Bharat Express DD Free Dish

Modi Government

مورخہ 27 ستمبر سے ہم ان کی پیدائش کی صد سالہ تقریبات کا آغاز کر رہے ہیں تاکہ ایک ایسی شاندار شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں جنہوں نے روحانی جستجو، ثقافتی بیداری اور کئی دہائیوں پر محیط تنظیمی خدمات کو یکجا کیا۔

مرکزی وزیر برائے ریل اشونی ویشنو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت میں کیرلم میں ریلوے کی ترقی کے لیے بجٹ مختص کرنے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، 2014 میں ریاست کے ریلوے کے لیے جہاں 372 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، وہیں مالی سال 27-2026 میں یہ رقم بڑھ کر 3,795 کروڑ روپے ہوگئی ہے۔ یعنی گزشتہ برسوں کے دوران ریلوے بجٹ میں تقریباً 10 گنا اضافہ ہوا ہے۔ کیرلم کے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ملاقات کے بعد ریلوے وزیر نے ریاست میں جاری ریلوے منصوبوں اور مستقبل کی اسکیموں کے حوالے سے معلومات شیئر کیں۔

راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ امریکی پیمنٹ کمپنیاں طویل عرصے سے بھارت کی زیرو ایم ڈی آر پالیسی کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت نے اب اسی سمت میں قدم بڑھاتے ہوئے پالیسی میں تبدیلی کا راستہ کھول دیا ہے۔ راہل گاندھی نے اسے امریکی دباؤ کے سامنے حکومت کے ’سرینڈر‘ سے تعبیر کیا اور کہا کہ یو ایس ٹریڈ ڈیل کی طرح اس معاملے میں بھی حکومت دباؤ میں ہے۔

سپریا شرینیت نے کہا کہ مہنگائی اس لیے مزید خوفناک ہے کیونکہ یہ ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب بے روزگاری بھی بہت زیادہ ہے اور اجرت کی شرح بھی انتہائی کم ہے۔ لوگوں کی آمدنی میں بھی کمی آئی ہے اور گھریلو آمدنی کم ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو بچت اپنی کم ترین سطح پر ہے اور لوگ اپنی زندگی گزارنے کے لیے سونا تک گروی رکھنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

سورو داس نے اپنی پوسٹ کے ساتھ اکاؤنٹ کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا ہے، جس میں کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کے حوالے سے کارروائی دکھائی گئی ہے۔ اس میں لکھا ہے، ’’آپ کا مواد بلاک کر دیا گیا ہے۔‘‘ سورو داس کے مطابق 10 ستمبر کو انسٹاگرام پر پوسٹ کیے گئے ان کے مواد کو بلاک کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم دفتر (PMO) کی جانب سے بلائی گئی اس میٹنگ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں تمام وزرا کے بجائے صرف ان وزرائے مملکت کو مدعو کیا گیا ہے جن کے محکمے براہ راست سماجی، اقتصادی اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق منصوبوں سے وابستہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق، تعلیم، سماجی انصاف و تفویض اختیارات اور زراعت جیسے اہم محکموں کے کام کاج کا تفصیلی جائزہ میٹنگ کے اہم ایجنڈے میں شامل ہوگا۔

پیر کی شام وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہونے والی جائزہ میٹنگ پر سب کی نظر، مختلف وزارتوں کی کارکردگی پر تفصیلی بحث کے بعد وزرا کی ذمہ داری طے ہونے یا مستقبل میں کابینہ میں ردوبدل کے اشارے ملنے کا امکان

وزیراعظم نے کہا کہ یہ شرح نمو ایسے وقت میں حاصل ہوئی ہے جب عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ سپلائی چین سے متعلق مسائل بھی موجود ہیں۔

بی جے پی کی نئی قومی ٹیم کی تشکیل کے بعد مرکزی وزارتی کونسل میں ممکنہ تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ نوجوانوں، خواتین اور اتحادی جماعتوں کو نمائندگی دینے پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔ مودی حکومت کی تیسری مدت میں اتحادی جماعتوں کا کردار پہلے کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے۔ اس لیے وزارتی کونسل میں کسی بھی ردوبدل کے دوران این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ سیاسی توازن قائم رکھنا بھی ضروری ہوگا۔

وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعہ کے فصیل سے 80ویں یوم آزادی تقریب میں ملک کو خطاب کیا۔ وہیں اس بار بھی کانگریس صدر ملیکا ارجن کھڑگے، سابق صدر اور ایم پی راہل گاندھی نے شرکت نہیں کی۔