Bharat Express DD Free Dish

Maharashtra government backs down on Hindi: مہاراشٹر کے اسکولوں میں ہندی کو لازمی کرنے کے خلاف سخت مزاحمت کے آگے حکومت نے ٹیکے گھٹنے، واپس لیا فیصلہ

یہ اقدام مہاراشٹر حکومت کی زبان سے متعلق مشاورتی کمیٹی کے ذریعے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس پر اس فیصلے کو منسوخ کرنے کے لیے زور دینے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔

مہاراشٹر کی دیویندر فڑنویس حکومت کو پرائمری کلاسوں کے لیے ہندی کو لازمی کرنے کے چند دن بعد اپوزیشن جماعتوں اور راج ٹھاکرے کی MNS (مہاراشٹرا نو نرمان سینا) کے سخت اعتراضات کے درمیان اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔ این ڈی ٹی وی کی خبر کے مطابق ریاست کے اسکولی تعلیم کے وزیر دادا بھوسے نے آج شام کو کہا ’’ہم نے اس سلسلے میں پہلے جاری کردہ جی آر کے مطابق اسکول میں ہندی کو لازمی قرار دینے کے فیصلے پر روک لگا دی ہے۔‘‘

یہ اقدام مہاراشٹر حکومت کی زبان سے متعلق مشاورتی کمیٹی کے ذریعے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس پر اس فیصلے کو منسوخ کرنے کے لیے زور دینے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف سخت مزاحمت کے بعد یہ فیصلہ متوقع تھا۔ ہندی کو لازمی قرار دینے کے حکومتی حکم کے دو دن بعد ہی سی ایم فڑنویس نے کہا تھا کہ مہاراشٹر میں صرف مراٹھی ہی لازمی ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ہندی اختیاری ہے، لیکن ہندی مہاراشٹر میں لازمی ہے اور ’’اگر کوئی مراٹھی کی مخالفت کرتا ہے، تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘

حکومت کے فیصلے کی ہوئی تھی سخت مخالفت

واضح رہے کہ حکومت کے ذریعے ہندی کو اسکولوں میں لازمی کرنے کے فیصلے کے خلاف بڑے پیمانے پر مزاحمت شروع ہو گئی تھی۔ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے اس کے خلاف اپوزیشن کے اختلاف کی قیادت کی اور کہا کہ ہم اسے کسی قیمت پر بھی برداشت نہیں کریں گے۔ راج ٹھاکرے نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’آپ کا سہ لسانی فارمولا جو بھی ہے، اسے حکومتی امور تک محدود رکھیں، اسے تعلیم تک نہ لائیں۔۔۔نو نرمان سینا مرکزی حکومت کی ہر چیز کے ’ہندی کرن‘ کی موجودہ کوششوں کو اس ریاست میں کامیاب نہیں ہونے دے گی‘‘۔ وہیں کانگریس لیڈر وجے وڈیٹیوار نے بھی ریاستی حکومت سے فوری طور پر نوٹیفکیشن واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندی کو تیسری زبان کے طور پر زبردستی مسلط کرنا ’’مراٹھی کے ساتھ ناانصافی اور مراٹھی بولنے والوں کی شناخت پر حملہ ہے‘‘۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read