اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: سپریم کورٹ میں وقف قانون 2025 سے متعلق آج مسلسل دوسرے دن سماعت ہوئی۔ مرکزی حکومت نے عدالت سے جواب داخل کرنے کے لئے سات دنوں کا وقت مانگا تھا، جسے عدالت نے دے دیا ہے۔ وہیں عدالت نے عبوری حکم دیتے ہوئے وقف کونسل اوروقف بورڈ میں کسی بھی تقرری پرروک لگا دی ہے۔ عدالت میں ہوئی سماعت پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے چیف اسدالدین اویسی کی طرف سے بڑا بیان آیا ہے۔
حیدراآباد کے ایم پی اسدالدین اویسی نے کہا کہ ہم اس ایکٹ کوغیرآئینی مانتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سینٹرل وقف کونسل اوراسٹیٹ وقف بورڈ کی تشکیل نہیں کی جائے گی اوروقف بائی یوزرکوہٹایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے اس دوران یہ بھی کہا کہ وقف امینڈمنٹ ایکٹ کے خلا ف ان کی قانونی لڑائی جاری رہے گی۔ آپ کوبتادیں کہ اویسی کی طرف سے بھی عدالت میں عرضی داخل کرکے ایکٹ کوغیرآئینی قرار دیا گیا ہے۔
جے پی سی میں بھی میں نے ترمیم کی مخالفت کی: اویسی
سپریم کورٹ میں وقف قانون کی سماعت پر اسدالدین اویسی نے کہا کہ وہ اس ایکٹ کوغیرآئینی مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جے پی سی کی بحث کے دوران میں نے حکومت کی طرف سے مجوزہ سبھی ترامیم کی مخالفت کرتے ہوئے ایک رپورٹ دی تھی۔ پارلیمنٹ میں بل پربحث کے دوران میں نے بل کوغیرآئینی بتایا تھا۔ یہ آرٹیکل 14, 15, 25 اور26 کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس ایکٹ کے خلاف ہماری قانونی لڑائی جاری رہے گی۔
#WATCH | On Waqf Act hearing in Supreme Court, AIMIM MP Asaduddin Owaisi says, “We consider this Act unconstitutional. The Court has said that the Central Waqf Council and the State Waqf Council will not be constituted, and ‘Waqf by user’ cannot be deleted. During the… pic.twitter.com/TMYNfCRvOV
— ANI (@ANI) April 17, 2025
وقف قانون سے متعلق سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سالسٹر جنرل کے اس بیان کو ریکارڈ میں لیا کہ مرکزی حکومت 7 دنوں کے اندر جواب داخل کرے گی۔ اس دوران جو پہلے تھا ویسا ہی رہے گا۔ سالسٹرجنرل نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ اگلی سماعت کی تاریخ تک وقف جس میں پہلے سے رجسٹرڈ یا نوٹیفکیشن کے ذریعہ ڈکلیئروقف شامل ہیں، کو نہ تو ڈی نوٹیفائی کیا جائے گا اور نہ ہی کلکٹرکو بدل جائے گا۔
وقف ایکٹ پرآئندہ سماعت 5 مئی کو ہوگی
سپریم کورٹ نے کہا کہ مرکزی حکومت کو 7 دنوں کے اندر جواب داخل کرنا چاہئے۔ وہیں، وقف ایکٹ پراب اگلی سماعت 5 مئی کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ عدالت میں وقف ترمیمی قانون کے خلاف 73 سے زیادہ عرضیاں داخل کی گئی ہیں۔ وہیں، عدالت نے کہا کہ اگلی سماعت پران میں سے 5 عرضیوں کی بنیاد پر ہی سماعت ہوگی۔ باقی عرضیوں کو درخواست کے طور پر سامنے رکھا جاسکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


