Bharat Express DD Free Dish

Delhi High Court

سی بی آئی نے 27 فروری کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے اروند کیجریوال، منیش سسودیا، درگیش پاٹھک سمیت تمام ملزمان کو بری کیے جانے کے فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ تحقیقی ایجنسی کا موقف ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا، کیونکہ مقدمے میں ایسے کافی شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف کارروائی جاری رہنی چاہیے۔

عدالت نے نچلی عدالت کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کر دیا ہے اور تین ماہ قید اور مجموعی طور پر 7.35 کروڑ روپے جرمانے کو برقرار رکھا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اداکار کو سپریم کورٹ سے رجوع کے لیے دو ماہ کی مہلت بھی دی ہے۔

راج پال یادو کو دہلی ہائی کورٹ سے بڑا جھٹکا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے چیک باونس معاملے میں اداکار کے جرم کو برقرار رکھا گیا ہے۔ ایسے میں انہیں پھر سے جیل جانا پڑے گا۔

وکیل امیتا سچدیوا نے 21 مارچ 2026 کو دھرو راٹھی کی جانب سے یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی ’’کیا ہندو بیف کھا سکتے ہیں؟ کیرالہ اسٹوری 2 کا پردہ فاش’’ کے عنوان سے ویڈیو پر اعتراض کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ ورون دھون نے اپنے نام اور دستخط کو بطور ٹریڈ مارک بھی رجسٹر کرا رکھا ہے۔ ایسی صورت میں ان کی شناخت سے متعلق خصوصیات کا غیر مجاز استعمال ان کے قانونی حقوق کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔

جم خانہ کلب کے ایک رکن نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرکے حکومت کے اس نوٹس کو چیلنج کیا ہے، جس میں کلب کو صفدرجنگ روڈ واقع 27.3 ایکڑ پر مشتمل احاطہ 5 جون تک خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے الزام لگایا ہے کہ مرکز ’’قانونی عمل کے بغیر‘‘ ایگزیکٹو نوٹس کے ذریعے کلب کو زبردستی بے دخل کرنا چاہتا ہے۔

چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ فیڈریشن کی انتخابی پالیسی میں زچگی اور اس کے بعد صحت یابی کی مدت کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا۔ عدالت نے اپنے تبصرے میں کہا: ’’زچگی زندگی کا ایک فطری اور نہایت اہم پہلو ہے، جس کے لیے خصوصی انتظامات اور ادارہ جاتی حساسیت ضروری ہے۔‘‘ عدالت نے مزید کہا کہ صرف ماں بننے کی بنیاد پر کسی خاتون کھلاڑی کو پیشہ ورانہ مواقع سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

دہلی ہائی کورٹ نے خواتین کھلاڑیوں کے زچگی کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے پہلوان ونیش پھوگاٹ کو 2026 ایشیائی کھیلوں کے سلیکشن ٹرائلز میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے ریسلنگ فیڈریشن کی نئی سلیکشن پالیسی کو ’امتیازی‘ قرار دیتے ہوئے اس پر سخت ناراضگی ظاہر کی اور وجہ بتاؤ نوٹس کو ’بدنیتی پر مبنی‘ قرار دیا۔

 دہلی ہائی کورٹ نے ونیش پھوگاٹ معاملے میں مرکزی حکومت کو حکم دیا ہے۔ عدالت نے ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا سے پوچھا کہ آخرانہیں گھریلو مقابلوں کے لئے نا اہل کیوں قراردیا گیا۔

دہلی ہائی کورٹ نے راگھو چڈھا سے کہا کہ آپ کے سیاسی فیصلے اور بی جے پی میں جانے کی وجہ سے تنقید ہو رہی ہے۔ پہلی نظرمیں اس میں شخصیت کے حقوق کی خلاف ورزی کا کوئی معاملہ نہیں ہے۔