Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Bill 2025: وقف قانون پر سپریم کورٹ سے آگئی بڑی خبر،چیف جسٹس نے کرائی یقین دہانی، اب تک چھ عرضیاں ہوچکی ہیں داخل

لوک سبھا میں بل کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے، جب کہ راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 132 اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور ہونے کے بعد ہفتہ کو اس بل کو صدر کی منظوری مل گئی۔ اس کے ساتھ ہی یہ قانون بن گیا۔

آج صبح جب سپریم کورٹ کی کارروائی شروع ہوئی تو سینئر وکیل کپل سبل اور ابھیشیک منو سنگھوی نے وقف ترمیمی قانون کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ سے جلد سماعت کی استدعا کی ، حالانکہ اس دوران چیف جسٹس نے کوئی تاریخ دینے سے انکار کردیا البتہ یہ یقین دہانی کرائی کہ دوپہر میں اس کی سماعت کے حوالے سے تاریخ  کے سلسلے میں غور کریں گے۔چیف جسٹس نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کو لسٹ کریں گے اور دوپہر میں اس بات پر غور کریں گے کہ اس معاملے کی جلد سماعت کی جائے یا نہیں ۔

وقف بورڈ ترمیمی ایکٹ 2025 کے خلاف سپریم کورٹ میں اب تک چھ درخواستیں داخل کی جاچکی ہیں، تمام درخواستوں میں ایک ہی بات کہی گئی ہے کہ یہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی چھیننے کی سازش ہے۔ درخواستوں میں اس قانون کو غیر آئینی قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ سے دائر درخواستوں کی جلد سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔اب تک سپریم کورٹ میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید، اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی، عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان، شہری حقوق کے تحفظ کے لیے ایسوسی ایشن (اے پی ایس آر)، جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف سے عرضیاں دائر کی گئی ہیں۔

وقف ایکٹ کو کس نے چیلنج کیا؟

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید اور اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے وقف بل کے خلاف جمعہ کو سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ جاوید بہار کے کشن گنج سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ جاوید لوک سبھا میں کانگریس کے وہپ ہیں۔ اس کے علاوہ وہ وقف ترمیمی بل کا جائزہ لینے والی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے بھی رکن تھے۔ ان دونوں لیڈروں نے یہ عرضی بل کو صدر کی منظوری ملنے سے پہلے داخل کی تھی۔ ہفتہ کو اے اے پی ایم ایل اے امانت اللہ خان اور اے پی ایس آر نے اس بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی۔ تب تک اس بل کو صدر کی منظوری مل چکی تھی۔ یہ قانون بن چکاتھا۔

اس کے بعد اتوار کو جمعیۃ علماء ہند اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی جس میں وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کے آئینی جواز کو چیلنج کیا گیا۔ اپنی درخواست میں جمعیۃ علمائے ہند نے کہا ہے کہ یہ قانون ان پر براہ راست حملہ ہے، جبکہ اس کا آئین ملک کے شہریوں کو مکمل مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے۔وہیں  وقف قانون کے بارے میں اویسی نے کہا کہ یہ قانون مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ لوک سبھا میں بحث کے دوران انہوں نے بل کی کاپی بھی پھاڑ دی تھی۔ کانگریس ایم پی محمد جاوید نے اس قانون کو مسلمانوں کے تئیں امتیازی قرار دیا۔عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان نے کہا کہ یہ آئین کے متعدد آرٹیکل کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آئینی دفعات کے خلاف ہے۔

واضح رہے کہ لوک سبھا میں بل کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے، جب کہ راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 132 اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور ہونے کے بعد ہفتہ کو اس بل کو صدر کی منظوری مل گئی۔ اس کے ساتھ ہی یہ قانون بن گیا۔ اس بل کے قانون بننے کے بعد کانگریس سمیت کئی اپوزیشن پارٹیاں اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔ آر جے ڈی، ڈی ایم کے سمیت کئی پارٹیوں نے اس قانون کو خلاف آئین قرار دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کی سماعت کب ہوگی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read