Bharat Express DD Free Dish

Delhi High Court

دہلی شراب پالیسی معاملے میں الزامات سے بری کیے گئے اروند کیجریوال اور منیش سسودیا نے سی بی آئی کی اپیل خارج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

 سونم وانگچک کو صفدرجنگ اسپتال سے میدانتا اسپتال میں شفٹ کیا جائے گا۔ دہلی ہائی کورٹ نے ان کی اہلیہ گیتانجلی کی عرضی پراسپتال میں شفٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کے حکم کے مطابق، میدانتا اسپتال میں ڈاکٹروں کا خصوصی پینل تشکیل کیا جائے گا۔ سونم وانگچک کے علاج کے لئے ماہرین ڈاکٹروں کی ٹیم بنے گی اور سبھی میڈیکل جانچ رپورٹ میدانتا کے ڈاکٹروں کے پینل کو سونپی جائے گی۔

کیجریوال نے کہا کہ سونم وانگچک اور ان کے ساتھی نوجوانوں کے مستقبل اور تعلیم سے متعلق اہم مسائل اٹھا رہے ہیں، اس لیے حکومت کو ان کے مطالبات سننے چاہئیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جمہوری انداز میں اپنی آواز بلند کریں اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق معاملات پر متحد ہوں۔

سی بی آئی نے 27 فروری کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے اروند کیجریوال، منیش سسودیا، درگیش پاٹھک سمیت تمام ملزمان کو بری کیے جانے کے فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ تحقیقی ایجنسی کا موقف ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا، کیونکہ مقدمے میں ایسے کافی شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف کارروائی جاری رہنی چاہیے۔

عدالت نے نچلی عدالت کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کر دیا ہے اور تین ماہ قید اور مجموعی طور پر 7.35 کروڑ روپے جرمانے کو برقرار رکھا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اداکار کو سپریم کورٹ سے رجوع کے لیے دو ماہ کی مہلت بھی دی ہے۔

راج پال یادو کو دہلی ہائی کورٹ سے بڑا جھٹکا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے چیک باونس معاملے میں اداکار کے جرم کو برقرار رکھا گیا ہے۔ ایسے میں انہیں پھر سے جیل جانا پڑے گا۔

وکیل امیتا سچدیوا نے 21 مارچ 2026 کو دھرو راٹھی کی جانب سے یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی ’’کیا ہندو بیف کھا سکتے ہیں؟ کیرالہ اسٹوری 2 کا پردہ فاش’’ کے عنوان سے ویڈیو پر اعتراض کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ ورون دھون نے اپنے نام اور دستخط کو بطور ٹریڈ مارک بھی رجسٹر کرا رکھا ہے۔ ایسی صورت میں ان کی شناخت سے متعلق خصوصیات کا غیر مجاز استعمال ان کے قانونی حقوق کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔

جم خانہ کلب کے ایک رکن نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرکے حکومت کے اس نوٹس کو چیلنج کیا ہے، جس میں کلب کو صفدرجنگ روڈ واقع 27.3 ایکڑ پر مشتمل احاطہ 5 جون تک خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے الزام لگایا ہے کہ مرکز ’’قانونی عمل کے بغیر‘‘ ایگزیکٹو نوٹس کے ذریعے کلب کو زبردستی بے دخل کرنا چاہتا ہے۔

چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ فیڈریشن کی انتخابی پالیسی میں زچگی اور اس کے بعد صحت یابی کی مدت کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا۔ عدالت نے اپنے تبصرے میں کہا: ’’زچگی زندگی کا ایک فطری اور نہایت اہم پہلو ہے، جس کے لیے خصوصی انتظامات اور ادارہ جاتی حساسیت ضروری ہے۔‘‘ عدالت نے مزید کہا کہ صرف ماں بننے کی بنیاد پر کسی خاتون کھلاڑی کو پیشہ ورانہ مواقع سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔