر کرتی ہے یا نہیں۔

عشرت جہاں کو 26 فروری 2020 کو اس کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ 14 مارچ 2022 کو دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے انہیں ضمانت دے دی تھی۔ دہلی پولیس نے اسی فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹرائل کورٹ کا حکم قانونی اصولوں کے منافی اور کئی خامیوں پر مبنی ہے۔

جسٹس کرول کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے کہا کہ قانون سازوں کا مقصد واضح ہے۔ ٹیکنالوجی میں نمایاں ترقی کے باوجود، یہ قانونی مفروضہ کسی بھی بچے کو ’ناجائز‘ کا لیبل لگنے کے بدنما داغ سے بچانے کے لیے بنایا گیا تھا۔

عام آدمی پارٹی کے سابق رکن اسمبلی نریش بالیان کی ضمانت عرضی پر دہلی ہائی کورٹ میں بڑا موڑ آ گیا ہے۔ جسٹس سوارن کانتا شرما نے خود کو سماعت سے الگ کر لیا، اب اگلی سماعت 23 اپریل کو ہوگی۔