جمعیۃ علماء ہند کی میٹنگ میں وقف ایکٹ 2025 پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے زیراہتمام مدنی ہال، دفتر جمعیۃ علماء ہند میں منعقدہ ایک اہم اجلاس میں ممتازماہرین قانون، علمائے کرام، دانشوروں اورسماجی رہنماؤں نے متفقہ طورپروقف ایکٹ 2025 کی متعدد خامیوں کو اجاگرکرتے ہوئے اسے وقف املاک کےلیے خطرہ قراردیا۔ مقررین نے زوردیا کہ وقف کا تحفظ صرف قانونی نہیں بلکہ ایک مذہبی، اخلاقی اورسماجی ذمے داری بھی ہے۔ ماہرین قانون نےاس قانون کوعبادت گاہ ایکٹ 1991کوکمزور وبے اثرکرنے والا بھی بتایا۔
اس موقع پراپنے افتتاحی خطاب میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے تمام مہمانانِ گرامی کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جمعیۃ علماء ہند نے وقف کے تحفظ کے لیے آزادی سے قبل اوربعد میں تاریخی کردارادا کیا ہے۔ 1937 میں شریعت ایپلی کیشن ایکٹ اوربعد ازاں وقف ایکٹ 1954 اور1995 میں جمعیۃ کی سفارشات کوشامل کیا گیا، لیکن موجودہ حکومت کسی بھی دینی اورقانونی ادارے کی رائے کو خاطرمیں نہیں لائی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مسودہ قانون وقف کی روح اور اس کے مقاصد کو مجروح کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ نہ صرف قانونی اورآئینی سطح پراس کی مخالفت کی جائے، بلکہ عوام میں بیداری بھی پیدا کی جائے تاکہ وقف جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
نئے قانون کا ڈھانچہ ڈی ڈی اے جیسا: سید محمود اختر
ماہروقف اورسابق آئی آرایس افسر سید محموداختر نے کہا کہ نئے قانون کا ڈھانچہ دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی جیسا ہے، جس میں شرعی اصولوں کی کوئی جھلک نہیں ہے۔ ایم اقبال اے شیخ سابق رکن، سینٹرل وقف کونسل نے کہا کہ دفعہ 40 اوردفعہ 83 کے ذریعے وقف بورڈ اوروقف جائیدادوں کی قانونی حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ایڈوکیٹ پیرزادہ فرید احمد نظامی سجادہ نشین، درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء نے کہا کہ دفعہ 3 میں پانچ سالہ مسلم کی شرط اور دفعہ 3 ڈی میں آثار قدیمہ کے تحت آنے والی املاک سے وقف حیثیت کی منسوخی جیسے نکات اسلامی اصولوں کے خلاف ہیں۔ افضال محمد صفوی فاروقی نائب سجادہ نشین، درگاہ صفی پورنے کہا کہ قانون میں خانقاہوں و درگاہوں کے انتظام سے متعلق رہنما اصولوں کی عدم موجودگی اور دیہی علاقوں میں عوامی لاعلمی ایک بڑا چیلنج ہے۔ سید محمد علی الحسینی (سجادہ نشین، گیسو درازؒ) نے کہا کہ وقف املاک کی دستاویزات کی فوری تیاری ضروری ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئروکیل ایڈوکیٹ ایم آرشمشاد نے کہا کہ یہ قانون ظاہری طورپرکچھ اورہے، اندرونی طور پرکچھ اورہے، اس لیے ہرانفرادی جائیداد کے تحفظ پر توجہ ضروری ہے۔ ایڈوکیٹ رؤف رحیم نے کہا کہ اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے، انفرادی کوششوں سے خاطرخواہ کامیابی نہیں مل پائے گی۔ انھوں نےنئے قانون کے سلسلے میں ملی بیداری کو خوش آئند بتایا۔
وقف جائیداد کی حیثیت ختم کرنے کی کوشش پراظہارتشویش
ایڈوکیٹ محمد طاہرحکیم گجرا ت نے کہا کہ وقف جائیداد کی حیثیت ختم کرنے کی کوشس قابل تشویش ہے۔ ایم جے اکبر، ریٹائرڈ آئی ایف ایس نے کہا کہ وقف کوختم کرکے ٹرسٹ کلچرکوفروغ دیا جا رہا ہے، جووقف نظام کوسبوتاژکرنے کی سازش ہے۔ تجاویزاورعملی اقدامات پر توجہ دلاتے ہوئے مولانا صدیق اللہ چودھری صدرجمعیۃ، مغربی بنگال نے مشورہ دیا کہ وکلا کی ٹیم تشکیل دے کران کے رابطہ نمبرات شائع کیے جائیں تاکہ عوام اپنے علاقوں کی وقف جائیدادوں کے تحفظ میں ان کی مدد حاصل کرسکیں۔ حاجی محمد ہارون صدر، جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش نے مشوردیا کہ 100 شہروں میں چھوٹے پروگرام کرکے عوامی بیداری پیدا کی جائے۔ حافظ ندیم صدیقی صدر، جمعیۃ مہاراشٹرنے کہا کہ نوجوانوں کی ٹیمیں بنا کر زمینی سطح پر ریکارڈ کی جانچ وتحفظ کا کام کیا جائے بالخصوص بلاک سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پروفیسرنثارانصاری جنرل سکریٹری، جمعیۃ علماء گجرات نے کہا کہ تمام ریاستوں میں سب کمیٹیاں بناکردستاویز سازی کا عمل تیزکیا جائے۔ حافظ پیرخالق صابرجمعیۃ علماء تلنگانہ نے کہا کہ وقف کوسب سے زیادہ نقصان اپنوں سے ہوا ہے، تلنگانہ وآندھرا پردیش میں محض 23,000 ایکڑزمین باقی بچی ہے جبکہ کل جائیداد پچاس ہزارسے زائد ہے۔ مولانا ارشد میرصدرجمعیۃ علماء سورت نے مشورہ دیا کہ وقف کے تحفظ کے لیے بیداری مہم شروع کی جائے۔سیف علی نقوی (ماہرتعلیم)نے مشورہ دیا کہ یوٹیوبرز کا استعمال کرتے ہوئے وقف کے سلسلے میں پیدا کردہ غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے۔ اس موقع پرقانونی امورکے نگراں مولانا نیازاحمد فاروقی نے تفصیلی قانونی نکات پیش کیے۔ ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند، مولانا محمدحکیم الدین قاسمی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



