Bharat Express DD Free Dish

Maulana Mahmood Madani

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود اسعد مدنی نے مجلس عاملہ کے فیصلوں پرر وشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سرکارکی جانب سے یک طرفہ کارروائیوں اورمتعدد معاملات میں انتظامیہ کے جانبدارانہ رویے کے باعث متاثرین کے لیے عدالتی ذرائع سے مؤثرقانونی چارہ جوئی کے مواقع بھی محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ اگرکسی ایک کمیونٹی کے خلاف یک طرفہ کارروائیاں ہوں اورانہیں انتظامی سطح پرسرپرستی حاصل ہوتویہ صورتِ حال انتہائی تشویش ناک ہے۔

مولانا محمود مدنی نے واضح کیا کہ جمعیۃ علماء ہند کے صدرکسی بھی ایسی حقیقی کوشش کی مخالف نہیں ہے، جس کا مقصد جبر، دھوکہ دہی یا جبری تبدیلیٔ مذہب کو روکنا ہو، لیکن مذہبی آزادی کے تحفظ کے نام پربنایا گیا، کوئی قانون خود اسی آزادی کو محدود کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا، نیز اسے ایک مخصوص کمیونٹی کے خلاف سزا کا بھی ہتھیار نہیں بنایا جاسکتا۔

پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اقبال انصاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ جہاں متولی موجود ہیں، وہاں وقف املاک رجسٹریشن اورقانونی کارروائیوں میں سب سے زیادہ مشکلات پیش آ رہی ہیں، اس لیے متولی حضرات کو خاص طورپرذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ حکومت اور عوام کے درمیان تنازعات میں عدالت کوآئینی حدود کے اندررہ کرفیصلہ کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا موجودہ دورمیں یہ کہنا مشکل ہے کہ عدالت انصاف کے مطابق کام کررہی ہے۔

صدرجمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر 40 متاثرین کی جانب سے دائراس عرضی کی سماعت کے دوران جمعیۃ کی طرف سے سینئرایڈوکیٹ کپل سبل نے تفصیلی اورمؤثردلائل پیش کئے، جبکہ سینئر وکلاء حذیفہ احمدی، نظام پاشا، طاہرحکیم اورایڈوکیٹ آن ریکارڈ منصورعلی خاں نے بھی مقدمے کی پیروی کی۔ اس کی سماعت جسٹس پی ایس نرسمبھا اورجسٹس آلوک ارادھے کی بنچ کے سامنے ہوئی۔

دہلی فسادات کو 6 سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود جمعیۃ علماء ہند آج بھی 200 ٹرائل مقدمات میں قانونی پیروی کر رہی ہے، جبکہ جمعیۃ کی قانونی جدوجہد کے نتیجے میں ہنوز 100 سے زائد افراد باعزت بری ہوچکے ہیں۔ ان مقدمات کی نگرانی جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا نیاز احمد فاروقی کی قیادت میں وکلاء کی ایک ٹیم کر رہی ہے۔

مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہمارے پاس تحقیق پر مبنی رپورٹ موجود ہے، جس میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران 38 نمایاں واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں سے 83 فیصد ایسے تھے، جن میں متاثرہ افراد نے عام لباس پہن رکھا تھا اوران کی ظاہری وضع قطع سے کوئی نمایاں اسلامی شناخت ظاہر نہیں ہوتی تھی۔

اسدالدین اویسی، سلمان خورشید اورمحب اللہ ندوی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا ایک ہی اجلاس میں شریک ہونا اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ مختلف مسلم تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت بھی اس اجلاس کی اہمیت کو مزید بڑھا رہی ہے۔ واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں اورمتعدد مسلم تنظیمیں پہلے بھی یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اوربعض کارروائیاں قانون کے دائرے سے ہٹ کر کی جا رہی ہیں۔

وفد نے انتظامیہ کے سامنے متعدد مطالبات بھی پیش کیے، جن میں نانا ورنورا میں مکانات اور دکانوں کے انہدام کی قانونی بنیاد واضح کرنا، سرپنچ کے مبینہ جعلی دستخط کے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیق، نابالغ بچوں سمیت گرفتار افراد کی رہائی، متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری اور مناسب معاوضہ، مساجد، درگاہوں، دینی اداروں اور اوقافی املاک سے متعلق کارروائیوں میں آئین اور سپریم کورٹ کی ہدایات کی مکمل پابندی اور آئندہ کسی بھی انہدامی کارروائی سے قبل مناسب نوٹس اور مؤثر سماعت کو یقینی بنانا شامل ہے۔

جمعیۃ علماء دہرادون کی جانب سے موصولہ اطلاعات کے مطابق واقعہ کے بعد مسلمانوں سے وابستہ گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کو نذرِآتش کیا گیا، گاؤں میں واقع مساجد کو نشانہ بنایا گیا اور خوف کی فضا کے باعث کئی خاندان اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہیں۔  اس سلسلے میں وکاس نگر ایم ایل اے مناسنگھ چوہان کی زہرافشانی نے آگ میں گھی کا کام کیا ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کی پیروی پرعدالت نے پولس محکمہ کوسخت پھٹکار لگائی ہے۔ عیدالاضحی سے قبل اہل خانہ کے لیے بڑی خوشی ملی ہے۔ والد سیفی محمد نے صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کا شکریہ ادا کیا۔