Bharat Express DD Free Dish

Jamiat Ulema-E-Hind

جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کے دو روزہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت حال، اسلاموفوبیا، یوسی سی ، وقف املاک، عالم اسلام وفلسطین اور جمعیۃ کے تنظیمی و تعمیری پروگراموں وغیرہ پر تفصیلی غوروخوض کے بعد اہم تجاویز منظور کی گئیں۔

میمورنڈم میں مسجد اور قبرستان کی موجودہ صورتِ حال پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ مسجد میں نمازیوں کی آمدورفت پرپابندی، پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کیے جانے اور مسجد کے انہدام کے خدشات کے پیشِ نظر ان املاک کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات ناگزیرہیں۔ جمعیۃ علماء ہند نے وزیر اقلیتی امور سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اورمتعلقہ حکام بالخصوص دہلی وقف بورڈ اور نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) سے تفصیلی رپورٹ طلب کریں۔

جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ جن مدارس پر آج الزامات لگائے جا رہے ہیں، انہی مدارس کے علما نے تحریکِ آزادی میں اہم کردارادا کیا، پھانسی کے پھندے قبول کیے، جیلیں کاٹیں اور برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد کی۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند اور اس کے علما کی قربانیوں کوہندوستان کی آزادی کی تاریخ کا روشن باب قرار دیا۔

صدرجمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر 40 متاثرین کی جانب سے دائراس عرضی کی سماعت کے دوران جمعیۃ کی طرف سے سینئرایڈوکیٹ کپل سبل نے تفصیلی اورمؤثردلائل پیش کئے، جبکہ سینئر وکلاء حذیفہ احمدی، نظام پاشا، طاہرحکیم اورایڈوکیٹ آن ریکارڈ منصورعلی خاں نے بھی مقدمے کی پیروی کی۔ اس کی سماعت جسٹس پی ایس نرسمبھا اورجسٹس آلوک ارادھے کی بنچ کے سامنے ہوئی۔

دہلی فسادات کو 6 سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود جمعیۃ علماء ہند آج بھی 200 ٹرائل مقدمات میں قانونی پیروی کر رہی ہے، جبکہ جمعیۃ کی قانونی جدوجہد کے نتیجے میں ہنوز 100 سے زائد افراد باعزت بری ہوچکے ہیں۔ ان مقدمات کی نگرانی جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا نیاز احمد فاروقی کی قیادت میں وکلاء کی ایک ٹیم کر رہی ہے۔

مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہمارے پاس تحقیق پر مبنی رپورٹ موجود ہے، جس میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران 38 نمایاں واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں سے 83 فیصد ایسے تھے، جن میں متاثرہ افراد نے عام لباس پہن رکھا تھا اوران کی ظاہری وضع قطع سے کوئی نمایاں اسلامی شناخت ظاہر نہیں ہوتی تھی۔

وفد نے انتظامیہ کے سامنے متعدد مطالبات بھی پیش کیے، جن میں نانا ورنورا میں مکانات اور دکانوں کے انہدام کی قانونی بنیاد واضح کرنا، سرپنچ کے مبینہ جعلی دستخط کے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیق، نابالغ بچوں سمیت گرفتار افراد کی رہائی، متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری اور مناسب معاوضہ، مساجد، درگاہوں، دینی اداروں اور اوقافی املاک سے متعلق کارروائیوں میں آئین اور سپریم کورٹ کی ہدایات کی مکمل پابندی اور آئندہ کسی بھی انہدامی کارروائی سے قبل مناسب نوٹس اور مؤثر سماعت کو یقینی بنانا شامل ہے۔

جمعیۃ علماء دہرادون کی جانب سے موصولہ اطلاعات کے مطابق واقعہ کے بعد مسلمانوں سے وابستہ گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کو نذرِآتش کیا گیا، گاؤں میں واقع مساجد کو نشانہ بنایا گیا اور خوف کی فضا کے باعث کئی خاندان اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہیں۔  اس سلسلے میں وکاس نگر ایم ایل اے مناسنگھ چوہان کی زہرافشانی نے آگ میں گھی کا کام کیا ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اس فیصلے سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا کہ کسی ثبوت کے بغیر دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کرکے مسلم نوجوانوں کی زندگیوں کو تباہ کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں بھی انصاف کے حصول میں 10 سال لگ گئے۔

موجودہ حالات کے پیش نظر مولانا ارشد مدنی نے یہ مشورہ بھی دیا کہ مسلمان اپنے طورپرمحتاط رویہ اپناتے ہوئے سوشل میڈیا وغیرہ پرقربانی کے جانوروں کی تصویریں وغیرہ شیئر کرنے سے گریز کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ قربانی کرتے وقت حکومتی ہدایات کی پاسداری کی جانی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان ممنوعہ جانوروں کی قربانی نہ کریں اورچونکہ مذہب میں کالے جانور کی قربانی جائز ہے اس لیے کسی بھی فتنے اورتنازع سے بچنے کے لیے ا سی کی قربانی پراکتفا کیا جانا بہترہے۔