جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف کی تقرری کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج دیا گیا ہے۔
نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلرکی تقرری سے متعلق تنازعہ ہوگیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ میں پروفیسرمظہرآصف کی تقرری کے جوازکوچیلنج دینے کے لئے عدالت میں ایک عرضی داخل کی گئی ہے اور پروفیسر مظہرآصف کی تقرری کو منسوخ کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت، جامعہ ملیہ اسلامیہ اوردیگرکو نوٹس جاری کرکے جواب مانگا ہے۔ عرضی میں کئی بنیاد پراعتراضات کئے گئے ہیں، جس میں سلیکشن کمیٹی کی غیرقانونی تشکیل اوروائس چانسلرکی نامناسب نامزدگی کے دعوے سمیت کئی بنیادوں پراعتراضات کئے گئے ہیں۔
دہلی ہائی کورٹ میں داخل کی گئی عرضی میں مرکزی وزارت تعلیم (سینٹرل منسٹری آف ایجوکیشن) کی مداخلت کا الزام لگایا ہے، جس نے مبینہ طورپروزارت کی طرف سے فراہم کردہ دونامزدگیوں میں سے ایک کے انتخاب کے لئے متاثرکیا۔ اس کے علاوہ، عرضی میں کہا گیا ہے کہ وائس چانسلرکی تقرری کے عمل میں وزارت تعلیم کی شمولیت سے قانونی طریقہ کاراورسپریم کورٹ کے قائم کردہ اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ یونیورسٹی کی نمائندگی کرنے والے ایڈیشنل سالیسٹرجنرل چیتن شرما اوریونین آف انڈیا کی طرف سے پیش ہونے والی مرکزی حکومت کی اسٹینڈنگ کونسل مونیکا اروڑہ نے کئی بنیادوں پررٹ پٹیشن کی برقراری کوچیلنج کیا ہے۔
ان میں درخواست گزارکالوکا اسٹینڈی اورکووارنٹوکی رٹ کے دائرہ کارپرسوال اٹھانا شامل ہے۔ انہوں نے پٹیشن کے ساتھ منسلک “سمری نوٹس” کے بارے میں بھی تشویش کا اظہارکیا، جو یونین آف انڈیا نے یونیورسٹی کے وزیٹراورصدرجمہوریہ ہند کوپیش کیا تھا۔ انہوں نے عرضی گزارسے یہ انکشاف کرنے کے لئے کہا کہ یہ دستاویزاس کے قبضے میں کیسے آئے اوروہ ان دستاویزوں کی اصل کاپی کے طورپران کی صداقت کی تصدیق کرے۔ مونیکا اروڑا نے آئین کے آرٹیکل 74 کے شق 2 کا استعمال کیا، جو صدرجمہوریہ کوپیش کردہ وزارتی مشورے کی عدالتی جانچ پرپابندی لگاتا ہے۔
دوسری طرف، درخواست گزارکے وکیل ڈاکٹرامت جارج نے دلیل دی کہ عدالتی نظیریں کسی بھی شہری کولوکا اسٹینڈی پابندیوں کے تابع ہوئے بغیرکووارنٹو کی رٹ دائرکرنے کی اجازت دیتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن دستاویزات کا حوالہ دیا گیا ہے وہ ایک نیوزویب سائٹ پرعوامی طور پرقابل رسائی ہیں۔ عرضیاں قبول کرتے ہوئے، جسٹس پرتیک جالان نے اس معاملے میں مرکزی حکومت، جامعہ ملیہ اسلامیہ اوردیگرکونوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے کی اگلی سنوائی کے لئے 16 جولائی 2025 کی تاریخ مقررکردی۔ عدالت نے ایگزیکٹو کونسل کے چارانفرادی ممبران کو بھی رٹ پٹیشن میں مدعا علیہ یا ڈیفنڈنٹ کے طورپرشامل کرنے کی ہدایت کی۔ ایڈوکیٹ رکشیتا گوئل کے ذریعہ دائرکی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پروفیسرمظہرآصف کی بطوروائس چانسلر تقرری کا پورا عمل ان کی طاقت کے استعمال کودکھاتا ہے۔ عرضی میں ترک دیا گیا ہے کہ ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 226 کے ذریعہ عدالت کو دی گئی طاقت کے تحت ایسی تقرری کو منسوخ کردینا چاہئے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
