Bharat Express DD Free Dish

Jamiat Ulema-E-Hind

سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکرسمیت تمام ملزمین اورقومی تفتتیشی ایجنسی کونوٹس جاری کی گئی۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ انصاف کے لئے جمعیۃعلماء ہند ملک کے نامورکریمنل وکلاء کی خدمات حاصل کریے گی۔

مولانا ارشد مدنی نے اس قانون کو بھارتی آئین پر براہ راست حملہ قرار دیا، جو اقلیتوں کو مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے۔

مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ اسلام ہمیں خدمت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے اور امدادی کام متاثرین کے مکمل خود انحصاری تک جاری رہے گا۔

میوات کے لوگوں نے انسانیت کی نئی مثال پیش کی  ہے۔ سکھ فرقہ کے رہنماؤں نے مولانا ارشد مدنی کی انسانی خدمات کو سراہا۔ جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیۃ کا یہی کردار ہے وہ اپنا ہرکام مذہب سے اوپراٹھ کرمحض انسانیت کی بنیادپر کرتی ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود مدنی کی طرف سے جاری بیان میں لکھا گیا ہے کہ مختلف میڈیا چینلوں نے نیوزایجنسی اے این آئی کے حوالے سے بعض اخبارات میں یہ خبرشائع کی ہے کہ مولانا محمود اسعد مدنی نے اپنے انٹرویومیں کہا ہے کہ ’’گیان واپی مسجد یا متھرا شاہی جامع مسجد کے سلسلے میں دونوں کمیونٹی کے لوگ آپس میں بیٹھ کربات کریں۔‘‘ یہ خبر سراسر بے بنیاد اورغلط ہے۔

 مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر متاثرین کی طرف سے داخل اپیل میں این آئی اے پر ملزمین سے سمجھوتہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ساتھ ہی حصول انصاف کے لئےجدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

مولانا محمود مدنی نے گوالپاڑہ میں بے دخلی کے مقام کا دورہ کیا اور پریس کانفرنس میں کہا کہ جمعیۃ علماء ہند زمین پر ناجائز قبضے کی حمایت نہیں کرتی، مگر حکومت کو سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی و یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہماری لڑائی تجاوزات ہٹانے کے خلاف نہیں ہے، لیکن سپریم کورٹ کی ہدایات کو نظرانداز کر کے لوگوں کو بے گھرکرنا اور قانون کی بجائے دھمکی ،خوف اورطاقت کی زبان استعمال کرنا انصاف اور انسانیت کے خلاف ایک جرم ہے۔

جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کے اس اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشدمدنی نے ملک کے موجودہ سیاسی اورسماجی حالات پرسخت تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے ایک دومسائل ہوں توانہیں بیان کیا جائے، یہاں تو مسائل کا ایک انبارہے، ایک مسئلہ ختم نہیں ہوتاکہ دوسراپیدا کردیا جاتا ہے، ایک تنازعہ ٹھنڈا نہیں ہوتاکہ دوسرا تنازعہ کھڑا کردیا جاتا ہے۔

اتراکھنڈ کی دھامی حکومت کو6 ہفتے کے اندرجواب داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ مدرسوں کو بند کرنے کی مہم، مسلمانوں کو آئینی اختیارسے محروم کردینے کی ایک بڑی سازش ہے۔