حال ہی میں مہاراشٹر کے سی ایم دیویندر فڑنویس نے کہا تھا کہ لاؤڈ اسپیکر مذہبی مقامات پر مقررہ ڈیسیبل کی حد کے اندر بجانے چاہئے۔اس دوران خبرداربھی کیا گیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اجازت منسوخ کر دی جائے گی۔ اس ہدایت کے بعد کئی بیانات سامنے آئے ہیں۔ اس سلسلے میں اب بی جے پی لیڈر اور سابق ایم پی کریٹ سومیا نے ممبئی میں مانکھرد گوونڈی کی 72 مساجد کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔
اس معاملے پر بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے کہا کہ میں نے 5 اپریل کو گوونڈی کے شیواجی نگر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی کہ 72 مساجد پر غیر مجاز لاؤڈ اسپیکر لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ لاؤڈ اسپیکر بغیر کسی قانونی اجازت کے لگائے گئے ہیں جو کہ عوامی مقامات پر شور کو کنٹرول کرنے سے متعلق قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔پولیس نے بھی اس کو مان لیا اور ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ مساجد پر غیر قانونی لاؤڈ سپیکر لگانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل نہ کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر لاؤڈ اسپیکر چلانا، ممبئی میں یہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
72 मशीद/भोंगे शिवाजी नगर गोवंडी मुंबई
रोज भोंगे जोरात वाजत आहे…
लाऊडस्पिकरच/भोंग्याची परवानगी एकही मशिदनी घेतलेली नाही
काल शिवाजी नगर पोलीस ठाण्यात आम्ही तक्रार केलीउद्या पासून कारवाई होणार
अनधिकृत मस्जिदी/भोंगे यादी
1 अलभदिना मस्जिद व मदरसा आता-ए- रसुल तालीमुल कुराण
— Kirit Somaiya (@KiritSomaiya) April 6, 2025
کیرٹ سومیا نے اس معاملے میں سوشل میڈیا پر ایک آر ٹی آئی کی کاپی شیئر کی ہے، جس میں ان مساجد کے نام بتائے گئے ہیں جہاں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے لکھا کہ آئے روز اونچی آواز میں اسپیکر بجائے جا رہے ہیں۔ کسی مسجد نے لاؤڈ اسپیکر/ ہارن کی اجازت نہیں لی۔ ہم نے کل شیواجی نگر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ کل سے کارروائی کی جائے گی۔ بی جے پی لیڈر سومیا پچھلے کئی مہینوں سے اس معاملے پر سرگرم ہیں اور زور و شور سے اسے اٹھا رہے ہیں۔ اس سے پہلے بھی وہ ممبئی کے کئی حصوں میں ایسی ہی شکایات درج کرا چکے ہیں اور متعلقہ انتظامیہ سے مسلسل سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پولیس سومیا کی شکایت پر مزید کیا کارروائی کرتی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
